سندھ کے تمام تعلیمی اداروں میں 18 اگست کو تعطیل کا اعلان

اپ ڈیٹ 18 اگست 2022
<p>— فائل فوٹو: ٹوئٹر</p>

— فائل فوٹو: ٹوئٹر

حکومت سندھ نے بارش کی صورتحال کے پیش نظر صوبے کے تمام تعلیمی اداروں میں 18 اگست کو تعطیل کا اعلان کر دیا۔

وزیر تعلیم سندھ سید سردارعلی شاہ نے ٹوئٹ میں بتایا کہ شدید بارشوں کے پیش نظر آج (جمعرات) 18 اگست کو سندھ بھر کے تعلیمی اداروں میں تعطیل کا اعلان کیا ہے۔

وزیر تعلیم سندھ کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن اور کالجز کے ماتحت تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج یعنی جمعرات کو بند رہیں گے۔

قبل ازیں، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کے دفتر سے جاری حکم نامے میں بتایا گیا کہ محکمہ موسمیات نے سندھ بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی ہے لہٰذا 18 اگست کو حیدرآباد میں تمام نجی اور سرکاری اسکولوں میں تعطیل ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: موسلادھار بارش، حکومت سندھ کا کراچی اور حیدرآباد میں عام تعطیل کا اعلان

اسی طرح اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ شہر میں حالیہ بارشوں کے پیش نظر 18 اگست کو انٹرمیڈیٹ کے ہونے والے سالانہ امتحانات اور پریکٹیکل ملتوی کر دیے۔

جبکہ تمام ملتوی شدہ پرچے 25 اگست کو انہی مراکز پر ہوں گے۔

ملیر میں موسلا دھار بارشوں سے متعدد دیہات زیرآب، خاتون ڈوب کر جاں بحق

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) ملیر عرفان بہادر نے بتایا کہ ملیر میں جاری موسلا دھار بارش کے باعث متعدد دیہات زیر آب آگئے جبکہ ایک خاتون ڈوب کر جاں بحق ہوگئیں تاہم 2 بچوں کو بچا لیا گیا۔

سینئر افسر کا کہنا تھا کہ ملیر کے مضافات میں 3 گھنٹے سے زائد تیز بارش اور کھیرتھر رینج کے پہاڑیوں سے آنے والے بارش کے پانی نے ڈیموں اور موسمی ندیوں کو اوور فلو کر دیا، جس کے نتیجے میں تقریباً پانچ دیہات زیر آب آگئے، پولیس نے مکینوں کو بچا کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔

عرفان بہادر نے بتایا کہ ان کے پاس موریو خان ​​گوٹھ میں ایک خاتون اور 2 بچوں کے ڈوبنے کی اطلاع ہے، پانی کی سطح کسی حد تک کم ہونے پر پولیس اور اہل علاقہ نے 2 بچوں کو بحفاظت نکال لیا، تاہم ایک خاتون ڈوب کر جاں بحق ہوگئی۔

دوسری جانب میمن گوٹھ کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) عتیق رحمان نے بتایا کہ ملیر لنک روڈ پر ایک آلٹو کار مبینہ طور پر ڈوب گئی، پانی کا تیز بہاؤ اسے بہا کر لے گیا۔

ایس ایچ او نے بتایا کہ وہ علاقے میں موجود تھے لیکن ابھی تک انہیں گاڑی کا کوئی سراغ نہیں ملا کیونکہ وہاں پانی کی سطح بہت زیادہ تھی۔

تبصرے (0) بند ہیں