’کازان‘ فیسٹیول میں پہلی مرتبہ سندھی فلم کی نمائش

اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2021
فلم میں دو بھائیوں کے کردار کو دکھایا گیا ہے—اسکرین شاٹ
فلم میں دو بھائیوں کے کردار کو دکھایا گیا ہے—اسکرین شاٹ

موذی مرض کینسر میں مبتلا شخص اور اس کے بھائی کے گرد گھومتی کہانی پر بنی سندھی زبان کی فلم ’اے ٹرین کراسز دی ڈیزرٹ‘ کو ’کازان فلم فیسٹیول‘ میں پیش کردیا گیا۔

’اے ٹرین کراسز دی ڈیزرٹ‘ اب تک روس میں ہر سال منعقد ہونے والے اسلامی دنیا کے اہم ترین فلم فیسٹیول ’کازان‘ میں پیش ہونے والی پہلی سندھی زبان کی فلم ہوگئی۔

اسی طرح مذکورہ فلم رواں برس ’کازان‘ میں پیش کی جانے والی واحد پاکستانی فلم بھی بن گئی۔

’اے ٹرین کراسز دی ڈیزرٹ‘ کے ہدایت کار اور لکھاری راہول اعجاز نے انسٹاگرام پوسٹس میں بتایا کہ ان کی فلم کو 17 ویں فلم فیسٹیول میں پیش کیا گیا۔

’کازان فلم فسیٹیول‘ کا انقعاد ستمبر کے آغاز میں کیا گیا تھا جو 13 ستمبر تک جاری رہا اور ’اے ٹرین کراسز دی ڈیزرٹ‘ کو وہاں روسی زبان میں پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سندھی زبان میں بنائی جانے والی مختصر فلم عالمی میلے میں نمائش کیلئے منتخب

’اے ٹرین کراسز دی ڈیزرٹ‘ نامی فلم 20 منٹ دورانیے پر مشتمل ہے اور اس کی کہانی دو بھائیوں کے دکھوں اور مسائل کے گرد گھومتی ہے، جس میں سے ایک بھائی کینسر کے مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔

فلم میں دکھایا گیا ہے کہ کینسر جیسے موذی مرض کا سامنا کرنے والے شخص اپنے بھائی کو التجا کرتے رہتے ہیں کہ وہ انہیں تکالیف سے نجات دلانے کے لیے زندگی سے آزاد کردیں۔

مذکورہ فلم کی کہانی کے حوالے سے فلم ساز نے مختلف ٹی وی چینلز کو بتایا تھا کہ انہوں نے مذکورہ فلم حقیقی واقعات سے متاثر ہوکر بنائی جب کہ کینسر کے مریض کا کردار انہوں نے اپنے کزن کی بیماری کو دیکھ کر بنایا۔

راہول اعجاز نے ’کازان‘ فلم فسیٹیول کے دوران بھی ’اے ٹرین کراسز دی ڈیزرٹ‘ کی کہانی اور تیاری کے حوالے سے بات کی جب کہ انہوں نے فلم فسیٹیول کے ریڈ کارپٹ پر بھی ادائیں دکھائیں۔

’اے ٹرین کراسز دی ڈیزرٹ‘ کو ’کازان‘ سے قبل امریکا، بھارت اور ترکی میں ہونے والے مختلف 6 فلم فیسٹیولز میں بھی پیش کیا جا چکا ہے اور یوں وہ اب تک کی واحد سندھی مختصر فلم ہے جنہیں نصف درجن سے زائد فلم فیسٹیول میں پیش کیا جا چکا ہے۔

راہول اعجاز نے مذکورہ فلم 2019 میں جرمن ادارے ’گوئتے‘ کی فلم فیلوشپ حاصل کرنے کے بعد بنائی تھی اور اس میں اداکار نادر حسین اور طارق راجہ نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں