13 سال کی بُلند ترین مہنگائی، شرح سود میں 125 بیسس پوائنٹس کا اضافہ متوقع ہے، ماہرین

اپ ڈیٹ 05 جولائ 2022
<p>یوسف نذر کا کہنا تھا کہ شرح سود میں مزید اضافہ حکومت کی ڈیٹ سروسنگ کی لاگت میں اضافہ کرنے کے ساتھ صنعتوں پر بھی منفی اثرات مرتب کرے گا — فائل فوٹو: اے پی پی</p>

یوسف نذر کا کہنا تھا کہ شرح سود میں مزید اضافہ حکومت کی ڈیٹ سروسنگ کی لاگت میں اضافہ کرنے کے ساتھ صنعتوں پر بھی منفی اثرات مرتب کرے گا — فائل فوٹو: اے پی پی

ماہرین معیشت اور مارکیٹ پر نظر رکھنے والے ماہرین کے اوسط کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) جمعرات کو جائزہ اجلاس میں بنیادی شرح سود میں 125 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرسکتا ہے تاکہ ملک میں جاری 13 سال کی بُلند ترین مہنگائی پر قابو پایا جاسکے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق ایس بی پی کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے حوالے سے کیے گئے سروے میں ماہرین اقتصادیات، تجزیہ کار اور سینئر پروفیسرز تقسیم نظر آئے، کچھ ماہرین شرح سود میں 50 سے 200 بیسس پوائنٹس اضافے کی توقع کر رہے ہیں جبکہ کچھ کے مطابق پالیسی ریٹ میں اضافے کی ضرورت نہیں ہے۔

مرکزی بینک نے مئی میں بینچ مارک شرح سود میں 150 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا تھا، افراط زر پر قابو پانے کے لیے ایس بی پی اس سال اب تک 400 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرچکا ہے۔

پاکستان معاشی بدحالی، غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور روپے کی قدر میں کمی جسے مسائل سے نبرد آزما ہے، جمعہ کو جاری کنزیومر پرائس انڈیکس کے مطابق جون میں مہنگائی 21.3 فیصد بڑھ چکی ہے جس کی بنیادی وجہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہے کیونکہ حکومت نے مہنگی سبسڈی کو ختم کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود ڈیڑھ فیصد اضافے کے بعد 13.75 فیصد ہوگئی

مرکزی بینک کے موجودہ پالیسی ریٹ 13.75 فیصد کے مقابلے میں افراط زر کافی زیادہ ہے جبکہ معیشت میں حقیقی شرح سود منفی ہوچکی ہے۔

سٹی گروپ کے سابق ماہر معیشت یوسف نذر کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی کا آخری اجلاس اس بات کا ثبوت ہے کہ مرکزی بینک متوقع مہنگائی کے حوالے سے بہت پیچھے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شرح سود میں مزید اضافہ حکومت کی ڈیٹ سروسنگ کی لاگت میں اضافہ کرنے کے ساتھ صنعتوں پر بھی منفی اثرات مرتب کرے گا، اس سے شرح تبادلہ اور مجموعی طلب پر زیادہ اثر نہیں ہوگا۔

زیادہ تر ماہرین کو یقین ہے کہ بنیادی شرح سود میں اضافہ ناگزیر ہے کیونکہ عالمی منڈی میں توانائی کی مستقل زیادہ قیمتیں اور اس کے نتیجے میں ایندھن پر اچانک سبسڈی ختم کرنے کے ساتھ طلب کو بھی کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے، جیسا کہ مرکزی بینک نے پچھلی زری پالیسی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس میں کہا تھا کہ مالی سال 22 میں شرح نمو توقع سے زیادہ رہی۔

مزید پڑھیں: نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 9.75فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

میکرو اکنامک انسائٹس کے چیف ایگزیکٹو ثاقب شیرانی نے کہا کہ مجموعی پالیسی مکس معاشی استحکام اور طلب پر قابو پانے کی طرف لے جائے گی، اس کے سبب معیشت میں فوری طور پر مندی آئے گی اور قلیل عرصے کے لیے کساد بازاری بھی ہوسکتی ہے۔

اسمٰعیل اقبال سیکوریٹریز کے محقق فہد رؤف نے بتایا کہ وہ پالیسی ریٹ میں مزید اضافہ نہیں دیکھتے، معیشت پہلے ہی سست روی کا شکار ہو رہی ہے، لاگت میں اضافہ صنعتوں اور مزدوروں پر بوجھ میں اضافہ کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مالیاتی پالیسی کے متعلق سخت اقدامات اٹھائے جاچکے ہیں لہٰذا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو مزید سخت زری پالیسی اقدامات کرنے سے پہلے انتظار کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک میں مہنگائی 13 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

پاکستان، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بیل آؤٹ پیکیج کی بحالی کے لیے سخت فیصلے پہلے ہی کر چکا ہے تاکہ ملکی معیشت میں استحکام آسکے، مرکزی بینک کی جانب سے کیے جانے والے فیصلوں کا قریب سے جائزہ لیا جارہا ہے۔

بنیادی شرح سود کی توقع کے حوالے سے ماہرین کی رائے:

  • اسمٰعیل اقبال سیکیورٹیز: کوئی تبدیلی نہیں
  • زبیر فیصل عباسی، پبلک پالیسی ماہر: 125 بیسس پوائنٹس
  • خرم حسین، پرافٹ میگزین: 100 سے 150 بیسس پوائنٹس
  • عارف حبیب لمیٹڈ: کوئی تبدیلی نہیں
  • ٹاپ لائن سیکیورٹیز: 100 سے 150 بیسس پوائنٹس
  • بی ایم اے کیپیٹل: 50 سے 100 بیسس پوائنٹس
  • ڈاکٹر اقصد افضال، معیشت دان: 150 بیسس پوائنٹس
  • پروفیسر یوسف نذر، معیشت دان: 150 بیسس پوائنٹس
  • میکرو اکنامک انسائٹس: 150 سے 200 بیسس پوائنٹس
  • عمار خان ، آزاد معیشت دان: 125 بیسس پوائنٹس

تبصرے (0) بند ہیں