ٹوئٹر پر پاک فوج کے خلاف مہم کے پیچھے خفیہ بھارتی پروپیگنڈے کا انکشاف

اپ ڈیٹ 23 ستمبر 2022
<p>رپورٹ کے مطابق بھارتی نیٹ ورکس کا بیانیے اور رابطے ‘چنار کور’ کے ساتھ ملتے ہیں—فوٹو: ٹوئٹر ویب سائٹ</p>

رپورٹ کے مطابق بھارتی نیٹ ورکس کا بیانیے اور رابطے ‘چنار کور’ کے ساتھ ملتے ہیں—فوٹو: ٹوئٹر ویب سائٹ

امریکی ریاست کیلیفورنیا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق رواں سال کے اوائل میں سوشل میڈیا نیٹ ورک کی جانب سے معطل کیا گیا بھارتی فوج کا حامی خفیہ اکاؤنٹ پاک فوج کے خلاف ٹوئٹر پر پروپیگنڈا کرنے میں ملوث تھا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کامیابیوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے اجاگر کرنے کی کوشش کررہا تھا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اسٹینفورڈ انٹرنیٹ آبزرویٹری کی تحقیق میں ایک بھارتی نیٹ ورک کے اکاؤنٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ ‘آئی ایس پی آر نے انتہائی محتاط طریقے سے تیار کیے گئے انٹرن شپ پروگرام کے ذریعے گزشتہ دہائی کے دوران 4 ہزار بااثر اعلیٰ تعلیم یافتہ جنگی ماہرین کے ایک حیران کُن نیٹ ورک کو تیار کیا، یہ پروگرام آئی ایس آئی کی زیر قیادت کام کرتا ہے’۔

یہ بھی پڑھیں: لانچ پیڈ سے متعلق بھارتی بیانات سراسر غلط اور بے بنیاد ہیں، بابر افتخار

اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی ویب سائٹ میں شائع ایک رپورٹ جس کا عنوان ‘میرا دل کشمیر سے وابستہ ہے: ٹوئٹر پر بھارتی فوج کے خفیہ حمایتی آپریشن کا تجزیہ’ تھا، اسٹینفورڈ انٹرنیٹ آبزرویٹروی کی رپورٹ کے مطابق اس نیٹ ورک کے بیانیے، استعمال کردہ ہتھکنڈوں اور رابطے ‘چنار کور’ کے ساتھ ملتے ہیں، چنار کور مقبوضہ کشمیر میں کام کرنے والی بھارتی فوج کی شاخ ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر اور محققین نے بھارتی فوج کے نیٹ ورک کو دستیاب شواہد کی بنیاد پر کسی بھی شخص یا ادارے کے ساتھ منسوب نہیں کیا، لیکن رپورٹ میں بھارتی اخبار کے مضامین کو نمایاں کیا گیا ہے جس میں ٹوئٹر، فیس بُک اور انسٹاگرام نے چنار کور کے سرکاری اکاؤنٹ کو مربوط غیرمستند رویے کی بنیاد پرعارضی طور پر معطل کردیا ہے۔

مزید پڑھیں: ہیلی کاپٹر حادثہ، سوشل میڈیا پر غلط پروپیگنڈا، بے حسی کا رویہ ناقابل قبول ہے، ترجمان پاک فوج

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ٹوئٹر نیٹ ورک کا مواد چنار کور کے مقاصد سے مطابقت رکھتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے کام کی تعریف کرنے والا بھارتی فوج کا آفیشل اکاؤنٹ ‘چنار کور’ سب سے زیادہ ری ٹوئٹ ہونے والا ساتواں اکاؤنٹ ہے۔

یہ نیٹ ورک پچھلے سال ٹوئٹر پر سب سے زیادہ سرگرم تھا، جس کے بعد ٹوئٹر نے اس نیٹ ورک کے خاص حصے کو مارچ 2022 میں پلیٹ فارم کے قواعد کی خلاف ورزی کی بنیاد پر معطل کردیا تھا جہاں مانا گیا تھا کہ یہ اکاؤنٹ بھارت سے چلایا جارہا ہے۔

طریقہ واردات

یہ نیٹ ورک زیادہ تر انگریزی، اردو اور ہندی زبان میں ٹوئٹ کرنے کو ترجیح دیتا تھا۔

نیٹ ورک میں موجود اکاؤنٹ کے بائیو میں اسے بھارتی فوجیوں اور بافخرکشمیریوں کے رشتہ داروں سے منسلک ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا، ایک اکاؤنٹ کے بائیو میں لکھا تھا ’ بھارت اور کشمیر کا فخر، میرا دل کشمیر سے وابستہ ہے، روح بھارت سے اور میری زندگی انسانیت کے لیے ہے’۔

یہ بھی پڑھیں: ’فوج اور سوسائٹی ’میں تقسیم سے متعلق پروپیگنڈا مہم کا نوٹس

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس نیٹ ورک میں مخصوص افراد کو نشانہ بنانے کے لیے 2 اکاؤنٹ سرگرم تھے جہاں ان افراد کو بھارتی حکومت کا دشمن تصور کیا جا رہا تھا، ان اکاؤنٹ کے بائیو میں ہیش ٹیگ کشمیر، بھارت اور پاکستانی فوج سے متعلق تھے۔

ان اکاؤنٹس میں موجود تصاویر انٹرنیٹ کی دیگر ویب سائٹ سے حاصل کی گئی تھیں۔

ایک مطالعے کے مطابق جن نیٹ ورکس کو معطل کیا گیا ان کے ٹوئٹ میں علاقائی صحافی، بلوچستان اور بھارتی سیاستدان کے معطل شدہ اکاؤنٹس کو ٹیگ کیا گیا، رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ بلوچستان کے کن سیاستدانوں کو نیٹ ورک نے اپنی ٹوئٹ میں ٹیگ کیا تھا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جن ٹوئٹس میں صحافیوں کو ٹیگ کیا گیا ان کا مقصد رپورٹر یا اس کے فالورز کو اس ٹوئٹ کی جانب متوجہ کرنا تھا۔

مزید پڑھیں: بھارتی سوشل میڈیا پر ہندوتوا کی مقبولیت کا ’دھوکا

رپورٹ میں خاص طور پر نیٹ ورک کے 2 اکاؤنٹس کی نشاندہی کی گئی، جو صحافیوں، سیاستدانوں اور کارکنوں کو نشانہ بناتے تھے، یہ اکاؤنٹس کشمیر ٹریٹرز اور کشمیر ٹریٹرون کے نام سے ٹوئٹر پر موجود تھے، اس کے علاوہ مخصوص افراد کو نشانہ بنانے کے لیے یوٹیوب چینل بھی بنایا گیا جہاں اس بات پر توجہ مرکوز کی جاتی تھی کہ کون سا صحافی بھارت کے مخالف ہے۔

ان صحافیوں کو ‘وائٹ کالر دہشت گرد’ کا نام دیا گیا تھا، مثال کے طور پر یہ کہا جاتا کہ ایسے لوگ کشمیری عوام کو غلط معلومات پہنچا کر انہیں گمراہ کرتے ہیں اور ان پر پاکستان سے غیر قانونی طور پر پیسے لینے کا الزام لگاتے تھے۔

نیٹ میں موجود اکاؤنٹس نے امریکی کارکن اور مصنف پیٹر فریڈرنک جیسی شخصیات کو بھی نشانہ بنایا جو بھارتی حکومت اور ہندوتوا کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے، اس کے علاوہ جیل میں قید بھارتی صحافی فہد شاہ کو بھی نشانہ بنایا گیا، جنہوں نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا کرنے والے کالعدم تنظیم کے 32 اراکین گرفتار کرلیے، فواد چوہدری

مخصوص افراد کو نشانہ بنانے کے لیے کشمیر ٹریٹر کے اکاؤنٹ نے چنار کور کے آفیشل اکاؤنٹ کو ٹیگ کیا تاکہ اس جانب ان کی توجہ مبذول کرائی جاسکے۔

