پھٹی ہوئی آنول، اندھیرا اور راز!

لیبر روم میں ایمرجنسی کی گھنٹی زور زور سے بج رہی تھی۔ جو جہاں تھا وہیں ٹھہر گیا۔ دروازہ کھلا اور 4 نرسیں اسٹریچر تیزی سے دھکیلتی اندر داخل ہوئیں۔ اسٹریچر پر لیٹی عورت کی آنکھیں بند تھیں اور چہرے پر موت کی سی سفیدی۔

ناجانے آپ کے ساتھ کبھی ایسا ہوا یا نہیں کہ کہانی کا کردار کتاب سے نکل کر سامنے آ کھڑا ہو اور آپ سوچیں، کیا یہی ہے وہ؟

ہے تو کچھ عجیب سی بات، لیکن ہمارے ساتھ تو ایسا ہی ہوا۔ جمپا لہری کی کہانی حال ہی میں ہم نے پڑھی اور فوراً ہی اس کہانی کے کردار سے ملاقات ہوگئی۔ جمپا لہری کون ہیں، یہ تو ہم بعد میں بتائیں گے، پہلے کردار سے ملاقات کا احوال سن لیجیے۔

جی تو ہم اس مریضہ کی بات سنا رہے تھے جسے ہسپتال کے لیبر روم میں ایک اسٹریچر پر لیٹے ہوئے ہم نے دیکھا۔

چاروں میں سے ایک نرس نے بلند آواز میں کہا، 7 مہینے کی حاملہ ہیں۔ گھر میں اچانک ویجائنا سے خون آنا شروع ہوا۔ پہلے تھوڑا تھوڑا لیکن اب بہت تیزی سے بہہ رہا ہے۔

ہم لیبر روم میں راؤنڈ کر رہے تھے۔ آگے بڑھ کر دیکھا تو بلڈ پریشر تیزی سے گر رہا تھا۔ مریضہ کے کپڑے خون سے لت پت تھے۔ ویجائنا کا معائنہ کیا تو ویجائنا خون سے لبالب بھری تھی۔ مریضہ کو بچانے کا اب ایک ہی طریقہ تھا کہ فوراً آپریشن کردیا جائے۔

مریضہ کو آپریشن تھیٹر منتقل کیا، بلڈ بینک کو 4 سے 6 بوتل خون کی درخواست بھیجی۔ مریضہ بے سدھ پڑی تھیں، لیکن ہوش میں تھیں، ان سے آپریشن کی اجازت لے کر دستخط کروائے گئے۔

’لیکن ڈاکٹر صاحب، بچہ تو ابھی چھوٹا ہے‘، ساتھ کھڑے لواحقین میں سے کسی ایک نے کہا۔

دیکھیے، اس وقت ماں کو بچانا ہے۔ ماں بچ گئی تو بچے بہت لیکن اگر ماں ہی نہ بچی تو؟ ہم نے جواب دیا۔

مزید پڑھیے: افسانہ: شہر بانو کے رونے کی آواز اور میری نیند

آپریشن تھیٹر میں اینیستھٹسٹ نے بے ہوشی دی اور آپریشن کا آغاز ہوا۔ پیٹ کی 5، 6 پرتیں معمول کی نسبت تیزی سے کاٹیں تاکہ رحم تک جلد از جلد پہنچا جا سکے۔ رحم کھلنے پر بچہ پانی کے بجائے خون کے تالاب میں تیرتا ہوا نظر آیا۔ آنول پھٹ چکی تھی سو رحم خون کے لوتھڑوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہاتھ ڈال کر بچے کو باہر نکالا، دل کی دھڑکن بے ترتیب تھی، جسم بے جان اور نیلا پڑچکا تھا۔ بچہ سانس لینے کے لیے تڑپ تڑپ کر منہ کھول رہا تھا۔

نال کاٹ کر فوراً بچوں کے ڈاکٹر کے حوالے کیا جو پہلے سے ہی موجود تھے۔ انہوں نے آکسیجن کا ماسک بچے کے منہ پر لگا کر دل کا مساج کرنا شروع کیا۔ 2 منٹ تک بچہ بہتر نہیں ہوا تو منہ میں ٹیوب ڈال کر وینٹی لیٹر پر ڈال دیا۔

جب تک وہ بچے سے 2، 2 ہاتھ کر رہے تھے، ہم نے کٹی پھٹی آنول نکال کر رحم کو صاف کرتے ہوئے اسے سینا شروع کردیا تھا۔

بچہ اور ماں دونوں بچائے جاچکے تھے۔

کم و بیش کچھ ایسا ہی تو ہوا تھا جمپا لہری کی کہانی میں۔ جمپا لہری کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے لیکن اب وہ امریکا میں مقیم ہیں اور شاندار فکشن رائٹر ہیں۔ ہمارا ان سے تعارف بیٹی نے کروایا جو ان کی مداح ہیں۔

کہانی شروع ہوتی ہے ایک عام سی خبر سے کہ آئندہ 5 دن کے لیے اس علاقے میں روزانہ رات کو 8 سے 9 بجے تک ایک گھنٹے کے لیے بجلی منقطع ہوگی۔ علاقے میں برفباری سے ہونے والے نقصان کے بعد ٹوٹ جانے والی برقی تاروں کی مرمت کی جائے گی۔

میاں بیوی اس اطلاع کی روشنی میں طے کرتے ہیں کہ اگلے کچھ دنوں میں لوڈشیڈنگ میں کیسے وقت گزارا جائے گا؟

کہانی کے شروع میں دونوں ایک دوسرے سے برگشتہ نظر آتے ہیں، اجنبی، لاتعلق، اپنے اپنے کام میں مصروف۔ آپس کی گفتگو محض کام کی باتوں تک محدود ہے۔

شیو کمار پی ایچ ڈی کے آخری برس میں ہے اور شوبھا کسی دفتر میں کام کرتی ہے۔ دونوں کی شادی کو 3 برس گزر چکے ہیں۔ تعلقات میں یہ سرد مہری گزشتہ 6 مہینے سے ہے جب انہیں ایک ناقابلِ تلافی نقصان سے گزرنا پڑا۔

شوبھا حاملہ تھی اور زچگی میں 3 ہفتے باقی تھے جب شیو کمار کو ایک اہم کانفرنس میں شرکت کے لیے شہر سے باہر جانا پڑا۔ شیو کمار کو وہ منظر اچھی طرح یاد ہے جب برآمدے میں کھڑی شوبھا نے اسے خدا حافظ کہا تھا اور یقین دہانی کروائی تھی کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ کسی دوست کے ساتھ ہسپتال چلی جائے گی۔

کانفرنس کے دوران شیو کمار کو پیغام ملا کہ شوبھا ہسپتال میں ہے۔ کانفرنس چھوڑ کر جب وہ ہسپتال پہنچا تو علم ہوا کہ خبر اچھی نہیں ہے۔ شوبھا ایمرجنسی میں ہسپتال پہنچی تھی۔ آنول پھٹ گئی تھی، سیزیرین ہوا تھا لیکن شوبھا ہماری مریض کی طرح خوش قسمت ثابت نہیں ہوئی تھی۔ بچے کو بچایا نہیں جاسکا تھا۔

اس حادثے کے بعد دونوں مایوسی اور دکھ کا شکار ہوئے۔ زندگی ویسی نہیں رہی جیسی پہلے تھی۔ دونوں نے گھومنا پھرنا، پارٹیوں میں جانا، ویک اینڈ منانا چھوڑ دیا۔ ایک دوسرے سے سرد مہری برتنا شروع کردی۔ خیال تھا کہ برف جلد پگھل جائے گی۔ گھر سے باہر والی برف تو موسم بدلنے کے ساتھ پگھل گئی مگر ان کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہوگئے۔

اب یہ 5 دن، روشنی کے بغیر کیسے گزریں گے؟ ڈنر کیسے کیا جائے گا؟ دونوں اپنی اپنی جگہ سوچ رہے ہیں۔ بچے کی وفات کے بعد دونوں نے اکٹھے ڈنر کرنا چھوڑ دیا تھا۔ ڈنر کے لیے 8 بجے کا وقت مقرر تھا لیکن شیو کمار کچن سے کھانا لے کر اپنی اسٹڈی میں چلا جاتا اور شوبھا ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتی۔

آخر دونوں اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ڈائننگ ٹیبل پر موم بتیوں کی روشنی میں اکٹھے ڈنر کرلیا جائے۔

پہلا دن

شیو کمار ٹھیک 8 بجے کھانا لے کر میز آجاتا ہے۔ الماری میں اسے اپنی پچھلی سالگرہ کی بچی ہوئی موم بتیاں ملتی ہیں جنہیں وہ جلا دیتا ہے۔

’آج تو یہ ہندوستان کی طرح لگ رہا ہے جہاں گھنٹوں کے لیے بجلی چلی جاتی ہے۔ میں ایک بار ایک بچے کی سالگرہ میں گئی جہاں بچے رو رو کر بے حال ہو رہے تھے، یقیناً گرمی اور اندھیرے کی وجہ سے‘، شوبھا نے کہا۔

’ہمارا بچہ تو کبھی رو ہی نہیں سکا اور اس کی سالگرہ بھی نہیں ہوسکی‘، شیو کمار نے سوچا۔

دونوں چپ چاپ کھانا کھاتے رہے۔ ان کی زندگی ایسی نہیں تھی۔ دونوں خوب باتیں کرتے اور ہنستے تھے لیکن اب دونوں کو بات کرنے سے پہلے سوچنا پڑتا تھا۔

بالآخر شوبھا نے خاموشی توڑی۔

’میری دادی کے گھر جب بھی بجلی جاتی، ہم میں سے ہر کوئی کچھ نہ کچھ سناتا، جیسے کوئی چھوٹی سی نظم، کوئی نئی بات، کوئی لطیفہ۔ چلو ہم بھی ایسا ہی کریں۔‘

’لیکن مجھے نہ تو کوئی لطیفہ آتا ہے اور نہ ہی کوئی نظم‘، شیو کمار نے کہا۔

’کوئی بات نہیں۔ کوئی ایسی بات کرسکتے ہیں جو ہم نے ایک دوسرے سے پہلے کبھی نہ کی ہو‘، شوبھا نے تجویز پیش کرتے ہوئے کہا۔

’چلو میں شروع کرتی ہوں۔ جب میں پہلی بار تمہارے اپارٹمنٹ گئی تو میں نے تمہاری ایڈریس ڈائری کھول کر دیکھی تھی جب تم اپنی ماں کا فون سننے دوسرے کمرے میں گئے تھے۔ میں جاننا چاہتی تھی کہ تم نے میرا پتہ لکھا کہ نہیں۔ اب تم بتاؤ؟‘

شیو کمار نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا، ’میں تمہیں پہلی بار جس ریسٹورنٹ میں ڈنر کروانے کے لیے لے گیا تھا، وہاں ویٹر کو ٹپ دینا بھول گیا تھا۔ اگلے دن واپس جاکر میں نے اس کے منیجر کو اس کے لیے کچھ رقم دی تھی‘۔

’تم واپس کیوں گئے؟‘، شوبھا نے پوچھا۔

مجھے تم سے شادی کرنے کا خیال آ رہا تھا اس لیے میں بہت خوش تھا'، شیو کمار نے آہستہ سے کہا۔

موم بتیاں بجھ چکی تھیں، کھانا ختم ہوچکا تھا۔ دونوں اپنے اپنے کمرے میں جا چکے تھے۔

مزید پڑھیے: افسانہ: ’سوری! میں نے تمہارے بارے میں کبھی اس طرح سوچا ہی نہیں‘

دوسری رات

8 بجے بجلی چلی گئی، موم بتیاں جلا دی گئیں۔ آج کھانا 7 بجے کھا لیا گیا تھا۔

شوبھا نے تجویز پیش کی کہ کیوں نہ کچھ دیر باہر سیڑھیوں پر بیٹھا جائے۔ شیو کمار بیٹھا سوچ رہا تھا کہ آج شوبھا کیا سنائے گی؟

'یاد کرو وہ دن، جب تمہاری ماں ہمارے ہاں ٹھہرنے کو آئی ہوئی تھیں۔ ایک دن میں نے تمہیں کہا تھا کہ مجھے کام سے آتے ہوئے دیر ہوجائے گی۔ میں نے جھوٹ بولا تھا، میں گلین کے ساتھ کافی پینے گئی تھی۔ میں کچھ وقت گھر سے باہر گزارنا چاہتی تھی۔'

گلین وہی دوست تھا جو شوبھا کو زچگی کے لیے ہسپتال لے کر گیا تھا۔

'اب تمہاری باری ہے'، شوبھا نے شیو سے کہا۔

شیو کمار نے کچھ سوچتے ہوئے کہا 'میں نے 15 برس پہلے کالج کے امتحان میں نقل کی تھی۔ کچھ عرصہ پہلے میرے باپ کا انتقال ہوا تھا۔ مجھے آگے بیٹھے ہوئے لڑکے کا پیپر نظر آرہا تھا۔ میں نے اس کے جواب کاپی کیے تھے'۔

'تمہیں وضاحت دینے کی ضرورت نہیں، کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟'، شوبھا بولی۔

بجلی آگئی تھی۔

تیسری رات

شیو کمار نے اعتراف کیا کہ شادی کی تیسری سالگرہ پر جو سوئٹر شوبھا نے اسے تحفے میں دیا تھا، اس نے وہ سوئٹر دکان پر واپس کردیا تھا اور رقم بار میں اڑا دی تھی، جبکہ شوبھا کو اس نے بتایا تھا کہ سوئٹر گم ہوگیا۔

شوبھا نے بتایا کہ ایک بار جب وہ اپنے ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ سے ملنے جا رہا تھا تب اس نے اس کے منہ پر لگے ہوئے کیچپ کے داغ سے متعلق نہیں بتایا تھا کہ وہ کسی بات سے ناراض تھی۔

چوتھی رات

شیو کمار نے بتایا کہ جب شوبھا حاملہ تھی اور روز بروز موٹی ہوتی جا رہی تھی، تب اس نے ایک میگزین میں سے خوبصورت، دراز قد اور سمارٹ ٹانگوں والی عورت کی تصویر کاٹ کر اپنی کتاب میں چھپا لی تھی اور اسے چوری چوری دیکھا کرتا تھا۔

شوبھا نے بتایا کہ اسے شیو کمار کی لٹریری میگزین میں چھپنے والی اکلوتی نظم بالکل پسند نہیں آئی تھی۔ وہ شیو کمار نے اس وقت لکھی تھی جب وہ اس سے ملی تھی۔

چوتھی رات کے بعد دونوں نے محسوس کیا کہ وہ ایک دوسرے سے بات کرکے اپنے بیچ خاموشی کی اس دیوار کو توڑنے میں کامیاب ہو رہے ہیں جو بچے کی موت کے بعد ان کے درمیان کھڑی ہوگئی تھی۔

پانچویں دن انہیں نوٹس ملا کہ بجلی کی تاروں کا کام ایک دن پہلے ہی ختم ہوگیا ہے لہٰذا اس دن بجلی نہیں جائے گی۔

شیو کمار نے شوبھا کو یہ بتاتے ہوئے مایوسی سے کہا، 'ہمارا کھیل ختم؟'

'نہیں تم آج بھی موم بتیاں جلا سکتے ہو'، شوبھا نے آہستہ سے کہا۔

کھانا موم بتیوں کی روشنی میں کھایا گیا۔ کھانا کھانے کے بعد شوبھا نے موم بتی بجھا دی اور بلب جلا دیا۔

'میں چاہتی ہوں کہ تم مجھے دیکھو جب میں بات کروں۔'

شیو کمار کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا، یہ تو وہی الفاظ تھے جو شوبھا نے تب کہے تھے، جب اس نے حاملہ ہونے کی خبر سنائی تھی۔

'میں نے ایک اپارٹمنٹ دیکھ لیا ہے، میں کچھ وقت اکیلے رہنا چاہتی ہوں۔ آج میں نے لیز سائن کردی ہے۔ جو کچھ ہوا اس میں کسی کا قصور نہیں تھا'

شیو کمار کے اندر غصے کی ایک لہر اٹھی۔ تو کیا اس لیے وہ یہ کھیل کھیل رہی تھی؟ وہ اسے علیحدگی کے فیصلے کے لیے تیار کر رہی تھی۔

اب اس کی باری تھی۔

ایک بات ایسی تھی جس کے لیے اس نے قسم کھائی تھی کہ وہ شوبھا کو کبھی نہیں بتائے گا۔

حمل کے دوران شوبھا نے ڈاکٹر سے درخواست کی تھی کہ اسے الٹراساؤنڈ کے ذریعے نہیں جاننا کہ آنے والا بچہ ہے یا بچی؟ اس کی خواہش کا احترام کیا گیا تھا۔

بچے کی موت کے بعد جب بھی دونوں میں بات ہوئی، شوبھا نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ وہ دونوں بچے کے بارے میں کچھ نہیں نہیں جانتے۔ شوبھا نے اپنے غم کو ایک راز بنا کر رکھنے میں سکون محسوس کیا تھا اور شوبھا سمجھتی تھی کہ شیو کمار کے لیے بھی یہ راز ہی تھا۔

