بلوچستان: ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیرکوہ میں آلودہ پانی کے استعمال سے 4 افراد جاں بحق

12 مئ 2022
پیرکوہ میں آلودہ پانی کے استعمال سے اب تک 1500 افراد جاں بحق ہوئے—فائل/فوٹو: پی سی آر ڈبلیو آر
پیرکوہ میں آلودہ پانی کے استعمال سے اب تک 1500 افراد جاں بحق ہوئے—فائل/فوٹو: پی سی آر ڈبلیو آر

بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی کی تحصیل پیرکوہ میں پینے کے صاف پانی کی عدام دستیابی کے باعث ہیضے کی وبا پھیل گئی اور آلودہ پانی کے استعمال سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔

ڈان ڈاٹ کام کو ڈیرہ بگٹی کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر (ڈی ایچ او) ڈاکٹر اعظم بگٹی نے بتایا کہ ڈیرہ بگٹی کی تحصیل پیرکوہ میں آلودہ پانی پینے سے دو سالہ بچہ اور ایک خاتون سمیت 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کی خشک سالی سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ پیرکوہ میں ہیضے کا پہلا کیس 17 اپریل کو رپورٹ ہوا تھا، جس کے بعد اب تک 1500 افراد اس وبا کا شکار ہو چکے ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں 123 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر اعظم بگٹی نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈاکوارٹر ہسپتال میں مریضوں کی تعداد اتنی بڑھ چکی ہے کہ طبی عملہ مریضوں کو فرش پر لیٹا کر علاج کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صحت مرکز میں ادویات بھی ختم ہوتی جارہی ہیں۔

قبل ازیں سینیٹر سرفراز بگٹی نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو سے درخواست کی تھی کہ پیرکوہ میں متعلقہ حکام کو ہنگامی بنیاد پر اقدامات کرنے کی ہدایت کریں۔

شہریوں کے مطابق محکمہ پبلک ہیلتھ انجینیئرنگ (پی ایچ ای) کی صاف پانی کی لائین موجود نہیں، جس کی وجہ سے عوام جوہڑ اور تالابوں کا آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔

حکومت بلوچستان کی ویب سائٹ کے مطابق پی ایچ ای ایک سرکاری ادارہ ہے، جس کی ذمہ داریوں میں ترقیاتی کاموں سمیت پینے کا صاف پانی اور سیوریج کے منصوبے شامل ہیں۔

وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کا نوٹس

وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیر کوہ میں پانی کی عدم دستیابی کا نوٹس لیا اور محکمہ پی ایچ ای کو ہنگامی بنیادوں پر پانی کی فراہمی کے لیے ایک کروڑ روپے کے خصوصی فنڈز کے اجرا کی منظوری دے دی۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں آلودہ پانی کا مسئلہ

وزیراعلیٰ کے سیکریٹریٹ سےجاری بیان کے مطابق فنڈز کے اجرا سے محکمہ پی ایچ ای ٹینکروں کے ذریعہ علاقوں مکینوں کو پانی کی فراہمی ممکن بنا دے گا۔

وزیراعلیٰ نے پی ایچ ای کو ہدایت کی کہ مون سون کی بارشوں کے آغاز اور پانی کے ذخائر میں اضافے تک ٹینکروں کے ذریعہ پانی کی فراہمی جاری رکھی جائے۔ انہوں نے کہ کمشنر سبی ڈویژن کو بھی پانی کے بحران کے حل کے لیے جاری اقدامات کی نگرانی کرنے کی ہدایت کی۔

تبصرے (0) بند ہیں