شوبز شخصیات کا عامر لیاقت کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم نہ کرنے کا مطالبہ

اپ ڈیٹ 20 جون 2022
تین دن قبل کراچی کی عدالت نے عامر لیاقت کا پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دیا تھا—فائل فوٹو: فیس بک
تین دن قبل کراچی کی عدالت نے عامر لیاقت کا پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دیا تھا—فائل فوٹو: فیس بک

متعدد شوبز شخصیات، مداحوں اور مرحوم عامر لیاقت حسین کی سابق اور پہلی اہلیہ ڈاکٹر بشریٰ اقبال نے مطالبہ کیا ہے کہ عدالت مرحوم اینکر کی قبر کشائی کرکے ان کے پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم واپس لے۔

کراچی کی مقامی عدالت نے ایک شہری کی درخواست پر 18 جون کو عامر لیاقت حسین کی قبرکشائی کرکے پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دیا تھا۔

عامر لیاقت رواں ماہ 9 جون کو اپنی رہائش گاہ پر بے ہوشی کی حالت میں پائے گئے تھے، جنہیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا مگر وہ راستے میں ہی خالق حقیقی سے جا ملے۔

ان کے اہل خانہ نے اس وقت ہی ان کا پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کردیا تھا، جس وجہ سے پولیس نے عدالت میں درخواست دائر کی تھی مگر عامر لیاقت کے بچوں نے عدالت میں بھی پوسٹ مارٹم کروانے سے انکار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: عدالت کا عامر لیاقت حسین کے پوسٹ مارٹم کا حکم

اہل خانہ کے انکار کے بعد عامر لیاقت کی 10 جون کو پوسٹ مارٹم کے بغیر عبداللہ شاہ غازی کے احاطے میں تدفین کردی گئی تھی مگر بعد ازاں ایک شہری نے ان کے پوسٹ مارٹم کے لیے درخواست دائر کی تو عدالت نے مرحوم کا پوسٹ مارتم کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی فیصلے کے بعد عامر لیاقت کی سابق اور پہلی اہلیہ ڈاکٹر بشریٰ اقبال نے اپنی پوسٹ میں مطالبہ کیا تھا کہ ان کے سابق شوہر کی قبر کشائی نہ کی جائے، انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ’شریعت مطہرہ بھی اس قبیح عمل، مردے کی چیر پھاڑ اور قبر کشائی کی اجازت نہیں دیتی، اللہ سب دیکھ رہا ہے، اس لیے ان کی روح کو تکلیف نہ دی جائے‘۔

ان کی پوسٹ کے بعد اگرچہ عام مداحوں نے بھی عامر لیاقت کا پوسٹ مارٹم نہ کروانے کا مطالبہ کیا تھا مگر شوبز شخصیات نے بھی ان کی قبر کشائی نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔

سینیئر اداکارہ بشریٰ اقبال نے بھی عامر لیاقت کی قبر کشائی نہ کرنے کا مطالبہ کیا، انہوں نے اپنی ویڈیو میں کہا کہ 'خدارا اب انہیں بخش دیں، انہیں تکلیف نہ دیں، ان کے بچوں اور اہل خانہ پر رحم کریں، ان کی قبر کو نہ کھولیں‘

اداکارہ نے مزید کہا کہ ایک عام شہری نے محض شہرت بٹورنے کے لیے پوسٹ مارٹم کی درخواست دائر کی،جسے میجسٹریٹ صاحب نے قبول کرلیا اور اب وہ عام شہری بہت خاص بن گئے ہیں، اس لیے ابھی اس شخص کی بات کو سائیڈ پر رکھیں اور عامر لیاقت کے اہل خانہ کا سوچیں اور عامر لیاقت کی قبر کو نہ ادھیڑیں‘۔

میزبان وسیم بادامی نے بھی عدالتی فیصلے پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ عدالت نے ایک نامعلوم شخص کی درخواست پر عامر لیاقت کی قبر کشائی کا حکم دیا۔

انہوں نے بھی اپنی ویڈیو میں کہا کہ وہ عدالتی فیصلے کے خلاف کوئی بات نہیں کر رہے لیکن وہ حیران ہیں کہ ایک نامعلوم شخص کی درخواست پر کیسے عامر لیاقت کی قبر کشائی کا حکم دیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ عامر لیاقت کے اہل خانہ نے اپنی مرضی اور عدالت میں جاکر یہ کہا کہ وہ ان کا پوسٹ مارٹم نہیں کروانا چاہتے، اس اب ان کے اہل خانہ کا احترام کرکے عامر لیاقت کی قبر کشائی نہ کی جائے۔

اداکارہ اشنا شاہ نے بھی عامر لیاقت کی قبر کشائی نہ کرنے کا مطالبہ کیا اور لکھا کہ ان کے بچوں کو مزید تکلیف دینے سے گریز کیا جائے۔

ایک وکیل نے بھی عامر لیاقت کی قبر کشائی کی مخالفت کی اور اپنی ٹوئٹ میں لکھاکہ ’کسی شخص نے اپنی مشہوری کی خاطر عدالت میں درخواست دائر کی اور مجسٹریٹ صاحب نے مرحوم عامر لیاقت کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا جو سراسر غیر قانونی و غیر اخلاقی ہے، انہوں نے مزید لکھا کہ مرحوم کے جسد خاکی کی بے حرمتی کر کے گھر والوں کو مزید تکلیف نہ دی جائے۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں