Dawn News Television Logo
پاکستان کا نام پہلی بار 2008 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا—فوٹو : ایف اے ٹی ایف/ٹوئٹر

پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ میں شامل کیے جانے کی تاریخ

2018 سے قبل 2008 اور 2012 میں بھی پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیا جا چکا ہے۔
اپ ڈیٹ 17 جون 2022 08:59pm

پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں شامل کرنے اور اس لسٹ سے نکلنے کے لیے پاکستان کے حالیہ برسوں میں اٹھائے گئے اقدامات کی طویل تاریخ ہے۔

پاکستان کا نام پہلی بار 2008 میں ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ میں شامل کیا گیا تھا کیونکہ پاکستان مبینہ طور پر دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کو روکنے کے لیے مناسب اقدامات اٹھانے میں ناکام رہا تھا۔

کسی ملک کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیے جانے کا مطلب ہے کہ اس ملک پر طے شدہ مدت کے اندر نشاندہی کی گئی اسٹریٹجک خامیوں کو تیزی سے حل کرنا لازم ہے اور اس کی نگرانی میں اضافہ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل پائے گا یا نہیں؟ فیصلہ آج ہوگا

2008 کے بعد 2012 اور 2018 میں بھی پاکستان کو مزید 2 بار اس فہرست میں شامل کیا گیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کا نام ہمیشہ ایسے وقت میں گرے لسٹ میں ڈالا گیا جب ملک انتخابات کی جانب گامزن تھا یا اقتدار کی تازہ منتقلی ہوئی تھی۔

ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں تینوں بار پاکستان کا نام شامل کیے جانے اور اس سے نکلنے کے لیے پاکستان کے حالیہ برسوں میں اٹھائے گئے اقدامات کی ٹائم لائن درج ذیل ہے:

28 فروری 2008 کو پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پہلی بار شامل کیا گیا تھا کیونکہ پاکستان مبینہ طور پر بین الاقوامی اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور دہشت گردی کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے (سی ایف ٹی) کے معیارات کو پورا کرنے میں ناکام رہا تھا، ان اہداف کے حصول کے لیے پاکستان کو ایشیا پیسیفک گروپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو کہا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: اتحادی ممالک کی پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکالنے کیلئے کوششیں

جون 2010 میں پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے اس وقت نکال دیا گیا تھا جب پاکستان نے ایک مستقل اینٹی منی لانڈرنگ قانون نافذ کرنے سمیت اے ایم ایل اور سی ایف ٹی نظام کو بہتر بنانے میں پیش رفت ظاہر کی تھی۔

16 فروری 2012 کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خطرات سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے طے شدہ معیارات کی مکمل تعمیل نہ کرنے پر پاکستان کو دوبارہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں رکھنے کا اعلان

26 فروری 2015 کو پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا گیا تھا، ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی جانب سے اپنے اے ایم ایل اور سی ایف ٹی نظام کو بہتر بنانے میں نمایاں پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے اپنے ایکشن پلان میں وعدوں کو پورا کرنے کے لیے قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک قائم کیا ہے۔

28 جون 2018 کو پاکستان کو تیسری بار گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا، ایف اے ٹی ایف کا یہ مؤقف تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔

16 اگست 2018 کو ایف اے ٹی ایف نے 12 روز کے معائنے کے بعد پاکستان کے ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان میں خامیاں پائیں۔

8 مارچ 2019 کو ایف اے ٹی ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے کالعدم تنظیموں کو ہائی رسک قرار دے دیا گیا۔

11 مئی 2019 کو پاکستان کسٹمز نے دہشت گردی کی مالی معاونت کو روکنے کے لیے پالیسی متعارف کرائی۔

25 جولائی 2019 کو دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں ایف اے ٹی ایف سیل قائم کیا گیا۔

25 اگست 2019 کو اس وقت کے وزیراعظم نے ایف اے ٹی ایف کے اہداف کو پورا کرنے میں معاونت کے لیے باڈی تشکیل کی۔

18 اکتوبر 2019 کو ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پر زور دیا کہ وہ فروری 2020 تک اپنے مکمل ایکشن پلان کی تیزی سے تکمیل کرے۔

29 اکتوبر 2019 کو ایکشن پلان پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے وزارت داخلہ میں ایک ایف اے ٹی ایف سیل قائم کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: اسپیکر قومی اسمبلی ایف اے ٹی ایف قانون سازی پر اتفاق رائے کیلئے پُر اُمید

21 فروری 2020 کو ایف اے ٹی ایف نے ایکشن پلان کو مکمل کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان کو جون 2020 تک گرے لسٹ میں رکھنے کا اعلان کیا۔

24 فروری 2020 کو ایف بی آر نے اعلان کیا کہ وہ ایف اے ٹی ایف کی تعمیل کے لیے ریئل اسٹیٹ، جیولری کی تجارت پر نظر رکھے گا۔

24 جون 2020 کو ایف اے ٹی ایف کے ورچوئل اجلاس میں پاکستان کا معاملہ نہیں اٹھایا گیا۔

17 اگست 2020 کو سینیٹ نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق 5 میں سے ایک بل منظور کیا۔

18 اگست 2020 کو پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق مزید 2 بل منظور کر لیے۔

16 ستمبر 2020 کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق 3 بلز منظور ہوئے۔

6 اکتوبر 2020 کو چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کہا کہ ایس ای سی پی نے ایف اے ٹی ایف کی تمام شرائط پوری کر لی ہیں۔

23 اکتوبر 2020 کو ایف اے ٹی ایف نے کہا کہ پاکستان نے 27 میں سے 21 نکات کی کامیابی سے تعمیل کی ہے، تاہم ایف اے ٹی ایف نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کو فروری 2021 تک 'گرے لسٹ' میں رکھا جائے گا جب تک کہ تمام شرائط پر مکمل عمل درآمد نہ ہو جائے۔

19 نومبر 2020 کو جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک اور مقدمے میں ساڑھے 5 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف بلز کی منظوری کیلئے آئندہ ہفتے قومی اسمبلی، سینیٹ کا اجلاس طلب

8 جنوری 2021 کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کی تعمیل کے لیے اینٹی منی لانڈرنگ کے قوانین میں ترمیم کی۔

8 جنوری 2021 کو ہی لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم تنظیم لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے ذکی الرحمٰن لکھوی کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں 5 سال قید کی سزا سنائی۔

25 فروری 2021 کو پاکستان کا نام گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا، ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے ایکشن پلان کے 27 میں سے 3 اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

25 مارچ 2021 کو حکومت نے یکطرفہ طور پر ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والے تمام ریئل اسٹیٹ ڈیلرز کو نامزد غیر مالیاتی کاروبار اور پیشہ ور (ڈی این ایف بی پیز) کے طور پر رجسٹر کیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنے گاہکوں اور جائیداد کے لین دین کی مکمل تفصیلات فراہم کریں۔

22 اپریل 2021 کو ریگولیٹرز نے انسداد منی لانڈرنگ کا دائرہ مزید سخت کردیا۔

19 مئی 2021 کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے خصوصی اسکواڈ تشکیل دیا۔

25 جون 2021 کو ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے ایک واحد نامکمل ہدف کے باعث پاکستان کا نام گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا۔

4 جولائی 2021 کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے دہشت گردی کی مالی معاونت، منی لانڈرنگ کے انسداد کے لیے ایک سیل قائم کیا۔

16 اگست 2021 کو بینکوں نے 'سیاسی سرگرمیوں میں ملوث افراد' کا ڈیٹا بیس کا استعمال شروع کر دیا۔

21 اکتوبر 2021 کو ایف اے ٹی ایف نے کہا کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ میں برقرار رہے گا کیونکہ اس نے تاحال ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دیے گئے ایکشن پلان پر مکمل طور پر عملدرآمد نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: حافظ سعید کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے 2 مقدمات میں 11 سال قید

4 مارچ 2022 کو ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے مالیاتی نظام میں باقی رہ جانے والی خامیوں کو دور کرے۔

8 اپریل 2022 کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو غیر قانونی فنڈنگ کے 2 مقدمات میں مجموعی طور پر 31 برس قید کی سزا سنا دی۔

14 سے 17 جون 2022 تک جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ایف اے ٹی ایف کا 4 روزہ اجلاس منعقد کیا گیا، جس کے بعد ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیئر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 34 نکات پر مشتمل 2 علیحدہ ایکشن پلانز کی تمام شرائط پوری کرلی ہیں تاہم پاکستان کو آج گرے لسٹ سے نہیں نکالا جارہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف کورونا صورتحال کا جائزہ لے کر جلد از جلد پاکستان کو دورہ کرے گا جس کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کیا جائے گا۔