پہلی بار ایچ آئی وی سے متاثر ضعیف مریض صحت یاب

اپ ڈیٹ 02 اگست 2022

دنیا میں پہلی بار ایچ آئی وی (ہیومن امیونو ڈیفیشنسی وائرس) اور (لیوکیمیا) بلڈ کینسر سے متاثر ضعیف ترین شخص پیچیدہ سیل ٹرانسپلانٹ کے بعد صحت یاب ہوگیا، جس پر ماہرین نے امید کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح کا طریقہ علاج موذی امرض کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے۔

امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق حال ہی میں کینیڈا میں ایچ آئی وی پر ہونے والی عالمی کانفرنس کے موقع پر امریکا میں کیے جانے والے علاج سے متعلق بتایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق کیلیفورنیا کے شہر ڈوارٹے کے سٹی آف ہوپ نیشنل کینسر ہسپتال‘ میں 66 سالہ مریض کا پیچیدہ ترین سیل ٹرانسپلانٹ کیا گیا جو کہ ایک طرح سے جین ایڈیٹنگ کی طرح ہوتا ہے، جس کے بعد مریض ایچ آئی وی اور بلڈ کینسر سے صحت یاب ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کا پہلا ایچ آئی وی پوزیٹو اسپرم بینک قائم

رپورٹ میں بتایا گیا کہ جس شخص کا ٹرانسپلانٹ کیا گیا وہ 1988 میں اس وقت ایچ آئی وی کا نشانہ بنا تھا جب مذکورہ وائرس کی دنیا میں پہلی بار تشخیص ہوئی تھی، یعنی وہ مذکورہ مرض میں مبتلا ہونے والے ابتدائی مریضوں میں سے ایک تھے۔

پیچیدہ علاج کے بعد صحت یاب ہونے والے 66 سالہ شخص نے اپنی زندگی کا نصف سے زیادہ حصہ ایچ آئی وی میں گزارا جب کہ انہیں کچھ عرصہ قبل بلڈ کینسر بھی لاحق ہوگیا تھا۔

ماہرین نے ان کا ٹرانسپلانٹ ایک نامعلوم یورپی شخص کی جانب سے عطیہ کردہ انتہائی نایاب سیل (خونی خلیات) کے ذریعے کیا اور ان کے جسم میں عطیہ کردہ خلیات شامل کیے اور مذکورہ طریقہ علاج انتہائی پیچیدہ سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ اس ٹرانسپلانٹ میں ایک طرح سے جین ایڈیٹنگ کی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق متاثرہ شخص میں عطیہ کرنے والے شخص کے خون میں پائے جانے والے سیل (CCR5-delta 32) کو ٹرانسپلانٹ کیا گیا، جس نے مریض کے جسم کے مدافعتی نظام میں جاکر اس سیل کے دروازے بند کردیے جو کہ خون میں ایچ آئی وی وائرس کو جانے کی اجازت دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ایڈز کے علاج کی بنائی گئی واحد ویکسین کی آزمائش ناکام

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مریض کا ٹرانسپلانٹ 2019 میں کیا گیا تھا جس کے بعد بھی متاثرہ شخص کچھ عرصے تک ایچ آئی وی سے بچاؤ کی دوائیاں استعمال کرتا رہا لیکن کورونا کی ویکسین لگوانے کے بعد انہوں نے تمام دوائیاں لینا بند کردی تھیں اور گزشتہ ڈیڑھ سال سے وہ کسی طرح کی دوائیاں نہیں لے رہا اور مکمل صحت یاب ہے۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ شخص ایچ آئی وی اور بلڈ کینسر سے مذکورہ طریقہ علاج سے صحت یاب ہونے والا دنیا کا ضعیف ترین مریض ہے اور ان سے قبل اسی طرح کے طریقہ علاج سے مجموعی طور پر تین دیگر ایچ آئی وی اور بلڈ کینسر کے مریض بھی صحت یاب ہوچکے تھے۔

ان سے پہلے ٹیموتھی رے براؤن نامی شخص بھی اسی طرح کے طریقہ علاج سے صحت ہوئے تھے مگر اکتوبر 2020 میں 54 سال کی عمر وہ بلڈ کینسر سے ہلاک ہوگئے تھے۔

تبصرے (0) بند ہیں