ٹوئٹر کے سیکیورٹی سسٹم میں مداخلت کی بھارتی کوششوں کی رپورٹس پر پاکستان کا اظہار تشویش

اپ ڈیٹ 30 اگست 2022
<p>—فوٹو: کریٹو کامنس</p>

—فوٹو: کریٹو کامنس

پاکستان نے پیر کو بین الاقوامی میڈیا سے آنے والی ان رپورٹسں پر 'سنگین تشویش' کا اظہار کیا کہ بھارتی حکومت نے ٹوئٹر کے سیکیورٹی سسٹم میں خلل ڈالنے کی کوشش کی ہے اور اسے بھارتی ’ایجنٹ، نمائندے‘ کو ملازمت دینے پر مجبور کیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹوئٹر پر ’آڈیو اسٹیشن‘ فیچر کی آزمائش، پوڈکاسٹ بھی سنے جا سکیں گے

ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے بیان میں کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ٹوئٹر کی طرف سے بھارتی پارلیمان کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی کے سامنے اس معاملے پر بریفنگ دی گئی جہاں ٹوئٹر کے ایک سابق ملازم کی طرف سے امریکا میں دیے گئے قانونی بیانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے غیرقانونی اعتراضات کی وجہ سے کشمیری سیاسی رہنماؤں اور صحافیوں سمیت متعدد ٹوئٹراکاؤنٹس بلاک کیے گئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے ایک مہینہ قبل ہی پاکستانی سفارتی مشن کے کئی ارکان اور ریڈیو پاکستان کے ٹوئٹراکاؤنٹس تک رسائی روکنے پر بھارتی حکومت کے خلاف احتجاج ریکارڈ کیا تھا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان انٹرنیٹ کے دائرے میں ہیرا پھیری اور زبردستی قابو کرنے کے لیے بھارت کی جانب سے ریاستی طاقت کے بے دریغ استعمال اور ہتھکنڈوں کی مذمت کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: بھارت میں فیس بک پر گستاخانہ پوسٹ کے معاملے پر پاکستان کا شدید احتجاج

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائیاں نہ صرف بین الاقوامی معیارات، ذمہ داریوں، اصولوں اور معلومات کی فراہمی کے فریم ورک کے خلاف ہیں لیکن اس عمل نے بھارت میں آزاد آوازوں اور بنیادی آزادیوں پرعائد پابندی میں بھی تیزی خطرناک رجحان ظاہر کررہا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے پڑوسی ملک سے پاکستان کے سفارتی مشن کے ارکان اور ریڈیو پاکستان کے ٹوئٹراکاؤنٹس کی بندش کے عمل کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے بیان کردہ آزادی اظہار کے بین الاقوامی اصولوں اور معیارات کی پاسداری کی جائے اورعالمی انٹرنیٹ ڈومین کو کنٹرول کرنے کے لیے تخریب کاروں کو استعمال کرنے سے باز رہیں۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے ٹوئٹرانک سکیورٹی کے سابق سربراہ نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ بھارت نے سوشل میڈیا کمپنی پر زور دیا کہ ایک سرکاری ملازم کو تنخواہ پر رکھا جائے۔

پیٹرمیوج زٹکو نے ٹوئٹر پرسیکیورٹی کوتاہیوں کے دعووں پر یہ معاملہ امریکی سیکیورٹیزاینڈ ایکسچینج کمیشن کے ساتھ اٹھایا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹوئٹر پر مزید دو نئے فیچرز کی آزمائش

واشنگٹن پوسٹ اخباراور میوج زٹکو کے وکیل وِسل بلور ایڈ کی مصدقہ اپ لوڈ کردہ شکایت کے ایک ترمیم شدہ ورژن کے مطابق انہوں نے کہا کہ سرکاری ایجنٹ کو ٹوئٹر کے کمزور سیکیورٹی انفراسٹرکچر کی وجہ سے صارف کے حساس ڈیٹا تک رسائی حاصل ہو گی۔

کمپنی ذرائع نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت کے بارے میں الزامات پہلے بھی ٹوئٹر کے اندر سامنے آئے تھے تاہم، بھارت کی وزارت آئی ٹی نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں