شمالی وزیرستان: پولیو وائرس سے 8 ماہ کا بچہ معذور ہوگیا

اپ ڈیٹ 25 جون 2022
خیبرپختونخوا پولیو سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی
خیبرپختونخوا پولیو سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

شمالی وزیرستان میں جمعے کے روز پولیو کا ایک اور کیس سامنے آنے کے بعد ملک میں رواں سال وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے جب کہ گزشتہ سال خطرناک وائرس کا ملک میں صرف ایک کیس سامنے آیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دوسری جانب صحت کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ پاکستان ان 4 ممالک میں شامل ہے جہاں وائلڈ پولیو وائرس (ڈبلیو پی وی) کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، پاکستان کے علاوہ ان ممالک میں افغانستان، موزمبیق اور ملاوی شامل ہیں۔

اس سال پاکستان میں سامنے آنے والے تمام پولیو کیسز شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہوئے ہیں، رپورٹ ہونے والے 11 کیسز میں سے 8 کا تعلق صرف میر علی کےعلاقے سے ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ میں پولیو وائرس کا ایک اور کیس سامنے آگیا

مستقل معذوری کا باعث بننے والی بیماری وائلڈ پی وی کا تازہ ترین شکار 8 ماہ کا بچہ ہےجس کا جسم مفلوج ہو گیا ہے۔

وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز کے عہدیدار کے مطابق متاثرہ بچے کا تعلق شمالی وزیرستان کے علاقے میر علی سے ہے۔

وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز کے عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ پاکستان پولیو پروگرام کی جانب سے کیے گئے ہنگامی اقدامات کے باعث خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں وائرس اب تک قابو میں ہے۔

وفاقی وزیر صحت عبدالقادر پٹیل کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں پورے ملک کے تعاون کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: ملک میں مزید 5 بچے پولیو کے باعث معذوری کا شکار بن گئے

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہر خاندان ہر مرتبہ اپنے بچوں کو پولیو ویکسین کے صرف 2 قطرے پلائے تو ہم تمام بچوں کو اس خطرناک وائرس سے بچا سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر صحت نے روایتی ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا، مذہبی اسکالرز اور معاشرے کے تمام طبقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ عوام میں پولیو ویکسین کے بارے میں شعور بیدار کرنے میں کردار ادا کریں۔

ڈبلیو ایچ او کا وی ڈی پی وی سے متعلق انتباہ

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پولیو وائرس کے عالمی پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بنائے گئے انٹرنیشنل ہیلتھ ریگولیشن (2005) کے تحت ہنگامی کمیٹی کے 32ویں اجلاس سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی۔

گزشتہ ہفتے منعقد کیے گئے اجلاس میں ڈبلیو پی وی ون اور پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے جاری ویکسین مہم (سی وی ڈی پی وی) سے حاصل ہونے والے پولیو ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا، اجلاس کے دوران افغانستان، جمہوریہ ری پبلک کانگو، اسرائیل، ملاوی، مقبوضہ فلسطین اور پاکستان کی صورتحال کے بارے میں ٹیکنیکل اپ ڈیٹس حاصل کی گئیں جب کہ اجلاس میں اریٹیریا اور یمن کی جانب سے وائرس سے متعلق تحریری اپڈیٹ فراہم کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: پولیو ویکسین کی کہانی: اس میں ایسا کیا ہے جو ہر سال 30 لاکھ زندگیاں بچاتی ہے

جاری کردہ رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے موزمبیق میں سامنے آنے والے دوسرے ڈبلیو پی وی ون کیس پر تشویش کا اظہار کیا جب کہ ملاوی میں وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا، دونوں کیسز کی جینیٹک سیکوئینسنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں کیسز پاکستان، افغانستان سے جولائی 2019 اور دسمبر 2020 کے درمیان درآمد ہوئے ہوئے۔

شمالی وزیرستان سے متعلق خدشات

کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں شمالی وزیرستان میں ڈبلیو پی وی ون کے حالیہ کیسز پر تشویش کا اظہار کیا۔

رپورت میں نوٹ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا کے جنوبی علاقے میں وائرس پر قابو پانے میں ناکامی کی بنیادی وجوہات میں سے ایک چیلنج امن و امان کی پیچیدہ صورتحال بھی ہے جس کے نتیجے میں تمام بچوں تک پولیو ٹیموں کی عدم رسائی، تمام بچوں کو قطرے پلانے میں ناکامی اور مہم کے دوران دیگر انتظامات بھی ناقص ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں: قطرے، انجکشن یا دونوں؟ پولیو ویکسین کے حوالے سے عام سوالات کے جوابات

رپورٹ میں مزید نشاندہی کی گئی ہے کہ مہم کے دوران والدین کی جانب سے مختلف وجوہات کی بنا پر قطرے پلانے سے انکار کے ساتھ کمیونٹی کی مزاحمت بھی شامل ہے جس میں ویکسینیشن کا بائیکاٹ اور بغیر ویکسین کے جعلی اندراج کیا جاتا ہے جب کہ خواتین فرنٹ لائن ورکرز کی کمی او ناقص و ناکافی ہیلتھ انفراسٹرکچر اور خدمات کی فراہمی جیسے چیلنجز درپیش ہیں.

کمیٹی نےعارضی سفارشات میں مزید 3 ماہ کی توسیع تجویز کی۔

عارضی سفارشات کے مطابق پاکستان سمیت پابندی والے ممالک سے سفر کے دوران ہر شخص کو پولیو ویکسینیشن کرانی ہوگی اور سفر کے دوران ویکسینیشن کارڈ بھی اپنے ساتھ رکھنا ہوگا۔

ضرور پڑھیں

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی میں اگر امن وامان، دیانت داری، فرض شناسی اور ذمہ داری کا احساس کرنے والی قیادت منتخب ہو جائے تو عوام کو اچھی سڑکیں، اسپتال، اسکول اور پانی تو نصیب ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں