بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات: برسوں سے جلتے سلگتے صوبے میں امید کی کرن

02 جون 2022

26 اپریل کو کراچی میں پہلی بلوچ خاتون خودکش حملہ آور نے کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے اساتذہ پر خودکش حملہ کیا۔ دھماکے سے پہلے حملہ آور کی وکٹری کا نشان بناتی تصویر وائرل ہوئی تو میں اسی شام میں ایک سینیئر بلوچ نیشنلسٹ کے ساتھ شام کا پہلا پہر گزار رہا تھا۔

اس وقت ایک دو نجی چینلوں نے جب چینی اساتذہ کے خودکش حملے میں مارے جانے کے بارے میں سطحی سوال کیے تو بزعم خود برسوں سے بلوچستان کے سیاسی سرد و گرم سے آشنا ہونے کے باوجود اس حوالے سے میری معلومات بڑی غریب تھیں۔

منٹوں بعد جب مکران سے تعلق رکھنے والے بلوچ دوست نے تفصیل سے حملہ آور کے سیاسی اور خاندانی پس منظر کے بارے میں بتانا شروع کیا تو میں 'صدمے' میں چلا گیا۔ وہ حملہ آور بلوچستان کے ایک ممتاز دانشور غنی پرواز کی قریبی رشتہ دار تھی۔

میرے سینیئر بلوچ نیشنلسٹ دوست نے کہا کہ اگلے ماہ بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں، دعا کریں خیر سے گزر جائیں۔ سو 29 مئی کی شام ہی سے انتخابی نتائج سے زیادہ میری توجہ اسکرینوں پر اس حوالے سے تھی کہ کیا یہ انتخابات بی ایل اے سمیت 3 بڑی مزاحمتی تنظیموں کے حملوں سے محفوظ رہ سکیں گے۔ معمول کے مطابق لڑائی، جھگڑے اور فائرنگ کے واقعات میں ایک، دو ہلاکتیں (جو یقیناً نہیں ہونی چاہیے تھیں) ہوئیں مگر کالعدم عسکری تنظیموں کے کسی بڑے اور خاص طور پر خودکش حملے کی خبر رات کے آخری پہر تک نہیں ملی۔

بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات نسبتاً پُرامن ماحول میں ہوئے—تصویر: ڈان/ پی پی آئی/ آن لائن
بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات نسبتاً پُرامن ماحول میں ہوئے—تصویر: ڈان/ پی پی آئی/ آن لائن

مزید پڑھیے: بلوچ خاتون کا خودکش حملہ خطرناک ترین کیوں؟

میں تربت اور گوادر کے دوستوں سے مستقل رابطے میں تھا کہ ٹرن آؤٹ کیسا رہا، اس سے بھی زیادہ فکرمندی کا اظہار امن و امان کے حوالے سے کیا۔ بلوچستان کے 32 اضلاع کے 4245 وارڈ کے نتائج آنا شروع ہوئے تو بلوچستان کی سیاست کے ایک طالب علم کی حیثیت سے مجموعی طور پر انتخابی نتائج توقع کے مطابق تھے۔ مگر سابق وزیر اعلی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی نیشنل پارٹی کی ڈسٹرکٹ تربت میں شاندار کامیابی اور بی این پی مینگل کی صرف 18 نشستوں پر کامیابی چونکادینے والی تھی۔

سی پیک کے پس منظر میں مکران کے سب سے حساس شہر گوادر میں مولانا ہدایت الرحمٰن کی حق دو تحریک کو فقید المثال کامیابی حاصل ہوئی۔ مجھے اس کامیابی پر حیرت اس لیے نہیں ہوئی کہ گزشتہ سال کے اختتام پر مولانا ہدایت الرحمٰن کے 32 روزہ دھرنے نے جو شہرت حاصل کرنے کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی اس کی بازگشت گوادر کے محلّوں اور چوکوں میں زبان خلق سے سن چکا تھا۔ اب مولانا ہدایت الرحمٰن کا نام آیا ہے تو اس سے سرسری طور پر نہیں گزرا جاسکتا کہ مولانا کا تعلق پاکستان کی سب سے منظم مذہبی تنظیم جماعت اسلامی سے ہے جسے انتخابی محاذ پر نصف دہائی میں قومی، صوبائی اور بلدیاتی انتخابات میں کوئی قابل ذکر کامیابی نہیں ملی۔

فروری میں جب گوادر میں حق دو تحریک اور اس کے قائد مولانا ہدایت الرحمٰن کے دھرنے کی خبریں ملنے لگیں تو اسے کوئٹہ اور اسلام آباد کی اسٹیبلشمنٹ تو کیا ہمارے نام نہاد مین اسٹریم میڈیا نے بھی کوئی اہمیت نہیں دی۔ بعد ازاں جب گوادر جیسے تقریباً 2 لاکھ آبادی والے شہر میں ہزاروں افراد کے دھرنے (جس میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی دیکھنے میں آئی) نے پہلے مکران اور پھر سارے بلوچستان اور اس سے ملحق سرحدوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا تو پھر کیا کوئٹہ کیا اسلام آباد۔ پھر مجھ سمیت میڈیا کے سارے سرخیلوں کے لیے مولانا ہدایت الرحمٰن most wanted person بن گئے۔ خوش آئند بات یہ تھی کہ بغیر کسی خون خرابے کے مولانا ہدایت الرحمٰن کی تحریک چند بڑے مطالبات منوانے میں کامیاب ہوگئی۔ مولانا ہدایت الرحمٰن آج گوادر ہی نہیں مکران میں ایک لیجنڈری کردار بن گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: بلوچستان آج اس نہج تک کیسے پہنچا؟

یقیناً تربت، گوادر اور مجموعی طور پر بلوچستان کے بلدیاتی انتخابات جس میں ووٹنگ کی شرح 60 فیصد رہی، برسوں سے جلتے سلگتے بلوچستان میں ایک امید کی کرن ضرور کہلائے جا سکتے ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ اس ٹرن آؤٹ سے کوئٹہ پر حکمرانی کرنے والی اسٹیبلشمنٹ، مزاحمتی تنظیموں کے حوالے سے کسی خوش فہمی میں نہ رہے کہ بہرحال تعمیر کے مقابلے تخریب کا راستہ آسان بھی ہوتا ہے اور عام سادہ لوح محروم نوجوانوں کے لیے پرکشش بھی۔

مولانا ہدایت الرحمٰن آج گوادر ہی نہیں مکران میں ایک لیجنڈری کردار بن گئے ہیں—تصویر: ٹوئٹر
مولانا ہدایت الرحمٰن آج گوادر ہی نہیں مکران میں ایک لیجنڈری کردار بن گئے ہیں—تصویر: ٹوئٹر

یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا بلدیاتی انتخابات سے ابھرنے والی قیادت مستقبل کے قومی انتخابات میں بڑی کامیابی حاصل کرسکے گی؟ بلوچوں کی سیاسی اور مزاحمتی تاریخ پر نظر رکھنے والے ایک طالبعلم کی حیثیت سے توقع رکھوں گا کہ اسلام آباد میں بیٹھے کوئٹہ سے باپوں کے ذریعے بلوچستان کی سیاسی مزاحمتی تحریکوں کو وقتی طور پر بذریعہ طاقت ختم تو کرسکتے ہیں مگر دہائیوں سے پروان چڑھنے والی مزاحمتی تنظیموں اور ان کی قیادت کی سوچ اب سرحدوں سے باہر نکل چکی ہے اور اسے پروان چڑھانے میں ایک نہیں، دو نہیں کئی روایتی دشمن اپنا حصہ ڈالنے میں بھرپور کردار ادا کررہے ہیں۔

مزید پڑھیے: بلوچستان کے مسائل کیسے حل ہوں گے؟

26 اپریل کو کراچی میں اس خودکش حملہ آور خاتون نے چینیوں کو ہلاک کیا تھا جس کے بعد بڑی پکڑ دھکڑ بھی ہوئی اور اس کے نیٹ ورک تک پہنچنے کے لیے سیکڑوں گرفتاریاں بھی ہوئیں۔

گزشتہ ہفتے بلوچستان حکومت کی ایک ترجمان نے ایک اور خودکش حملہ آور خاتون کو گرفتار کرنے کے ساتھ یہ انکشاف بھی کیا تھا کہ ایک سے زیادہ خواتین کو بی ایل اے کی 'مجید برگیڈ' خودکش حملوں کے لیے تربیت دے رہی ہے۔ تربیت دینے والے کہیں اور نہیں ہمارے پڑوسی ملک میں بیٹھے ہیں۔ یقیناً اسلام آباد میں بیٹھی اسٹیبلشمنٹ اس سے مکمل طور پر آگاہ ہوگی مگر بدقسمتی سے یہ سوچ غالب ہے کہ ان سے محض بندوق کی زبان میں ہی بات کی جائے۔

ہماری اسٹیبلشمنٹ کے پیش نظر یہ بات رہنی چاہیے کہ ساری دنیا میں بالآخر مزاحمتی علیحدگی پسند تنظیموں کے ساتھ ریاست کے مستقبل کے لیے بات چیت کرنی ہی پڑتی ہے۔ اس حوالے سے جتنی تاخیر ہوگی نقصان بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔

اپنی رائے دیجئے

0
تبصرے
1000 حروف