فیس بک لائیو اسٹریمنگ حقوق کی خلاف ورزی، میٹا پر 17 کروڑ 44 لاکھ ڈالر جرمانہ

22 ستمبر 2022
میٹا کو 17 کروڑ 44 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم دے دیا گیا —فوٹو: رائٹرز
میٹا کو 17 کروڑ 44 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم دے دیا گیا —فوٹو: رائٹرز

امریکی عدالت نے میٹا کمپنی کو امریکی فوج کے ایک تجربہ کار کی طرف سے میدانِ جنگ میں کمیونیکیشنز میں خامیاں دور کرنے کے لیے تیار کی گئی لائیو اسٹریمنگ کے حقوق کی خلاف ورزی کرنے پر میٹا کمپنی کو 17 کروڑ 44 لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق ٹیکساس کی وفاقی عدالت میں مقدمے کی سماعت اس فیصلے کے ساتھ ختم ہوئی کہ فیس بک اور انسٹاگرام ’لائیو‘ فیچرز کے لیے ووکسر کی پیٹنٹ شدہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں جس کے شریک بانی ٹوم کیٹس ہیں۔

مزید پڑھیں: صارفین کی تعداد میں کمی : فیس بک کو 230 ارب ڈالرز کا نقصان

کمپنی کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ مقدمے کے دوران شواہد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ میٹا نے ووکسر کی پیٹنٹ شدہ ٹیکنالوجی کا استعمال نہیں کیا‘۔

انہوں نے کہا کہ اپیل دائر کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ریلیف حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

عدالت کے فیصلے میں بتایا گیا کہ کمپنی کے بانی ٹوم کیٹس کو11 ستمبر 2001 کو امریکا میں ہونے والے حملوں کے بعد فوج میں دوبارہ بھرتی کیا گیا تھا، جنہوں نے افغانستان میں اسپیشل فورسز کمیونیکیشن سارجنٹ کے طور پر اپنے فرائض سر انجام دیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: فیس بک انکارپوریٹڈ کا نام ’میٹا انکارپوریٹڈ‘ ہونے پر لوگ حیران

درخواست گزار نے کہا کہ جب افغانستان کے صوبہ کنڑ میں جنگی یونٹ پر حملہ کیا گیا تو انہوں نے محسوس کیا کہ زیادہ تعداد میں تعیناتی، طبی انخلا اور بہت کچھ وقت کے حساب سے حساس مواصلات کے لیے انتہائی تباہ کن ماحول میں موزوں نہیں تھا۔

ٹوم کیٹس کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل اور ان کی ٹیم نے مواصلات کی کوتاہیاں دور کرنے کے لیے 2006 میں اس کا حل تلاش کرنا شروع کیا تھا۔

مزید پڑھیں: میٹا اسمارٹ واچ کی پہلی تصویر لیک

انہوں نے کہا کہ نئی ٹکنالوجی نے براہ راست مواصلات کی فوری طور پر آواز اور ویڈیو مواصلات کی ترسیل فعال کرنے کے ساتھ ساتھ پیغامات کی فوری رسائی جیسی سہولیات کے قابل بنایا تھا۔

قانونی دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ فیس بک نے 2011 میں واکی ٹاکی ایپ لانچ کرنے کے بعد ممکنہ تعاون کے لیے سان فرانسیسکو میں قائم ووکسر کمپنی سے رابطہ کیا تھا لیکن کوئی معاہدہ طے نہیں پایا تھا۔

لا سوٹ نے دلائل دیے کہ فیس بک نے فیس بک اور انسٹاگرام پر لائیو فیچزر شروع کرنے کے لیے ووکسر ٹیکنالوجی کو فیچرز میں شامل کیا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں