نیند کا دورانیہ آپ کے دل کی صحت پر کتنا اثر انداز ہوتا ہے؟

اپ ڈیٹ 30 جون 2022
ڈاکٹر راج داس گپتا نے کہا کہ بالغ افراد کو ہر رات 7 سے 9 گھنٹے تک سونا چاہیے — اے ایف پی فوٹو
ڈاکٹر راج داس گپتا نے کہا کہ بالغ افراد کو ہر رات 7 سے 9 گھنٹے تک سونا چاہیے — اے ایف پی فوٹو

مکمل اور پرسکون نیند کے متعدد فوائد گنوائے جاتے رہے ہیں لیکن اب ماہرین نے اسے دل کی بہتر صحت کے اہم محرکات میں بھی شامل کرلیا ہے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن (اے ایچ اے) نے اپنی صحتِ قلب کے ضروری محرکات کی فہرست میں نیند کا دورانیہ شامل کردیا ہے، یہ ’لائفس اسینشل 8‘ نامی ایک سوالنامے کا حصہ ہے جو کسی شخص کی صحتِ قلب کا تعین کرنے کے لیے 8 اہم محرکات کی پیمائش کرتا ہے۔

تازہ ترین فہرست اے ایچ اے کے نظرثانی شدہ جریدے سرکولیشن میں شائع ہوئی اور اس نے ایسوسی ایشن کے ’لائفس سمپل 7‘ سوالنامے کی جگہ لے لی جو 2010 سے استعمال ہو رہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: اکثر نیند نہیں آتی؟ تو آپ کے لیے جلد موت کا خطرہ بڑھ سکتا ہے

نیند کے علاوہ اس نئی فہرست میں پرانے 7 محرکات برقرار ہیں جن میں خوراک، جسمانی سرگرمی، نیکوٹین کی موجودگی، باڈی ماس انڈیکس، بلڈ لپڈز، بلڈ گلوکوز اور بلڈ پریشر شامل ہیں۔

اے ایچ اے کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر ایڈورڈو سانچیز کے مطابق نیند کا دورانیہ اس فہرست میں اس وقت شامل کیا گیا جب محققین نے پچھلی دہائی کے دوران نئے سائنسی نتائج کا جائزہ لیا جس میں پایا گیا کہ نیند دل کی صحت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ڈاکٹر ایڈورڈو سانچیز نے کہا کہ جو لوگ نیند کا مناسب دورانیہ مکمل نہیں کرتے ان میں موٹاپا، بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے مسائل کا امکان زیادہ ہوتا ہے‘۔

مکمل اور پرسکون نیند سے کیا مراد ہے؟

لاس اینجلس میں یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے کیک سکول آف میڈیسن کے کلینکل ایسوسی ایٹ پروفیسر اور نیند کے ماہر ڈاکٹر راج داس گپتا نے کہا کہ بالغ افراد کو ہر رات 7 سے 9 گھنٹے تک سونا چاہیے۔

ڈاکٹر راج دا گپتا امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن کے ترجمان بھی ہیں، انہوں نے کہا کہ ’فوائد حاصل کرنے کے لیے لوگوں کو معیاری نیند لینے کی ضرورت ہے‘۔

ڈاکٹر راج داس گپتا نے کہا کہ ایک شخص آنکھوں کی تیز نقل و حرکت کے سبب نیند کے متعدد چکروں سے گزرتا ہے۔

مزید پڑھیں: نیند کی کمی سے ہونے والے 23 نقصانات

انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ نیند کے 3 مراحل ہیں اور تیسرے میں آپ گہری نیند میں داخل ہوجاتے ہیں جو جسم کو ذہنی اور جسمانی طور پر بحال کرتی ہے۔

ڈاکٹر راج داس گپتا نے کہا کہ اگر بار بار آپ کی آنکھ کھلتی رہی تو یہ آپ کو گہری نیند میں جانے سے روک دے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہائی بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کی سطح میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے جس کا تعلق ذیابیطس اور موٹاپے سے ہے۔

ڈاکٹر راج داس گپتا نے کہا کہ یہ صورتحال صحت قلب کو کمزور کرنے اور حرکت قلب بند ہونے کے خطرات کو بڑھادیتی ہے۔

تبصرے (1) بند ہیں

فاروق لاری Jun 30, 2022 11:35pm
کراچی شہر میں 7 سے 9 گھنٹے پر سکون نیند نہ ممکن ۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سونے نہیں دیتی