بھارت: ہندو نشانیاں سامنے آنے کے بعد مسلمانوں کو مسجد میں محدود اجتماع کا حکم

اپ ڈیٹ 17 مئ 2022
عدالت نے گیانواپی مسجد میں مسلمانوں کو تعداد 20 افراد رکھنے کا حکم دیا—فائل/فوٹو: رائٹرز
عدالت نے گیانواپی مسجد میں مسلمانوں کو تعداد 20 افراد رکھنے کا حکم دیا—فائل/فوٹو: رائٹرز

بھارت کی ریاست اترپردیش کی ایک عدالت نے شمالی بھارت کی مشہور ترین مسجد میں سروے ٹیم کی جانب سے ہندو دیوتا شیو اور دیگر ہندو نشانیاں سامنے لانے کے بعد مسلمانوں کو مسجد میں محدود اجتماع کرنے کا حکم دے دیا۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق وکیل ایچ ایس جین کا کہنا تھا کہ ہندوؤں کے مقدس شہر اور تاریخی گیانواپی مسجد کا مقام واراناسی (بنارس) کی عدالت نے فیصلہ سنایا کہ مسلمانوں کو مسجد میں تعداد 20 افراد تک محدود کرنی چاہیے۔

مزید پڑھیں: بابری مسجد کی جگہ مندر کی تعمیر کی نگرانی کیلئے ٹرسٹ بنا دیا گیا، مودی

عدالت نے حکم دیا کہ جین مت کی نمائندگی کرنے والی 5 خواتین کی جانب سے مسجد میں کیے گئے سروے کے بعد مسجد کے ایک حصے میں ہندوؤں کو عبادت کی اجازت دی جائے۔

گیانواپی مسجد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے حلقے میں واقعے ہے جو شمالی ریاست اترپردیش میں واقع کئی مساجد میں سے ایک ہے، جن کے بارے میں سخت گیر ہندووں کا ماننا ہے کہ ہندو کے مندر گرا کر مسجد تعمیر کی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق سخت گیر ہندووں کا دیگر مذہبی مقامات کے بارے میں ایسا ہی عمومی خیال ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ عدالت کے حکم سے امن و امان برقرار رکھنے میں مدد ملے گی کیونکہ مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے منسلک گروپس کی جانب سے چند مساجد کے اندر کھدائی اور تاج محل کے اندر تلاشی کی اجازت کا مطالبہ کیا جاچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: مسلمانوں کے خلاف پرتشدد واقعات کی تحقیقات کرنے والے دو وکلا کیخلاف مقدمہ درج

دوسری جانب بھارت میں بسنے والے 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں کے رہماؤں کا خیال ہے کہ یہ اقدامات بی جے پی کے منصوبوں کے ساتھ آزادی سے عبادت کرنے اور مذہبی آزادی کے حق کو سلب کرنے کی کوشش ہے۔

اترپردیش کے وزیراعلیٰ اور بی جے پی کے رہنما کیشیو پراساد موریا نے مقامی خبرایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ حکومت نے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور ہم اس پر عمل کریں گے۔

یاد رہے کہ 2019 میں بھارت کے سپریم کورٹ نے 16 ویں صدی میں تعمیر ہونے والے مشہور بابری مسجد کی جگہ پر ہندووں کو مندر تعمیر کرنے کی اجازت دی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا تھا کہ اس بات کے قابل اعتماد شواہد موجود ہیں کہ بابری مسجد کسی خالی زمین پر تعمیر نہیں کی گئی تھی۔

فیصلے کے بعد مسلم تنظیموں اور افراد کی جانب سے بھارتی عدالت عظمٰی میں نظرثانی درخواستیں دائر کی گئی تھیں جس کو سپریم کورٹ نے مسترد کردیا تھا۔

بابری مسجد کو 1992 میں ہندو مظاہرین نے شہید کردیا تھا، جن کا دعویٰ تھا کہ مسجد کو ہندو لارڈ رام کی جائے پیدائش پر تعمیر کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: ممبئی میں مساجد کو اذان کی آواز کم کرنے پر مجبور کردیا گیا

اس واقعے کے بعد بھارت بھر میں مذہبی فسادات ہوئے تھے اور 2ہزار افراد جان سے گئے تھے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

مودی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے 1992 میں ایک مہم شروع کی تھی جس کا مقصد رام مندر کی تعمیر تھا جو بابری مسجد کی شہادت سے قبل شروع کی گئی تھی۔

بعد ازاں جب نریندر مودی 2002 میں بھارتی ریاست گجرات کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تو ایودھیہ سے آنے والی ریل میں آگ لگنے کے باعث 59 ہندو ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد فسادات میں ایک ہزار سے زائد افراد کو بے دردی سے مارا گیا تھا جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

تبصرے (0) بند ہیں