شوبھا کے خیال میں شیو زچگی کے بعد ہسپتال تب پہنچا تھا جب سب ختم ہوچکا تھا، اور بچہ دفنایا جاچکا تھا۔

لیکن حقیقت یہ نہیں تھی۔ شیو کمار بچے کو دفنانے سے پہلے ہسپتال پہنچ گیا تھا۔ شوبھا سو رہی تھی، تب شیو کمار نے بچے کو گود میں لیا تھا۔

مزید پڑھیے: افسانہ: ایک الجھی ہوئی کہانی

'وہ لڑکا تھا۔ اس کی رنگت سرخ تھی۔ سر پر بال کالے تھے، وزن 5 پاؤنڈ تھا۔ اس نے انگلیاں سختی سے بھینچ رکھی تھیں، بالکل تمہاری طرح، جیسے تم نیند میں کرتی ہو'، شیو کمار نے لفظ چبا چبا کر کہے۔

شوبھا کا چہرہ پیلا پڑ گیا جیسے خون نچڑ گیا ہو۔ شوبھا نے اس کی طرف غور سے دیکھا، اس نے کالج امتحان میں نقل کی تھی، میگزین میں سے عورت کی تصویر پھاڑ کر چوری چھپے پاس رکھی تھی، اس کا دیا ہوا سوئٹر واپس کیا تھا اور اس سے جھوٹ بول کر ان پیسوں کو بار میں خرچ کیا تھا۔

اور اب وہ یہ اقرار کر رہا تھا کہ اسے بچے کا راز معلوم تھا۔ اس نے شوبھا کے بغیر اس کے بیٹے کو گود لیا تھا جو اس کے پیٹ میں زندہ تھا۔ اس کے ساتھ 9 ماہ گزارے تھے اور اس نے شوبھا کو یہ کبھی نہیں بتایا۔ اس لیے کہ وہ جانتا تھا کہ شوبھا بچے کو ایک ان دیکھا، ان کہا، ان سنا راز رکھنا چاہتی ہے۔ سو اس نے اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ شوبھا کو کبھی نہیں بتائے گا کہ اس کا بچہ لڑکا تھا کیونکہ وہ اس سے پیار کرتا تھا۔

کیا شوبھا کے فیصلے سے شیو کمار کا پیار ایک گھڑی میں ختم ہوگیا تھا اور کیا وہ اس سر بستہ راز کو افشا کرکے شوبھا کو تکلیف دینا چاہتا تھا؟ یا علیحدگی کے فیصلے کا بدلہ لینا چاہتا تھا؟

یہ فیصلہ جمپا لہری قاری پر چھوڑتی ہیں۔

شوبھا ہماری مریضہ جتنی خوش قسمت نہیں تھیں جس کا بچہ آنول پھٹنے کے باوجود بچ گیا تھا۔

آنول اچانک سے کیوں پھٹ جاتی ہے؟ اس سوال کا واضح جواب تو موجود نہیں لیکن کچھ علامات ہیں جن میں ایسا ہوسکتا ہے۔ اگر حاملہ کا بلڈ پریشر زیادہ ہوجائے، اگر بچے کے گرد پانی زیادہ ہو، جڑواں بچے ہوں یا پیٹ پر کوئی ضرب لگے۔

آنول پھٹنے کا علاج ایک ہی ہے کہ آپریش سے بچہ فوراً نکال لیا جائے۔

ہمیں تو ایک ہی خیال آتا ہے۔ تھر کے ریگستانوں میں، بلوچستان کے دُور دراز علاقوں میں، چھوٹے قصبوں میں، پہاڑی علاقوں میں جب حاملہ عورتوں کی آنول پھٹتی ہوگی تو موت کیسے دانت نکوسے ہنستی ہوگی؟

چلتے چلتے سن لیجیے کہ دنیا بھر میں حاملہ عورتوں کے مرنے کی شرح ہمارے پیارے پاکستان میں سرِفہرست ہے۔

کیا کبھی کسی نے سوچا اس بارے میں؟

تبصرے (3) بند ہیں

Mamoon May 25, 2022 03:49pm
Madam, Ap ne boht acha likha hy. welldone
عابدہ خان May 26, 2022 11:59am
بہترین احساسات سے بھرپور احتتام سوچنے پر مجبور کرنے والا
عابدہ خان May 26, 2022 12:01pm
بہترین کہانی احتتام سوچنے پر مجبور کرنے کا