چیئرمین کی مرضی کے بغیر نیب گرفتاری نہیں کرسکتا، سپریم کورٹ

16 اپريل 2022
موجودہ کیس میں محمد ابراہیم نے 23 نومبر 2017 کے ایس ایچ سی کے حکم کے خلاف اپیل کرنے کی اجازت مانگی تھی—فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
موجودہ کیس میں محمد ابراہیم نے 23 نومبر 2017 کے ایس ایچ سی کے حکم کے خلاف اپیل کرنے کی اجازت مانگی تھی—فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین یا افسران کی جانب سے احتساب عدالت میں محض بدعنوانی کا ریفرنس دائر کرنے سے ملزم کو گرفتار کرنے کی اجازت نہیں ہوتی جب تک کہ بیورو کے چیئرمین یا کسی مجاز افسر کی طرف سے واضح طور پر اس کی اجازت نہ دی گئی ہو۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس سید منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ ’گرفتاری کی اجازت کا اظہار ہونا چاہیے اور اجازت معقول بنیادوں پر ہونی چاہیے۔‘

وہ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3ججز پر مشتمل بینچ کے رکن تھے، جس نے محمد ابراہیم کی 23 نومبر 2017 کو سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کیے جانے کے خلاف اپیل کی سماعت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ٹھوس شواہد کے بغیر گرفتاری حقِ عزت کو مجروح کرتی ہے، سپریم کورٹ

جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے تصنیف کردہ فیصلے میں خاص طور پر نوٹ کیا گیا کہ نیب پراسیکیوٹر درخواست گزار کو گرفتار کرنے کے لیے نیب کے چیئرمین یا کسی با اختیار افسر سے اجازت نہیں لے سکتا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قومی احتساب آرڈیننس (این اے او) کے سیکشن 24 (اے) کے تحت نیب کے چیئرمین کو کسی بھی مرحلے پر انکوائری یا تفتیش کے ملزم کی گرفتاری کا حکم دینے کا اختیار ہے۔

حکم نامے کے مطابق اسی طرح اسی شق کے تحت گرفتاری کرنے والے افسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ مشتبہ شخص کو ان بنیادوں اور مواد کے بارے میں بتائے جس کی بنیاد پر اسے گرفتار کیا جا رہا ہو۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قومی احتساب آرڈیننس مینڈیٹ کے سیکشن 18ای کے تحت کسی بھی شخص کو چیئرمین یا نیب کے کسی افسر کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: سرمایہ کاری فراڈ میں ملوث ملزم کو نیب قانون کے تحت سزا دی جا سکتی ہے، سپریم کورٹ

حکم نامے کے مطابق ان دفعات کا اجتماعی مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملزم کو گرفتار کرنے سے پہلے نیب کے چیئرمین یا نیب کے کسی بھی افسر کی اجازت ان کی طرف سے مجاز تفتیشی افسر کو حاصل کرنی چاہیے اور اس کے لیے معقول بنیاد اور مواد ہونا چاہیے جس کی بنیاد پر گرفتاری کی اجازت دی جائے۔

سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جسٹس مشیر عالم نے جنوری 2020 میں ایک کیس کی سماعت کرتے ہوئے تعجب کا اظہار کیا تھا کہ نیب کو مشتبہ افراد کے خلاف شواہد تلاش کرنے سے پہلے ملزمان کو جیل کیوں بھیجنا پڑا اور بیورو ملزمان کو حراست میں لینے سے پہلے شواہد اکٹھے اور ریفرنس کیوں تیار نہیں کر سکا۔

موجودہ کیس میں محمد ابراہیم نے 23 نومبر 2017 کے ایس ایچ سی کے حکم کے خلاف اپیل کرنے کی اجازت مانگی تھی جس نے ان کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

تبصرے (0) بند ہیں