پاکستان کو درپیش وہ مسائل جن کا پہلے کبھی سامنا نہ ہوا

11 مئ 2022
لکھاری پاکستان کی سابق سفیر برائے امریکا، برطانیہ، اقوام متحدہ ہیں۔
لکھاری پاکستان کی سابق سفیر برائے امریکا، برطانیہ، اقوام متحدہ ہیں۔

پاکستان کو درپیش مسائل سے متعلق تو سب ہی آگاہ ہیں، مگر اس میں کچھ نئے مسائل کا بھی اضافہ ہوا ہے جس نے ہمارے سیاسی ماحول کو اگر آتش زدہ نہیں کیا تو کم از کم مشکلات میں بے پناہ اضافہ ضرور کردیا ہے۔

اگر اہم ترین یا بڑے مسائل کا ذکر کریں تو اس میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری محاز آرائی اور خراب ہوتی معاشی صورتحال ہے، جس کے سبب سیاسی ہم آہنگی ایک خواب ہی رہ گئی ہے۔ یہ ہم آہنگی معاشی اور سیاسی استحکام کے لیے ناگزیر ہے اور صورتحال میں تبدیلی نہ آنے کی وجہ سے یہ حالات شاید ایسے ہی رہیں۔

جو نئے مسائل سامنے آئے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے لگتا نہیں کہ ان سے جلد جان چھوٹ سکے گی، اور ان کی نوعیت بھی کافی مختلف ہے۔ اس میں سب سے اہم ترین تو سیاسی تفریق ہے اور پورے ملک میں یہ موجود ہے۔ اگرچہ سیاسی تفریق پہلے بھی موجود تھی، مگر جو حالات اب ہوچکے ہیں اس کی نظیر نہیں ملتی۔

مزید پڑھیے: 'یہاں پگڑی اچھلتی ہے، اسے میخانہ کہتے ہیں'

اس تفریق کا یہ عالم ہے کہ لوگ، معاشرہ حتیٰ کہ گھروں میں بھی لوگوں نے سخت گیر راہ اپنا لی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پاپولسٹ سیاست نے ملک میں ایسا ماحول بنالیا ہے کہ یا تو آپ ان کے ساتھ ہیں یا ان کے خلاف، اور اسی بیانیے نے جنگی ماحول جیسی صورتحال اختیار کرلی ہے۔ جو مخالف ہیں انہیں کرپٹ، ملک دشمن اور غیر ملکی آلہ کار قرار دے دیا جاتا ہے۔ غیر ملکی سازش کے بیانیے کو اس جماعت کے ماننے والوں نے ہاتھوں ہاتھ لیا خاص کر شہروں میں رہنے والے نوجوانوں نے یہاں تک کہ انہوں نے حقائق کو بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ اس بیانیے نے مخالفین کو ان کی نگاہوں سے مزید گرا دیا۔ اس جماعت کے لیڈران کی جانب سے پروان چڑھنے والی غیر ملکی قوم پرستی ملک میں مزید تقسیم کا بیج بو رہی ہے۔

اس تفریق اور بیانیے نے ایسا ماحول بنالیا ہے کہ ملک میں سخت گیر سیاسی ماحول ہی چلے گا جس میں مخالفین کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ اس ماحول میں نہ ہی ایک دوسرے کی بات سننے کی گنجائش ہے اور نہ ہی معاملات کو حل کرنے یا سلجھانے کا کوئی امکان، اور اس شدید تفریق کی موجودگی میں سیاسی نظام کا چلنا ناممکن ہے۔

یہ بات ٹھیک ہے کہ دنیا کے دیگر حصوں میں بھی عدم برداشت کی حامی سیاسی قوتوں کی وجہ سے جمہوریت مسائل کا شکار ہے، لیکن یہ صرف اس بات کی گواہی ہے کہ عوامی حمایت کے حصول کے لیے ایک لیڈر بڑھتے عدم برداشت اور سیاست میں حدود و قیود کو ایک طرف رکھتے ہوئے کس طرح جموریت روایات کے لیے کمزور عزائم رکھتا ہے۔

جمہوریت کی کامیابی کے لیے چند اجزا کی اشد ضرورت ہوتی ہے جیسے رواداری، اتفاق رائے اور دوسروں کی آرا اور ان کے خیالات کو اہمیت دینا، لیکن جب ان سب پر پابندی لگادی جائے تو درحقیقت یہ جمہوریت کے غیر فعال ہونے کا اعلان ہے، اور آج پاکستان کو اسی خطرے کا سامنا ہے۔

ملک میں بڑھتی یہ سیاسی تفریق بتاتی ہے کہ کس طرح سیاسی مباحث اور گفتگو میں زہر کو بھرا گیا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے لیڈران کی گفتگو اور ان کی جانب سے پیش کیے جانے والے بیانیے بتاتے ہیں کہ کس تیزی سے ہماری سیاست سے تہذیب کے بنیادی اصول ختم ہوچکے ہیں۔

پاکستان میں یقیناً سیاست کبھی بھی مہذب یا نرم گو نہیں رہی ہے۔ 90ء کی دہائی میں سیاسی ناموں سے پکارا جانا، کردار کشی کرنا، ملک سے باغی قرار دینا اور سیاسی رہنماوں کو سیکیورٹی رسک قرار دینا عام تھا، مگر ان تمام تر خرابیوں کے باوجود یہ کہنا مشکل نہیں کہ آج کا سیاسی ماحول ماضی سے بھی زیادہ خراب ہوچکا ہے۔

اشتعال انگیز خیالات اور بیانات جو مسلسل سچ کا ٹیسٹ پاس کرنے میں ناکام ثابت ہورہے ہیں، لیکن پھر نہ اس کے بولنے میں کوئی وقفہ ہے اور نہ ہی اس کے نتائج سے متعلق کوئی خوف۔ اسی طرح مخالفین کو بُرا بھلا کہنا یا گالی دینا اس بات کی گواہی ہے کہ کسی دوسرے کی توہین کرنا سیاسی ہتھیار بن چکا ہے۔ اس عادت نے ایسی ثقافت کو جنم دیا ہے جہاں طیش دلانے والے الزامات اور روایت شکن رویے عام ہوتے جارہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں اس سیاسی تفریق کو بڑھانے میں سوشل میڈیا نے اہم کردار ادا کیا ہے، اور ہمیں ایک بار پھر یہ کہنا پڑے گا کہ ایسا تقریباً پوری دنیا میں ہی ہورہا ہے۔

اپنے مفاد کو حاصل کرنے والی سیاسی قیادت اور اس کے ماننے والوں نے حقائق کو اپنے حق میں کرنے کی خاطر گمراہ کن معلومات کا سہارا لیا اور اس کے پرچار کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا بھرپور استعمال کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاسی فوائد حاصل کیے جاسکیں۔ یعنی موجودہ دور میں سوشل میڈیا سیاسی جنگ کے لیے نیا میدان بن چکا ہے جس کا اہم ترین مقصد مخالفین کو بدنام کرنا اور ان سے متعلق سنسنی خیز انکشافات کرنا ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستانی سیاست میں گالم گلوچ کا کلچر

گزشتہ کچھ ہفتوں کی بات کریں تو سابق حکمران جماعت کے حمایتی افراد کی جانب سے نہ صرف اتحادی جماعت بلکہ ملکی افواج اور عدلیہ کے خلاف بھی گھٹیا مہمات چلائی گئیں۔ اس پوری مہم میں ہر اس فرد پر غداری اور ملک دشمنی کا الزام لگادیا گیا جس نے ان کی پارٹی کی حمایت نہیں کی۔

ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں شناخت کو چھپانے سے یہ فائدہ ضرور مل جاتا ہے کہ پارٹی سے وابستہ افراد ایسے تمام افراد سے لاتعلقی کا اعلان کرسکتے ہیں اور انہیں کسی بھی قسم کا خوف نہیں رہتا، اور اسی وجہ سے ان پلیٹ فارمز پر غلط معلومات کا ایک طوفان رہتا ہے۔ غیر ملکی سازش یا امپورٹڈ حکومت نامنظور کا بیانیہ ٹوئٹر پر گزشتہ کئی ہفتوں سے ٹاپ ٹرینڈ بنے ہوئے ہیں، حالانکہ اب تک اس حوالے سے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔

معصوم ذہنوں پر اثر انداز ہونے کے علاوہ سوشل میڈیا کی حیران کن طاقت حقائق سے ماورا ماحول میں قوم پرستی کے جذبات کو بڑھاوا دیتے ہوئے خوف کو جنم دیتی ہے۔ تفریق کو مزید بڑھانے کے لیے ان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے دوسروں کو غدار قرار دینے کا سلسلہ جاری رہتا ہے، لیکن اس عمل کے ناصرف خطرناک نتائج برآمد ہوسکتے ہیں بلکہ یہ سیاسی نظام کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اس صورتحال میں ایک اور مسئلہ یہ درپیش ہوگیا ہے کہ اداروں کی بے توقیری عام بات ہوگئی ہے پھر چاہے وہ عدلیہ ہو، پارلیمان ہو یا الیکشن کمیشن، یعنی جو بھی ادارہ ان کی مرضی کا فیصلہ نہیں دے گا، تو ان کی بے عزتی کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، اور ان حرکتوں کی وجہ سے گھٹیا پن کھل کر سامنے آتا ہے جبکہ معاشرہ مزید تقسیم کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہ سب کچھ اب اتنے بڑے پیمانے پر ہورہا ہے جس کا مشاہدہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے سپریم کورٹ کے ججوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اس سے پہلے چیف الیکشن کمیشنر کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جاچکا ہے۔ جب قیادت کی جانب سے یہ مؤقف اختیار کرلیا گیا تو یقینی طور پر جماعت کے حامیوں کے لیے بھی ادارے غیر معتبر اور ان کے فیصلے ناقابلِ قبول ہوگئے۔ اس رجحان کا سب سے خطرناک نتیجہ یہ نکلے گا کہ جن سیاسی مسائل کے حل اداروں کے ذریعے نکلتے تھے، اب ان کو بھی شاید نہ مانا جائے۔

قوانین کے مطابق کھیلنے سے انکار سیاسی نظام کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کافی ہے۔ پھر یہ عوامی انتشار اور غیر یقینی کی صورتحال کا سبب بھی بن سکتا ہے اور اس طرح کے حالات بھی جمہوری نظام کے لیے کسی خطرے سے کم نہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم آج اسی راستے کی جانب گامزن ہیں۔

ہم نے دنیا کے کئی حصوں اور اپنے پڑوس میں بھی یہ دیکھا ہے کہ اقتدار کے خواہشمند لیڈران ملک کے آئین، اس کے اداروں اور جمہوری روایات کو پامال کرچکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی کمزور جمہوریت ایسے حالات میں خود کو سنبھال سکتی ہے جب سماجی ہم آہنگی تقریباً ناپید ہوچکی ہے۔


یہ مضمون 04 اپریل 2022ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

تبصرے (0) بند ہیں