او آئی سی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو دنیا بھر میں بے نقاب کرے، وزیر خارجہ

اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2021
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں کشمیر کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں— فوٹو: اے پی پی
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں کشمیر کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں— فوٹو: اے پی پی

نیویارک: وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر کے دیرپا حل کے لیے او آئی سی سے مزید اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھارتی انسانیت سوز مظالم کو دنیا بھر میں بے نقاب کرنے کے لیے فعال کردار ادا کرے۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے نیویارک میں او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں کشمیر کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست 2019 سے 80 لاکھ کشمیری بدترین محاصرے، بلاجواز گرفتاریوں اور غیر معمولی قدغنوں کا سامنا کرتے آ رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: سید علی گیلانی، حیدرپورہ میں سخت فوجی محاصرے میں سپردخاک

انہوں نے کہا کہ بھارتی قابض افواج اس جبرو استبداد کے خلاف مظلوم کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے کالے قوانین کا سہارا لے کر ناقابل بیان مظالم ڈھا رہی ہیں جبکہ ہندوتوا اور آر ایس ایس کی سوچ کی حامل بی جے پی سرکار کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کو مٹانے کے لیے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کے درپے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ بھارتی حکومت نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے ڈومیسائل قوانین میں ترامیم کر کے 32 لاکھ جعلی ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کر دیے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارتی مظالم کی تازہ مثال بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی کی میت کے ساتھ روا رکھا جانے والا بدترین سلوک ہے جو یکم ستمبر کو طویل بھارتی نظربندی کے دوران انتقال کر گئے۔

انہوں نے کہا کہ عین اس وقت جب سید علی گیلانی کے اہل خانہ ان کے انتقال پر سوگ کی حالت میں تھے اور ان کی نماز جنازہ کی تیاری میں مصروف تھے، بھارتی قابض افواج نے گھر میں زبردستی گھس کر ان کے جسد خاکی کو چھین لیا اور نہ اسلامی روایات کے مطابق ان کی نماز جنازہ ہونے دی گئی اور نہ ہی انہیں ان کی وصیت کے مطابق 'قبرستان شہیداں' میں تدفین کی اجازت دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے ’مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنگی جرائم’ کا ڈوزیئر جاری کردیا

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارتی حکومت سید علی گیلانی کے طرز عمل سے اس قدر خوفزدہ تھی کہ اس نے انتقال کے بعد بھی ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا۔

انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کی توجہ بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی طرف مبذول کروانے کے لیے حکومت پاکستان نے ٹھوس شواہد پر مبنی 'ڈوزیئر' کا اجرا کیا ہے اور 131 صفحات پر مشتمل ڈوزیئر میں قابض بھارتی افواج کے سینئر افسران کی جانب سے 3 ہزار 432 جنگی جرائم کے حوالے دیے گئے ہیں۔

انہوں نے او آئی سی کے سیکریٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ ڈوزیئر کو تنظیم کے تمام اراکین میں تقسیم کریں اور اسے بڑے پیمانے پر پھیلائیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب تک مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق منصفانہ طریقے سے حل نہیں کیا جاتا اس وقت تک جنوبی ایشیا میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

شاہ محمود قریشی نے باور کرایا کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات پر تیار ہے لیکن اس کے لیے ہندوستان کو ماحول ساز گار بنانا ہو گا اور پانچ اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات واپس لینے ہوں گے۔

مزید پڑھیں: سید علی گیلانی کی تدفین کی ویڈیو وائرل ہونے پر مقبوضہ کشمیر میں غم و غصہ

ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین عرصہ دراز سے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم کے ایجنڈے پر ہیں، او آئی سی کی جانب سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی مسلسل اور غیر متزلزل حمایت قابلِ تحسین ہے جبکہ او آئی سی رابطہ گروپ برائے جموں و کشمیر نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی جانب عالمی توجہ مبذول کروانے کے سلسلے میں گرانقدر خدمات انجام دی ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ آج نہتے کشمیری اپنی نظریں اسلامی تعاون تنظیم اور مسلم امہ کی طرف لگائے بیٹھے ہیں لہٰذا تمام ارکان مسئلہ کشمیر کو جنرل اسمبلی، ہیومن رائٹس کونسل سمیت اقوام متحدہ کے تمام فورمز پر اٹھانے میں ہماری بھرپور معاونت کریں۔

تبصرے (0) بند ہیں