اس نیٹ ورک نے پاکستان کی حکومت کو بھی نشانہ بنایا، کشمیر ٹریٹر کے اکاؤنٹ سے ٹوئٹ میں لکھا گیا کہ ‘آئی ایس پی آر نے انٹرن شپ پروگرام کے ذریعے گزشتہ دہائی کے دوران 4 ہزار بااثر اعلیٰ تعلیم یافتہ وارفیئر ماہرین کے ایک حیران کُن نیٹ ورک کو بڑھاوا دیا جو آئی ایس آئی کی زیر قیادت کام کرتا ہے۔’

نیٹ ورک میں موجود درجنوں اکاؤنٹس نے سابق چنار کور کمانڈر کنول جیت سنگھ ڈھلوں کا ذکر کیا، نیٹ ورک نے ان کے اکاؤنٹ کو ایک ہزار سے زائد بار ری ٹوئٹ کیا ہے۔

ان نیٹ ورکس کا کیا بیانیہ تھا؟

ان نیٹ ورکس کا بیانیہ واضح طور پر پاکستان اور چین کے مخالف تھا، رپورٹ میں کئی مثالوں کے ذریعے بتایا گیا کہ یہ نیٹ ورک ان تک کیسے پہنچا۔

مزید پڑھیں: سفارتی جادو کی جھپی: سبھی خوش بس بھارت ناخوش، لیکن کیوں؟

ان نیٹ ورکس نے پاکستان بالخصوص بلوچستان میں ہونے والے احتجاج کو اجاگر کیا، ایک ٹوئٹ میں کہا گیا کہ بلوچستان میں انٹرنیٹ تک رسائی نہ ہونے پر اسلام آباد میں طلبہ احتجاج کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ‘ان اکاؤنٹس نے پاکستان کے بھارتی فوج پر مظالم کے بے بنیاد دعوے پھیلانے کا الزام لگایا، اکاؤنٹ کی جانب سے پاکستانی فوجیوں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور دہشت گردوں کو تحفظ دینے کا بھی الزام لگایا گیا۔’

ٹوئٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان ہندوؤں اور مسلمانوں کے لیے محفوظ نہیں ہے اور جب کووڈ-19 کا آغاز ہوا تھا تو پاکستان نے اپنے شہریوں کو چین میں تنہا چھوڑ دیا تھا۔

ٹوئٹ میں پاکستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے بھی تنقید کی گئی، ایک معطل شدہ اکاؤنٹ نے ٹوئٹ شئیر کی جس میں کہا گیا کہ ’پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے خواتین کے لباس کو جنسی استحصال کے واقعات میں اضافے کا ذمہ ٹھہرایا جس کی وجہ سے انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف کا جارحیت پر بھارت کو سبق سکھانے کا اعلان

رپورٹ کے مطابق اس نیٹ ورک نے بھارتی فوج کو چینی فوج پر غالب دکھایا اور بھارتی فوج کو چین پر فوقیت دی، نیٹ ورکس کے اکاؤنٹ میں کہا گیا کہ بھارتی فوجی بہادر ہیں جبکہ چینی فوج آسانی سے دشمن کے آگے ہتھیار ڈال دیتی ہے۔

نیٹ ورک کی جانب سے بھارتی فوجیوں کو ‘بہادر اور باہمت’ کہا گیا اور چین کے ساتھ جھڑپوں میں مارے جانے والے فوجیوں کو شہید اور ہیرو کہا، نیٹ ورک کے مطابق بھارت کی جانب سے کسی بھی ناکام حملے کا ذمے دار چین کی غیراخلاقی حکمت عملی کو ٹھہرایا گیا۔

رپورٹ کے مصنفین شیلبی گراس مین، ایمیلی تیانشی، ڈیوڈ تھیئل اور رینے ڈی ریسٹی کا کہنا تھا کہ ‘ہماری رپورٹ میں صرف بظاہر سطح پر نظر آنے والے حقائق پر تبصرہ کیا گیا ہے’ اور انہوں نے محققین سے مطالبہ کیا کہ وہ اس نیٹ ورک کے حوالے سے مزید حقائق کا سراغ لگائیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں