پنجاب کے ضمنی انتخابات کی دلچسپ صورتحال پر ایک نظر

اپ ڈیٹ 16 جولائ 2022
لکھاری صحافی ہیں۔
لکھاری صحافی ہیں۔

یہ انتخابات کے دن ہیں اور 17 جولائی کو 20 نشستوں کی لیے بازی لگے گی۔ اس کا نتیجہ محض پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مقبولیت یا پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حمایت پر مہنگائی کے اثرات کے حوالے سے ایک ریفرنڈم نہیں ہوگا بلکہ یہ لاہور اور اسلام آباد میں مستقبل کی سیاست کا بھی تعین کرے گا۔

اس صورتحال میں ایک چیز ہے جو سیاسی تقسیم، معاشی بحران اور عمران خان کے تند و تیز بیانات سے زیادہ نقصاندہ ہے۔ یہ چیز وہ غیر فطری اتحاد ہے جو سیاسی جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ (ن) کو مجبوراً قبول کرنا پڑا ہے۔ اکثر حلقوں میں مسلم لیگ (ن) کا امیدوار اس کا روایتی حریف ہے، یہی وجہ ہے کے مسلم لیگ (ن) مہنگائی کے علاوہ دیگر وجوہات کی وجہ سے بھی مشکل کا شکار ہے۔

ایک جانب جہاں عمران خان نے جارحانہ انداز اختیار کیا ہوا ہے وہیں دوسری جانب مسلم لیگ (ن) اقتدار کے مزے اڑا رہی ہے۔ صحافیوں اور مقامی افراد کا بتانا ہے کہ ضمنی انتخاب والے حلقوں میں لوڈشیڈنگ کم ہورہی ہے، یوٹیلیٹی اسٹورز کی اشیا فروخت کرتے ٹرک بھی علاقے میں موجود ہیں اور وہاں ترقیاتی کام بھی ہورہے ہیں۔ اس کے علاوہ اگر کوئی کام ہورہا ہے تو شاید وہی ہے جس کا الزام پی ٹی آئی نامعلوم افراد پر لگا رہی ہے۔

اس وقت پی ٹی آئی کی لہر چل رہی ہے، اگرچہ اس نے ان انتخابات کے لیے الیکٹیبلز کو چنا ہے تاہم ان میں کچھ نظریاتی لوگ بھی ہیں۔ پی ٹی آئی جلسے تو بڑے کررہی ہے لیکن اس حوالے سے خدشات برقرار ہیں کہ آیا یہ ووٹروں کو پولنگ اسٹیشنوں تک لاسکتی ہے یا نہیں، خاص طور پر جب دوسری طرف سے اس کام کو مشکل بنانے کی تیاری کی جارہی ہو۔

مزید پڑھیے: ڈسکہ کے ضمنی انتخاب کا آنکھوں دیکھا حال

ہم یہاں ان نشستوں میں سے کچھ کا ذکر کرتے ہیں جن پر 17 جولائی کو انتخاب ہونا ہے۔ ہم نے ان نشستوں کا انتخاب کسی خاص وجہ سے نہیں کیا اور ہم یہاں کتنی نشستوں پر بات کرتے ہیں اس کا انحصار الفاظ کی قید پر ہے۔

لاہور میں 4 حلقوں میں انتخاب ہورہا ہے اور اگر مبصرین کی رائے پر یقین کیا جائے تو ایک نشست پر مسلم لیگ (ن) کے اسد کھوکر باآسانی جیت سکتے ہیں البتہ دیگر 3 نشستوں پر سخت مقابلے کی امید ہے۔

اس وقت سب سے دلچسپ نشست پی پی 158 ہے۔ یہ عمران خان کے پرانے ساتھی علیم خان کی نشست تھی۔ کہا جارہا ہے کہ علیم خان اس سیٹ پر اپنے بھروسے کے فرد شعیب صدیقی کے لیے ٹکٹ کے خواہاں تھے لیکن مسلم لیگ (ن) نے ان پر اپنی جماعت کے فرد رانا احسن شرافت کو ترجیح دی جنہیں 2018ء کے انتخابات میں یہاں سے شکست ہوئی تھی۔ علیم خان کو مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے لیے مہم چلاتے نہیں دیکھا گیا اور کچھ ایسی افواہیں بھی ہیں کہ وہ امیدوار کے انتخاب سے ناراض ہیں۔

پی ٹی آئی نے اس حلقے کے لیے میاں محمود الرشید کے داماد اکرم عثمان کو ٹکٹ دیا ہے۔ صحافیوں جن میں حبیب اکرم اور اجمل جامی بھی شامل ہیں نے اس حلقے کا دورہ کیا ہے اور ان کے مطابق مہنگائی کے باعث حلقے میں پی ٹی آئی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کابینہ سے ایاز صادق کے استعفے کو مسلم لیگ (ن) کی گھبراہٹ سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ یہ سمجھا جارہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اس علاقے میں مہم چلانے کے لیے اپنے سینیئر رہنماؤں کی خدمات حاصل کرنا چاہتی ہے۔

دیگر 2 حلقوں پی پی 167 اور پی پی 170 میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر پی ٹی آئی کے سابق منحرف اراکین نذیر چوہان اور امین ذوالقرنین (عون چودھری ہے بھائی) کھڑے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی کی مقبولیت اور مسلم لیگ (ن) کے کیمپ میں موجود عدم اطمینان کے باعث یہ دونوں ہی مشکل میں ہیں۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ نذیر چوہان نے تو عوامی سطح پر اس بات کی شکایت کی ہے کہ انہیں حکمران جماعت کی جانب سے مدد نہیں مل رہی۔ امین ذوالقرنین پی ٹی آئی کے ظہیر عباس کھوکھر کا مقابلہ کریں گے جو پہلے بھی ایم پی اے رہ چکے ہیں اور سیاسی طور پر اثر و رسوخ رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔

لاہور سے آگے بڑھ کر راولپنڈی پر نظر ڈالتے ہیں جہاں پی پی 70 میں راجہ صغیر احمد اور کرنل (ر) شبیر اعوان کے درمیان مقابلہ ہے۔ راجہ صغیر 2018ء کے انتخابات میں بحیثیت آزاد امیدوار 44 ہزار ووٹ حاصل کرکے فتح یاب ہوئے تھے اور پھر انہوں نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی تھی، یہ بھی منحرفین میں شامل تھے۔ اب وہ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنے والے شبیر اعوان ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) میں تھے جنہوں نے 2013ء میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ اپنی مشہور زمانہ ویڈیو میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر الاسلام انہی کی حمایت میں بات کرتے ہوئے نظر آرہے تھے۔

کہا جارہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے راجہ ظفر الحق اپنی پارٹی کے امیدوار کی حمایت نہیں کررہے کیونکہ 2018ء میں یہاں سے ان بیٹا کا امیدوار تھا۔

شیخوپورا کے پی پی 140 میں پی ٹی آئی کے سابق رکن میاں خالد محمود اب مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر لڑرہے ہیں۔ وہ ماضی میں مسلم لیگ (ق) میں بھی رہ چکے ہیں۔ اس مرتبہ ان کا مقابلہ پی ٹی آئی کے خرم وِرک سے ہے۔ اگرچہ اس علاقے میں مسلم لیگ (ن) مضبوط ہے لیکن پھر بھی شہری علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں پی ٹی آئی کو کچھ امید ضرور ہے۔ یہ اطلاعات بھی موجود ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی مقامی قیادت خالد محمود کے حق میں نہیں ہے۔

مزید پڑھیے: نئی حکومت کے لیے ’آگے کنواں، پیچھے کھائی‘

اسی طرح ایک نشست فیصل آباد کی پی پی 97 بھی ہے۔ 2018ء میں یہاں سے اجمل چیما بحیثیت آزاد امیدوار جیتے تھے اور بعد میں پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے تھے۔ وہ ویسے تو پی ٹی آئی میں ہی شامل تھے لیکن انہوں نے انتخاب آزاد لڑا تھا کیونکہ ٹکٹ کسی اور کو دیا گیا تھا۔ ان کا مقابلہ پی ٹی آئی کے علی افضال ساہی سے ہے جو 2018ء میں تقریباً 5 ہزار ووٹوں کے فرق سے دوسرے نمبر پر تھے۔ 2018ء میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کا تیسرا نمبر تھا اور اس مرتبہ انہیں اجمل چیما کی حمایت میں بیٹھ جانے پر قائل کرلیا گیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ یہاں تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کو بھی کچھ حمایت حاصل ہے۔

جھنگ میں 17 جولائی کو 2 نشستوں پر ضمنی انتخابات ہورہے ہیں۔ پی پی 125 میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر فیصل حیات جبوانہ پی ٹی آئی کے اعظم چیلا کا مقابلہ کریں گے۔ یہ حلقہ زیادہ تر دیہی علاقے پر مشتمل ہے۔ فیصل حیات نے بحیثیت آزاد امیدوار 50 ہزار ووٹ لے کر 2018ء کے انتخابات میں فتح حاصل کی تھی اور پھر پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے تھے۔ یہ بھی منحرف اراکین میں شامل تھے۔ دوسری جانب اعظم چیلا 2018ء میں بھی تحریک انصاف کے امیدوار تھے۔

اس کے ساتھ موجود پی پی 127 میں مہر اسلم بھروانہ 2018ء میں آزاد حیثیت میں جیتے تھے اور پھر پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے تھے۔ منحرف ہونے کے بعد انہوں نے مسلم لیگ (ن) کا ٹکٹ حاصل کرلیا ہے اور اب مہر نواز بھروانہ کا مقابلہ کریں گے جو 2018ء میں بھی پی ٹی آئی کے امیدوار تھے۔ 2018ء کے انتخابات میں اس حلقے میں جیت کا فرق ایک ہزار ووٹوں سے بھی کم کا تھا۔ آنے والے انتخابات میں پیر آف سیال اور شیخ وقاص اکرم سیال نے بھی پی ٹی آئی کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ ڈیزل کی قیمتوں کی وجہ سے کہا جارہا ہے کہ دیہی حلقوں میں مہنگائی ایک اہم عنصر ثابت ہوسکتی ہے۔

لودھراں میں بھی 2 حلقوں میں انتخاب ہورہا ہے۔ پی پی 228 میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار نذیر احمد بلوچ ہیں جو پی ٹی آئی سے منحرف ہوئے ہیں۔ یہ ایک معروف مقامی گھرانے سے ہیں اور ان کا مقابلہ پہلی مرتبہ انتخاب لڑنے والے پی ٹی آئی کے امیدوار عزت جاوید خان سے ہے جنہیں ایک کمزور امیدوار کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ تاہم 2018ء میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر لڑنے والے سید رفیع الدین بخاری جنہیں صرف 3 ہزار ووٹوں سے شکست ہوئی تھی اس مرتبہ آزاد حیثیت میں انتخاب لڑرہے ہیں۔

یہاں ایک دوسرا پیچیدہ عنصر مقامی الیکٹیبل گروہ کا ہے جن کی قیادت وفاقی وزیر عبدالرحمٰن کانجو کررہے ہیں۔ یہ لوگ نذیر بلوچ کے حوالے سے پس و پیش کا شکار ہیں کیونکہ وہ جہانگیر ترین کے ساتھی ہیں۔ اس کے علاوہ صدیق بلوچ جو انتخابات میں جہانگیر ترین کا مقابلہ کرچکے ہیں اور کانجو گروپ کے ساتھ ہیں وہ نذیر بلوچ کی حمایت نہیں کررہے۔

مزید پڑھیے: آزاد کشمیر میں انتخابی عمل کا آنکھوں دیکھا حال

اس کے ساتھ والے حلقے پی پی 224 میں ایک دلچسپ صورتحال ہے۔ اگرچہ اس مرتبہ امیدوار تو وہی پہلے والے ہیں مگر مختلف ٹکٹ کے ساتھ۔ زوار حسین وڑائچ جو پہلے پی ٹی آئی کے ساتھ تھے اب مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر انتخاب لڑرہے ہیں جبکہ اس مرتبہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے والے عامر اقبال شاہ پہلے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ تھے۔ زوار حسین وڑائچ نے 2002ء میں سیاست میں قدم رکھا تھا جبکہ عامر شاہ ایک معروف گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور ماضی میں ترین خاندان کو شکست دے چکے ہیں۔ اس علاقے میں آرائیوں کے بھی خاصے ووٹ ہیں اور کہا جارہا ہے کہ وہ اور کانجو گروپ اس مرتبہ اقبال شاہ کے ساتھ ہیں۔

مظفرگڑھ میں پی پی 272 سے پی ٹی آئی کے منحرف رکن قومی اسمبلی باسط بخاری کی اہلیہ انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں۔ اس سے قبل باسط بخاری کی والدہ اس حلقے سے ایم پی اے تھیں۔ ان انتخابات میں باسط بخاری کے بھائی بھی امیدوار ہیں جبکہ پی ٹی آئی نے سردار معظم جتوئی کو ٹکٹ دیا ہے۔ یہاں امکان ہے کہ خاندانی اختلافات ووٹ کو تقسیم کردیں گے۔ معظم جتوئی ایک مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھے جارہے ہیں اور انہیں پی پی پی کی قدآور شخصیت قیوم جتوئی کی حمایت بھی حاصل ہے۔

اس کے ساتھ والے حلقے میں پی ٹی آئی کے یاسر جتوئی کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کے سبطین شاہ ایک مضبوط امیدوار ہیں لیکن حلقے میں عمران خان کے ایک بڑے جلسے نے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔

اتوار کا دن ہماری ملکی سیاست کے لیے متعدد صورتوں میں ایک تناؤ کا دن ہوگا۔


یہ مضمون 14 جولائی 2022ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

تبصرے (0) بند ہیں