2022ء میں ہم کیا کچھ دیکھنے والے ہیں؟

اپ ڈیٹ 04 جنوری 2022
لکھاری پاکستان کی سابق سفیر برائے امریکا، برطانیہ اور اقوام متحدہ ہیں۔
لکھاری پاکستان کی سابق سفیر برائے امریکا، برطانیہ اور اقوام متحدہ ہیں۔

سالِ نو کا آغاز ایسا وقت ہوتا ہے جس میں ہم آئندہ سال میں اہم عالمی رجحانات اور خدشات کا تعین کرنے کے ساتھ یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کون سی نئی جیوپولیٹکل تبدیلی رونما ہوسکتی ہے۔ کون سے نئے چیلنج سر اٹھا سکتے ہیں اور کن چیلنجوں سے جلدی جان چھڑانا آسان نہیں ہوگا؟

پوری دنیا میں کئی تھنک ٹینکس سمیت بین الاقوامی اشاعتی ادارے اور سرمایہ کار ادارے اسی طرح کے جائزوں پر کام کرتے ہیں۔

گزشتہ 2 برسوں سے دنیا پر غالب کورونا وائرس کی وبا 2022ء میں بھی ایک بڑا چیلنج کا باعث بنی رہے گی۔ اس عالمی وبا کا نیا سلسلہ اومیکرون کی صورت میں 2021ء کے آخر میں شروع ہوا جس نے ہماری اس امید پر پانی پھیر دیا کہ ہم ویکسینیشن کی مہمات سے وائرس کو ہرادیں گے۔

سال کی ابتدا کے ساتھ دنیا نے خود کو ایک اور لہر اور مختلف ویریئنٹس کا مقابلہ کرنے والے ٹیکوں کے لیے کمر کس لی ہے۔ یورپ اور امریکا کو 'کیسوں کی سونامی' کا سامنا ہے جبکہ یہ خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں کہ نئی لہر ایشیا کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

2022ء میں دنیا کے مختلف ممالک کو کورونا وائرس کے سبب پیدا ہونے والے کثیر الجہت مسائل اور سب سے بڑھ کر معیشت پر پڑنے والے اثرات بالخصوص دنیا میں اقتصادی شرح پیداوار کی سُست روی اور مہنگائی میں اضافے کے باعث جمودی افراط زر (stagflation) سے نمٹنا ہوگا۔

عالمی سپلائی چین میں رکاوٹیں قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رکھ سکتی ہیں۔ زیادہ تر جائزوں میں مہنگائی کو ایک اہم رجحان کے طور پر دیکھا گیا ہے جس کی وجہ سے اقتصادی بحالی خطرے میں پڑجائے گی۔

اس کے علاوہ ویکسین پر جیوپولیٹکس کے ساتھ ویکسین سفارت کاری اور امیر اور ترقی پذیر ممالک میں ویکسینیشن تک غیر مساوی رسائی کی ناخوشگوار حقیقت جوں کی توں رہے گی۔

گزشتہ سال کا سبق بڑی حد تک بھلا دیا گیا ہے جو کچھ یوں تھا کہ جب تک ہر ایک محفوظ نہیں ہوگا تب تک کوئی بھی محفوظ نہیں ہوگا۔ تاہم ویکسینیشن میں تفریقات نہ مٹ سکیں، یہاں تک کہ عالمی ادارہ برائے صحت کے سربراہ کو دوبارہ 'عالمی سطح پر ویکسین کے معاملے پر جاری عدم مساوات' کی روش کے خاتمہ کا مطالبہ کرنا پڑگیا۔

اکانوسمٹ کی اشاعت 'ورلڈ اہیڈ 2022ء' کے ایڈیٹر ٹام اسٹینڈیج نے اینٹی وائرل گولیوں، پہلے سے بہتر ٹیکوں اور اینٹی باڈی سے علاج کے طریقوں کے نتیجے میں عالمی وبا سے نمٹنے کا حل بتایا جو اس سال کے اوّل 10 رجحانات میں شامل کیا گیا ہے۔ مگر انہوں نے جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ قابلِ غور ہے، ان کے مطابق اگرچہ امیر ممالک تو خود کورونا سے جان چھڑالیں گے مگر ترقی پذیر ممالک میں یہ وائرس مہلک بنا رہے گا۔

کورونا کی وبا کے دوران عالمی یکجہتی کا فقدان وہ دوسرا رجحان ہے جو اس سال بھی کئی علاقوں میں برقرار رہے گا۔ دنیا کی بڑی طاقتوں کی جانب سے کثیرالملکی اشتراک اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کے دعوؤں کے باوجود حقیقی دنیا میں تعاون سے زیادہ مسابقت کی سوچ غالب رہی ہے۔ ممالک کے درمیان مقامی مسائل میں زیادہ دلچسپی عالمی تعاون کو مزید کمزور کرے گی۔

لندن میں قائم انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹیڈیز کے سالانہ اسٹریٹجک سروے میں مختلف اہم شعبوں میں تعاون کے فقدان کو اوّلین رجحان کے طور پر شامل کیا گیا ہے جو پہلے ہی واضح طور پر نظر آرہا ہے۔ تاہم اس میں چند نئے START معاہدے اور (موسمیاتی تبدیلی پر) COP26 سمیت چند باہمی تعاون کے کامیاب تجربوں کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے۔ مگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو دنیا میں غالب وہی سوچ ہے جو دنیا کو بانٹنے کا کام کر رہی ہے۔

اسی طرح فنانشل ٹائمز نے بھی حالیہ اداریے میں بین الاقوامی ہم آہنگی اور تعاون کی سنگین ناکامیوں کو عالمی وبا کے تناظر میں ایک خطرے کے طور پر بیان کیا تھا۔ مگر اس بات کا اطلاق بھی بڑی حد تک اس دنیا پر ہوتا ہے جہاں اسٹریٹجک فیصلے بڑی طاقتوں کے درمیان تناؤ کو دیکھتے ہوئے کیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف طاقتوں کے درمیان تناؤ بھرے حالات گھٹنے کے بجائے مزید شدت اختیار کرچکے ہیں اور یہ رجحان آئندہ سال بھی جاری رہ سکتا ہے۔ مشرق و مغرب کے مابین تناؤ سے منتشر بین الاقوامی نظام میں مزید انتشار پیدا ہوگا۔

دنیا کے جن دو ممالک کے تعلقات کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں وہ امریکا اور چین ہیں۔ 2022ء میں ان دو ملکوں کے درمیان تعلقات جیوپولیٹکس کے معاملے میں سب سے اہم کردار ادا کریں گے۔ اگر اعلیٰ سطح پر دو طرفہ رابطوں کی کوششوں کے باوجود تائیوان کے معاملے پر تناؤ بے قابو ہوگیا تو یہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازع خطرناک صورت اختیار کرسکتا ہے۔

زیادہ تر جائزوں میں ٹیکنالوجی کے میدان میں لڑی جانے والی جنگ کے باعث ڈیجیٹل دنیا میں بڑھتی ہوئی تقسیم کے ساتھ ان دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کو سب سے بڑے رسک کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ یوریشیا گروپ کے سربراہ ایان بریمر کے مطابق 'ان دونوں کی مسابقت کا ایک نتیجہ ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی درپے طاقتوں کے ساتھ دنیا بھی تقسیم ہوجائے گی کہ جس میں دنیا کی قومیں تجارتی لحاظ سے یا تو چین کے ساتھ کھڑی ہوں گی یا پھر امریکا کے ساتھ'۔

دراصل اس سال کا سب سے اہم سوال ہی یہ ہوسکتا ہے کہ کیا دنیا کے وہ متعدد ممالک جو ان دونوں طاقتوں میں سے کسی ایک کے ساتھ کھڑا نہیں ہونا چاہتے کیا وہ مجبوراً صف بندیوں کا حصہ بنیں گے یا نہیں۔

ایک کمزور جیوپولیٹکل نظام کے رجحان کی پیش گوئی برطانیہ میں قائم کنٹرول رسک نامی ایک کنسلٹنسی گروپ نے کی ہے۔ اس پیش گوئی کا سبب دنیا پر غالب ایک ایسی عالمی طاقت کی غیر موجودگی ہے جو عالمی تجارت اور بین لااقوامی سیکیورٹی سے جڑی شرائط و ضوابط کا تعین کرتی ہے۔ یہ خلا دراصل امریکا کی اپنے مقامی معاملات میں پسپائی اور اپنا رخ مزید مشرق کی طرف کردینے کے باعث پیدا ہوا کہ جس کا اندازہ اس کے افغانستان سے انخلا سے ہوجاتا ہے۔

اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا ہے کہ خطے یا ریاست کی داخلی سطح پر تنازعات پھوٹنے یا شدت اختیار کرنے لگے ہیں۔ مثلاً آئی آئی ایس ایس (IISS) کا سروے ایتھوپیا کے داخلی تنازع کو اس رجحان کے ایک مظہر کے طور پر دیکھتا ہے۔ دیگر لوگ دیرپا علاقائی فلیش پوائنٹس کو بین الاقوامی استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں حتیٰ کہ بگ ٹیک (Big Tech) بھی اپنی اجارادارانہ عوامل اور نقصاندہ مواد کی وجہ سے کڑے جائزے سے گزرے گا۔ وال اسٹریٹ جرنل نے اسے گزشتہ برس ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والے اہم واقعات میں سے ایک شمار کیا ہے جو مستقبل کا نقشہ کھینچیں گے۔

اکانومسٹ نے اسے ٹیک لیش (Techlash) کا نام دیا ہے۔ اس کے باوجود عالمی وبا کے دوران ڈیجیٹل دنیا لوگوں کی زندگیوں میں اس قدر رچ بس گئی ہے کہ اس کے اثرات لوگوں کے کام، رابطے، تفریح اور خریداری پر نمایاں طور پر نظر آتے رہیں گے۔

اس کے علاوہ دنیا کے مختلف حصوں میں شدت اختیار کرتا انسانی بحران وہ دوسرا رجحان ہے جسے اقوامِ متحدہ کے اداروں کے علاوہ مختلف جائزوں میں نمایاں جگہ دی گئی ہے۔ تنازعات، عالمی وبا اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث انسانی ضروریات اس سال ریکارڈ سطح تک پہنچ سکتی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ریلیف ادارے او سی ایچ اے (OCHA) نے پوری دنیا میں جان لیوا خطرات میں گھرے 18 کروڑ 30 لاکھ افراد کی مدد کے لیے 41 ارب ڈالر کی خطیر رقم اکٹھا کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ ان میں افغانستان کی بدتر صورتحال سب سے نمایاں ہے، جو کہ انسانی امداد کو بڑھانے کے لیے اٹھائے گئے عالمی اقدامات کے باوجود بد سے بدتر ہوتی چلی جا رہی ہے۔

انسانی تباہ کاری کے جیوپولیٹیکل منظرنامے پر سنگین اثرات واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ واشنگٹن میں واقع ایٹلانٹک کونسل کے مرتب کردہ ٹاپ 12 خطرات کی فہرست میں افغانستان میں اس ریاستی ناکامی کے خطرے کو بھی شامل کیا گیا ہے جو دنیا کے لیے بدترین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔

2022ء کے ممکنہ رجحانات کو دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ دنیا میں یہ سال بھی سکھ بھرا ثابت نہیں ہوگا اور غیر یقینی کی صورتحال قائم رہے گی جس میں یکے بعد دیگرے چیلنج حکومتوں کا ایک ایسے وقت میں امتحان لیں گے جب بین الاقوامی یکجہتی اور قیادت کا فقدان ہوگا۔


یہ مضمون 3 جنوری 2022ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

تبصرے (0) بند ہیں