آئی ایم ایف کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات کا انعقاد

اپ ڈیٹ 10 اکتوبر 2021
آئندہ بات چیت میں ٹیکس اور پاور سیکٹراور باقی معاملات کا احاطہ کیا جائے گا—فائل فوٹو: اے ایف پی
آئندہ بات چیت میں ٹیکس اور پاور سیکٹراور باقی معاملات کا احاطہ کیا جائے گا—فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے ایک ’مثبت نوٹ‘ پر تکنیکی سطح پر بات چیت ختم کی اور آئندہ ہفتے سے واشنگٹن میں اعلیٰ سطح پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تا کہ 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کو واپس پٹری پر لایا جائے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کی سربراہی میں پاکستانی وفد کے ساتھ آئندہ ہفتے کے آغاز میں پالیسی سطح کے مذاکرات شروع ہوں گے جس کے لیے وہ منگل کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر رضا باقر سمیت اعلیٰ افسران کے ہمراہ واشنگٹن روانہ ہوں گے۔

وزیر خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم نے ڈان کو تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہفتہ کو آئی ایم ایف کے ساتھ تکنیکی سطح کے مذاکرات اختتام پذیر ہوئے اور اگلا دور واشنگٹن میں آمنے سامنے ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان، آئی ایم ایف کے مذاکرات میں بجلی کے نرخ، ٹیکسز بڑھانے کا معاملہ زیر غور

انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر بات چیت مثبت انداز میں ختم ہوئی اور باقی دو سے تین معاملات واشنگٹن میں حل کیے جائیں گے۔

ایک اعلیٰ حکومتی عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ اگلے 10 روز کی پالیسی سطح کی بات چیت میں ٹیکس اور پاور سیکٹر سے متعلق باقی معاملات کا احاطہ کیا جائے گا، انفرادی سطح کے مسائل پر ہماری بات چیت میں پیش رفت ہوئی ہے اور کچھ شعبوں میں توقع سے بڑھ کر پیش رفت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ آپ واشنگٹن میں ان مذاکرات کے نتائج دیکھیں گے، پالیسی سطح پر ہونے والی بات چیت میں کچھ اور پیش رفت حاصل کی جائے گی تاہم وہ پیش رفت کی سطح کو بیان کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

تکنیکی سطح پر ہونے والی بات چیت میں فنڈ کے عہدیدار سیلز ٹیکس استثنیٰ واپس لینے، جون یا جولائی میں ذاتی انکم ٹیکس کی شرح اور بجلی کے نرخوں میں اضافے سے متعلق مارچ 2021 میں کیے گئے وعدوں پر اسلام آباد کے یو ٹرن سے خوش نہیں تھے۔

مزید پڑھیں: حکومت آئی ایم ایف کی شرائط مانے یا اگلے انتخابات کی تیاری کرے؟

حکومت پیشگی شرائط میں پہلے ہی بجلی کے نرخ بڑھا چکی تھی اور جون، جولائی میں مزید اضافہ کرنے کا وعدہ کیا تھا جس پر عمل نہیں ہوا۔

پاکستان نے بجٹ برائے مالی سال 22-2021 میں چند اقدامات کرتے ہوئے اپنے وعدوں کی جزوی طور پر تعمیل کی جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے سیاسی ردعمل کے خوف کی وجہ سے بجلی کے نرخوں میں اضافے سمیت دیگر اقدامات کو نظر انداز کیا۔

جولائی 2019 میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے معاشی اصلاحاتی پروگرام کی حمایت کے لیے 39 ماہ کے 6 ارب ڈالر کے ای ایف ایف انتظام کی منظوری دی تھی۔

حکومت نے جون 2021 میں آئی ایم ایف پروگرام کو تین ماہ کے لیے روک دیا تھا اور موجودہ ٹیکس دہندگان پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے آمدنی کو کم کرنے کے لیے اپنے مقامی پالیسی اقدامات کو نافذ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری، اصلاحات پر مزید کام کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی وزیر خزانہ نے جون میں فنڈ سے متعلق یقین دلایا تھا کہ آئی ایم ایف کی تجویز کے مطابق اضافی اقدامات کے بغیر اس کے مقرر کردہ تمام اہداف حاصل کیے جائیں گے۔

ان کا خیال تھا کہ ان کی آمدنی پیدا کرنے کی حکمت عملی آئی ایم ایف کی تجویز کردہ حکمت عملی سے بہتر ہے جس نے منافع ادا کیا۔

چنانچہ نتائج فراہم کرتے ہوئے آئی ایم ایف عہدیداروں کو بتایا گیا کہ پہلی سہ ماہی کے لیے محصولات کی وصولی کا ہدف 180 ارب روپے سے تجاوز کر گیا ہے جو بے مثال ہے۔

آئی ایم ایف عام طور پر اچھے اعداد و شمار کی شکل میں نتائج کو قبول کرتا ہے جیسا کہ ماضی میں کیا لیکن اس مرتبہ فنڈ کے عہدیداروں نے محصولات کی وصولی پر سوالات اٹھائے اور اسے درآمدات کا نتیجہ قرار دیا۔

اس کے نتیجے میں آئی ایم ایف کے عہدیداروں نے ایک طرح سے ٹیکس مشینری کی کارکردگی کو بدنام کرنے کے لیے اس کامیابی کے لیے ’ناپائیدار‘ کی اصطلاح استعمال کی۔

ضرور پڑھیں

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی میں اگر امن وامان، دیانت داری، فرض شناسی اور ذمہ داری کا احساس کرنے والی قیادت منتخب ہو جائے تو عوام کو اچھی سڑکیں، اسپتال، اسکول اور پانی تو نصیب ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں