حسینہ واجد، پاکستان اور بنگلہ دیش کے مضبوط تجارتی تعلقات کی خواہاں

اپ ڈیٹ 26 اکتوبر 2021
شیخ حسینہ واجد سے پاکستان کے ہائی کمشنر عمران احمد صدیقی کی ڈھاکا میں ملاقات — تصویر: اے پی پی
شیخ حسینہ واجد سے پاکستان کے ہائی کمشنر عمران احمد صدیقی کی ڈھاکا میں ملاقات — تصویر: اے پی پی

بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے اپنی حکومت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مضبوط تجارتی تعلقات اور اقتصادی تعاون کی خواہش کا اعادہ کیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ بات بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران احمد صدیقی سے ڈھاکا میں ملاقات کے دوران کہی۔

دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریقین نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیشی وزیر اعظم کا پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے پر زور

بنگلہ دیشی وزیراعظم اور پاکستانی سفیر کے درمیان تقریباً گیارہ مہینوں میں یہ دوسری ملاقات تھی۔

اس ملاقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک گہرا جمود رہنے کے بعد گرمجوشی آنا شروع ہوئی ہے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب دونوں ممالک نے حسینہ واجد کے پہلے دورہ پاکستان کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔

بنگلہ دیشی وزیراعظم کی جانب سے حال ہی میں پاکستان کو تحریری طور پر وزیراعظم عمران خان کی دعوت قبول کرنے کے حوالے سے آگاہ کیا گیا، جو گزشتہ جولائی میں دی گئی تھی۔

مزید پڑھیں: 'بنگلہ دیش کا جھکاؤ پاکستان اور چین کی جانب بڑھنے لگا'

تاہم سفر کے لیے ابھی تک کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے جبکہ حسینہ واجد نے بھی عمران خان کو بنگلہ دیش کے دورے کی دعوت دی ہے۔

پاکستان نے بنگلہ دیش کو وزیراعظم کے دورے کے لیے روڈ میپ تیار کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ یہ دورہ نتیجہ خیز ثابت ہو۔

مزید برآں اسلام آباد دو طرفہ میکانزم مثلاً سیکریٹریز برائے خارجہ کے مذاکرات کی بحالی کا خواہاں ہے جو تقریباً 13 سالوں سے منعقد نہیں ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات اس وقت خراب ہوئے جب 2009 میں حسینہ واجد کا بطور وزیراعظم دوسرا دور حکومت شروع ہوا تھا کیوں کہ انہوں نے 1971 کے 'جنگی جرائم' کے نام نہاد مقدمے کی سماعت بحال کروائی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی 50ویں سالگرہ: وزیراعظم عمران خان کی حسینہ واجد کو دورے کی دعوت

جنگی قیدیوں کی وطن واپسی کے لیے اپریل 1974 میں طے پانے والے سہ فریقی معاہدے کے پیش نظر پاکستان نے ہمیشہ 1971 میں ملک کی تقسیم کو ایک بند باب سمجھا ہے۔

تاہم گزشتہ برس تعلقات بہتر ہونا شروع ہوگئے تھے، پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں پیش رفت اس پس منظر میں سامنے آئی جب گزشتہ سال بھارت کی جانب سے متنازع شہریت ترمیمی ایکٹ کے نفاذ کے بعد دہلی-ڈھاکا تعلقات میں سرد مہری آنا شروع ہوئی تھی۔

مزید یہ کہ ڈھاکا میں بڑھتا ہوا چینی اثر و رسوخ بھی پاکستان اور بنگلہ دیش کو قریب لایا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں