دشمن قوتیں سی پیک کی ترقی کو نشانہ بنا رہی ہیں، چینی سفیر

03 جون 2022
مشاہد حسین نے جعلی خبروں اور غلط معلومات کو سی پیک کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا—پاک چائنا انسٹی ٹیوٹ/ٹوئٹر
مشاہد حسین نے جعلی خبروں اور غلط معلومات کو سی پیک کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا—پاک چائنا انسٹی ٹیوٹ/ٹوئٹر

چین کے سفیر اور پاکستانی رہنماؤں نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو جعلی خبروں اور غلط معلومات کے سبب درپیش بڑھتے ہوئے خطرات سے متعلق خبردار کرتے ہوئے اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس مسئلے کو ’ساتویں سی پیک میڈیا فورم‘ میں اجاگر کیا گیا، جس کی میزبانی اسلام آباد میں چینی سفارت خانے، پاک-چائنا انسٹی ٹیوٹ اور چائنا اکنامک نیٹ نے مشترکہ طور پر کی جہاں مقررین نے رائے عامہ پر اثرانداز ہونے، پرتشدد انتہا پسندی کو فروغ دینے اور ترقیاتی منصوبے کو نقصان پہنچانے کے لیے پروپیگنڈے، غلط معلومات اور جعلی خبروں کے امکانات کے بارے میں بات کی۔

سی پیک کو پاکستان میں بڑے پیمانے پر ایک گیم چینجر کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو خطے کی جیو اسٹریٹجک، جیو اکنامک اور جیو پولیٹیکل ڈائنامکس پر مثبت اثرات مرتب کرے گا لیکن ساتھ ہی میڈیا رپورٹس نے پاکستان کے چین کے قرضوں کے جال میں پھنسنے، منصوبوں میں مبینہ عدم شفافیت اور خاص طور پر کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے منصوبوں کے ماحولیاتی اثرات کے بارے میں شکوک و شبہات کو پھیلایا۔

یہ بھی پڑھیں: سی پیک کے بیشتر منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، چینی قونصل جنرل

اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے اپنی تقریر میں سی پیک کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو خطے کا جیو اکنامک حب بنانے کے لیے یہ بہترین منصوبہ ہے لیکن افسوس ہے کہ سی پیک اور چین کے دشمنوں کی جانب سے یہ بد نیتی پر مبنی ’ڈس انفارمیشن مہم‘ کا شکار ہوا۔

بلوچ علیحدگی پسندوں کی جانب سے پاکستان میں چینی اہلکاروں اور منصوبوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے متنبہ کیا کہ منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لیے انتہا پسند اور قوم پرست عناصر کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

اس سے نمٹنے کے لیے انہوں نے مقامی کمیونٹیز تک پہنچنے پر زور دیا تاکہ ان کی شکایات کو دور کیا جا سکے کیونکہ وہ سی پیک مخالف پروپیگنڈے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سی پیک صرف چین نہیں سب کیلئے ہے، معاون خصوصی وزیراعظم

چینی ناظم الامور پینگ چنکسو نے بھی اس چیلنج کی سنگینی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک سے متعلق جھوٹا پروپیگنڈہ اور غلط معلومات بڑھ رہی ہیں، دشمن قوتیں سی پیک کی ترقی کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان اتحاد اور باہمی اعتماد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

وہ اس بارے میں زیادہ واضح تھیں کہ سی پیک کے خلاف جعلی خبروں اور پروپیگنڈہ مہم کے پیچھے کون ہے۔

چین سے نمٹنے کے لیے امریکا کی جانب سے تشکیل دیے گئے کواڈ اتحاد، آسٹریلیا، برطانیہ، امریکا کے درمیان سہ فریقی سیکورٹی معاہدے اور انڈو پیسیفک اکنامک فریم ورک کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ چین کو نشانہ بنا رہے ہیں اور دنیا میں امن اور ترقی کے فروغ کے لیے چین کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سی پیک پر کام کی سست رفتار سے چینی کمپنیاں پریشان

چینی سفارت کار نے سی پیک پر عالمی ماحول کے اثرات سے متعلق یاد دہانی کرواتے ہوئے مزید کہا کہ ’سی پیک سرد جنگ کی ذہنیت سے بھرپور دنیا میں بہتر انداز میں ترقی نہیں کر سکتا‘۔

سینیٹ کی دفاعی کمیٹی کے چیئرمین اور پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ مشاہد حسین نے جعلی خبروں اور غلط معلومات کو سی پیک کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا، انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ مشترکہ طور پر اس کا مقابلہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ نہ صرف دونوں ممالک کے صحافیوں بلکہ دیگر ممالک کے صحافیوں کو بھی چاہیے کہ وہ سی پیک اور بی آر آئی سے متعلق سچ کو فروغ دیں تاکہ لوگوں کو حقیقت سے واقف ہوں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ سی پیک کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے، انہوں نے واضح کیا کہ سرد جنگ اور چین کو قابو کرنے کی ذہنیت کو مسترد کرتے ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں