’آئی ایم ایف کے سخت شرائط معاہدہ نہ ہونے سے بہتر ہیں‘

23 اکتوبر 2021
اسٹاک مارکیٹ میں آگے کیا ہوگا اس کا زیادہ تر انحصار ان شرائط پر ہوتا ہے جو آئی ایم ایف پاکستان پر عائد کرے گا، اسٹاک بروکرز - فائل فوٹو:رائٹرز
اسٹاک مارکیٹ میں آگے کیا ہوگا اس کا زیادہ تر انحصار ان شرائط پر ہوتا ہے جو آئی ایم ایف پاکستان پر عائد کرے گا، اسٹاک بروکرز - فائل فوٹو:رائٹرز

کراچی: جہاں حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ رکے ہوئے قرض پروگرام پر بات چیت کر رہی ہے وہیں اسٹاک بروکرز اس کے نتائج کے منتظر دکھائی دے رہے ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کا بینچ مارک انڈیکس کاروباری ہفتے کے آخری روز بہت تھوڑا اضافہ دیکھا گیا کیونکہ معاہدے میں غیر معمولی تاخیر دیکھی گئی ہے جس سے پاکستان کو آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر کے قرض کی قسط حاصل ہونی ہے۔

ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سی ای او محمد سہیل کا کہنا ہے کہ ’بہت زیادہ غیر یقینی صورتحال ہے، اسٹاک مارکیٹ میں آگے کیا ہوگا اس کا زیادہ تر انحصار ان شرائط پر ہوتا ہے جو آئی ایم ایف پاکستان پر عائد کرے گا‘۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں جاری مذاکرات کا ممکنہ نتیجہ ’سخت شرائط کے ساتھ معاہدہ‘ ہوگا، مجموعی مانگ کم ہو جائے گی، مالی سختی ہونے والی ہے، ترقی کا مرحلہ استحکام میں بدل جائے گا جس میں شرح نمو 4 سے 5 فیصد کے مقابلے میں 3.5 سے 4 فیصد ہو گی۔

مزید پڑھیں: شوکت ترین، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ختم کیے بغیر امریکا سے روانہ

تجزیہ کار توقع کر رہے ہیں کہ آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی کے بعد کم از کم بینکاری اور توانائی کے شعبوں میں تیزی دیکھی جائے گی۔

آئی ایم ایف کی دو ممکنہ شرائط میں شرح سود میں اضافہ اور توانائی کے شعبے کے گردشی قرضوں کا حل ہے۔

شرح سود میں اضافہ بینکوں کی آمدنی میں اضافہ کرے گا جبکہ گردشی قرضوں کے حل سے لیکوئڈیٹی آزاد ہوگی اور توانائی کے شعبے میں نقد بہاؤ بہتر ہوجائے گا۔

محمد سہیل کا کہنا تھا کہ ’آٹو سیکٹر سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والا ہے، کاروں کی مانگ کم ہو جائے گی کیونکہ کار ساز درآمد شدہ پرزوں پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کے میکرو اکانومی اور اسٹاک مارکیٹ پر اثرات ناقابل تصور خراب ہوں گے۔

ڈان سے بات کرتے ہوئے اے کے ڈی سیکیورٹیز کے سینیئر انویسٹمنٹ تجزیہ کار شاہ رخ سلیم نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ جلد یا بدیر عمل میں آئے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’خبروں کے سامنے آنے سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ بجٹ میں مختلف شعبوں کو دی گئی مراعات کو واپس لے لیا جائے گا، ایک اچھی بات جو سامنے آئے گی وہ ہماری کرنسی کی فوری مدد ہے، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر بڑھ سکتی ہے‘۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات اب تک بے نتیجہ ثابت

انہوں نے کہا کہ ’جہاں تک اسٹاک مارکیٹ کا تعلق ہے جب ملک آئی ایم ایف پروگرام میں دوبارہ داخل ہوگا تو کوئی بھی شعبہ طویل عرصے کے لیے زیادہ متاثر نہیں ہوگا کیونکہ اس سے شعح تبادلے کی وضاحت سامنے آجائے گی‘۔

فیٹف کا جائزہ

سرمایہ کاروں کے لیے ایک علیحدہ نوٹ میں اے کے ڈی سیکورٹیز کے تجزیہ کار حمزہ کمال نے کہا کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا تازہ ترین جائزہ اسٹاک مارکیٹ کے لیے ’خاص اہمیت‘ کا حامل نہیں ہوگا۔

منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے قائم کی گئی بین الحکومتی تنظیم نے حال ہی میں پاکستان کو ’اضافی نگرانی‘میں رکھنے کا اعلان کیا ہے جسے گرے لسٹ کہا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے جائزے کے بجائے اسٹاک مارکیٹ میں رجحان کی وضاحت آئی ایم ایف کے قرض کو دوبارہ شروع کرنے سے ہوگی۔

تبصرے (0) بند ہیں