آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہی سیاسی بحران کا واحد حل ہیں، حمزہ شہباز

اپ ڈیٹ 07 مئ 2022
حمزہ شہباز نے کہا کہ میں پرامید ہوں کہ ان تمام چیلنجز کے باوجود خدا راہ ہموار کرے گا—فوٹو : ڈان نیوز
حمزہ شہباز نے کہا کہ میں پرامید ہوں کہ ان تمام چیلنجز کے باوجود خدا راہ ہموار کرے گا—فوٹو : ڈان نیوز

وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو ملک میں سیاسی بحران کا واحد حل قرار دیتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) سیاسی میدان میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت معیشت اور گورننس کے حوالے سے کئی چیلنجز کا سامنا ہے، گزشتہ 4 برسوں میں پی ٹی آئی نے جھوٹ کے سوا کچھ نہیں کیا، عمران خان نے نیا پاکستان کا وعدہ کبھی پورا نہیں کیا اور اس کے بجائے پرانے پاکستان کو تباہ کر دیا۔

حمزہ شہباز نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ لہٰذا اب وفاقی اور صوبائی حکمتوں نے پرانے پاکستان کو بحال کرنے کا سفر شروع کر دیا ہے جہاں ترقی کی شرح 5.8 فیصد تھی، مزدوروں کو وقت پر تنخواہ ملتی تھی اور اشیائے ضروریہ دستیاب تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: حمزہ شہباز کی حلف برداری، عدالت کا گورنر پنجاب کو کل تک اقدامات مکمل کرنے کا حکم

انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے اور ایسے اقدامات کریں گے جو عوام کے لیے فائدہ مند ہوں گے اور مجھے یقین ہے کہ آنے والے دور میں جب بھی انتخابی اصلاحات مکمل ہوں گی، اس وقت آزادانہ اور منصفانہ انتخابات ہی ملک کے بحران کا واحد حل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں پرامید ہوں کہ ان تمام چیلنجز کے باوجود خدا راہ ہموار کرے گا اور ان شا اللہ ہم اس ملک کو قائداعظم کا پاکستان بنائیں گے، انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ (ن) میدان میں اتر کر عمران خان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔

حمزہ شہباز نے سابق وزیراعظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’لیکن چند لوگ ملک میں خانہ جنگی شروع کرنا چاہتے ہیں‘۔

مزید پڑھیں: حمزہ شہباز پنجاب کے 21 ویں وزیراعلیٰ بن گئے

انہوں نے تحریک عدم اعتماد کے معاملے پر قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے فیصلے اور وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ’میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ عمران خان ایک ایسا شخص ہے جس نے پاکستان کے آئین کو نقصان پہنچانے اور قانون کو پامال کرنے کے لیے خودکش جیکٹ پہن رکھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کے برعکس ہم انتقام کی سیاست پر یقین نہیں رکھتے لیکن ہم عمران کو اس بات کے لیے معاف نہیں کریں گے کہ اس کی وجہ سے لوگوں کو چینی، گندم اور دوائیوں کے لیے قطاروں میں کھڑا ہو کر انتظار کرنا پڑ رہا ہے، ہم یہ حقیقت سامنے لائیں گے کہ اس نے کس طرح عوام کی جیبوں پر ڈاکا مارا اور اسے اس حرکت کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں