بھارت: اسلامی کلمہ پڑھانے پر نجی اسکول کو تفتیش کا سامنا

اپ ڈیٹ 02 اگست 2022
<p>— فوٹو: ٹوئٹر</p>

— فوٹو: ٹوئٹر

بھارت کے شہر کانپور کے نجی اسکول میں اسلامی کلمہ اور دیگر مذاہب کی دعائیں پڑھانے پر مذہب کی تبدیلی کے متنازع قانون کے تحت پولیس کی جانب سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق سوشل میڈیا پر ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کانپور میں واقع فلوریٹس انٹرنیشنل اسکول کے طلبہ مختلف مذاہب کی دعائیں پڑھ رہے ہیں، جن میں ہندومت، اسلام، سکھ مت اور عیسائی مذہب شامل ہے۔

ہندو والدین اور متعدد ہندو تنظیموں نے شہر میں اس کے خلاف ہفتے کو مظاہرہ کیا تھا۔

بھارت میں مذہب کا معاملہ طویل عرصے سے تنازع کی وجہ رہا ہے، ہندو اکثریت والے ملک میں دنیا کی دوسری بڑی مسلم آبادی بھی رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت: بی جی پی یوتھ ونگ کے رہنما مسلم مخالف تبصروں پر گرفتار

رپورٹ کے مطابق فرقہ وارانہ کشیدگی بعض اوقات عروج پر ہوتی ہے، حالیہ برسوں میں ہندو انتہاپسند گروپس کے ساتھ وزیراعظم نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیر انتظام مقامی حکومتوں نے مذہب تبدیل کرنے کے خلاف حملوں کو تیز کردیا ہے۔

یہ اسکول اتر پردیش میں واقع ہے جہاں بی جے پی کی حکومت ہے، اس ریاست میں پیشگی منظوری کے بغیر تمام مذہب کی تبدیلی جرم قرار دینے والا قانون منظور کیا گیا تھا، اس قانون کے بارے میں ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ہندو والدین کے اس الزام کے بعد کہ اسکول طلبہ کو اسلام قبول کرنے کے لیے تیار کر رہا ہے، اسکول کے منیجر سے مذہبی عقائد کی توہین کرنے کے قانون کے تحت تفتیش کی جارہی ہے۔

کانپور کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس نشانک شرما نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ ہندو والدین کی جانب سے شکایت ملنے کے بعد کارروائی کی ہے، جنہوں نے اسلامی کلمے پڑھانے کے خلاف اعتراض کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات جاری ہیں لیکن اب تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت: بی جے پی رہنما سے متعلق خبر دینے پر پولیس کا صحافی پر برہنہ کرکے تشدد

پولیس افسر نے بتایا کہ شکایت کے بعد اسکول میں مذہبی مواد پڑھانے کے عمل کو روک دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسکول نے مذہب تبدیل کرانے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ متعدد مذاہب کی دعائیں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے پڑھائی جا رہی ہیں، جس کا مقصد طلبہ میں مذہبی ہم آہنگی کا احساس پیدا کرنا تھا۔

اسکول کے پرنسپل انکیتا یادیو نے رپورٹرز کو بتایا کہ ہم اس رواج پر 2003 سے عمل کررہے ہیں، والدین کی شکایت کے بعد ہم نے یہ عمل روک دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہندو تنظیموں نے دعویٰ کیا تھا کہ اسلامی گروپ بھارت میں مسلم آبادی بڑھانے کے لیے ہندوؤں کے مذہب کو تبدیل کرنے کی سازش کر رہے ہیں، جس کے بعد ان ریاستوں میں مذہب کی تبدیلی کے خلاف قوانین منظور کیے ہیں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں