میرا پی ٹی آئی میں شامل ہونے، پیپلز پارٹی چھوڑنے کا کوئی امکان نہیں، اعتزاز احسن

اپ ڈیٹ 20 اکتوبر 2022
اعتزاز احسن نے کہا کہ پیپلزپارٹی میں کھل کر بے باکی کے ساتھ  اظہار اختلاف رائے کا کلچر ہے — فوٹو: ڈان نیوز
اعتزاز احسن نے کہا کہ پیپلزپارٹی میں کھل کر بے باکی کے ساتھ اظہار اختلاف رائے کا کلچر ہے — فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینئر رہنما اور معروف قانون دان اعتزاز احسن نے اپنی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اور پیپلز پارٹی چھوڑنے کی خبروں کو پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ میرا پی ٹی آئی میں شامل ہونے اور پیپلز پارٹی چھوڑنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اعتزاز احسن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ دنوں پی ڈی ایم رہنماؤں کے خلاف بیان دینے پر پیپلز پارٹی کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی کی خبریں سامنے آئی تھیں جب کہ میڈیا کے کچھ حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں اور قیاس آرائیاں بھی کی جارہی تھیں کہ وہ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر سکتے ہیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرے خلاف پارٹی کے کچھ دوستوں نے کہا کہ ہم اعتزاز احسن کے خلاف احتجاج کریں گے اور مطالبہ کیا کہ مجھے پارٹی سے نکالا جائے جب کہ یہی مخالفین اسی سانس میں کہتے ہیں کہ اعتزاز احسن کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہے، جب میرا پارٹی سے تعلق نہیں ہے تو پھر نکالنے کا مطالبہ کیوں کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹیبلشمنٹ نے شریف خاندان کی کرپشن مقدمات سے بری ہونے میں مدد کی، اعتزاز احسن

انہوں نے کہا کہ میں بتانا چاہتا ہوں کہ میں پیپلز پارٹی میں ہوں، عمران خان میرا دوست ہے، 50 سال سے وہ میرا پڑوسی ہے، ہماری دیوار سانجھی ہے، ان کا یہاں پیچھے گھر ہے، میں سیاسی مخالفت میں اس طرح کے طرز گفتگو پر یقین نہیں رکھتا کہ مخالف کے خلاف جو برا بھلا کہنا چاہیں کہہ دیں، مخالف کے خلاف رانا ثنااللہ خان والی زبان استعمال کرنا شروع کردیں۔

'کچھ لوگ پروپیگنڈا کر رہے ہیں پی ٹی آئی میں شامل ہو رہا ہوں'

ان کا کہنا تھا کہ میرا پیپلز پارٹی سے دیرینہ تعلق ہے اور میں پی پی پی کو خاندان سمجھتا ہوں، جب میں وکلا تحریک کی قیادت کر رہا تھا تو وکلا یہ مطالبہ کیا کرتے تھے کہ کیونکہ پیپلز پارٹی کی حکومت ججز بحالی کی مخالفت کر رہی ہے، اس لیے آپ یا تو پیپلز پارٹی چھوڑ دیں یا پھر وکلا تحریک چھوڑ دیں، تو میں نے اس وقت بھی جواب دیا تھا کہ میں تحریک کی قیادت چھوڑ دیتا ہوں لیکن پیپلز پارٹی اور وکلا تحریک نہیں چھوڑوں گا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ جب وکلا تحریک جاری تھی اس وقت بھی میرے اپنی پارٹی کے لوگوں سے شائستہ تعلقات تھے اور باہمی تعلقات شائستہ ہی رہنے چاہئیں۔

مزید پڑھیں: پیپلز پارٹی کا آرمی چیف کے حوالے سے اعتزاز احسن کے بیان سے اظہار لاتعلقی

ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے خبر اڑائی کہ میں پارٹی چھوڑ رہا ہوں، ابھی بھی کچھ چینلز پر ٹکرز چل رہے تھے کہ میں بنی گالا میں موجود ہوں، عمران خان سے ملاقات جاری ہے اور میں پی ٹی آئی میں شامل ہو رہا ہوں جب کہ عمران خان اس وقت سرگودھا میں ہیں اور میں یہاں لاہور میں ہوں، کچھ لوگ جن کو پتا نہیں کہاں سے خبریں آتی ہیں، وہ یہ پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ میں پی ٹی آئی میں شامل ہو رہا ہوں۔

'کلثوم نواز کی بیماری تسلیم نہ کرنے پر شرمندگی ہوئی، میں غلط تھا'

رہنما پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ میرا پی ٹی آئی میں شامل ہونے اور پیپلز پارٹی چھوڑنے کا کوئی امکان نہیں، پارٹی چھوڑنے کے لیے 15 سال قبل 2 مئی کو پرویز مشرف کا پیغام ملا کہ لانگ مارچ کے دوران چیف جسٹس کی گاڑی کی ڈرائیونگ نہ کریں، پارٹی چھوڑیں اور شوکت عزیز کی جگہ وزیر اعظم بن جائیں، میں اس وقت بھی پارٹی چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں میں اختلاف رائے ہوتا ہے، پیپلز پارٹی کا ایک کلچر ہے، وہاں میٹنگز کے دوران اختلاف رائے کا کھل کر بے باکی کے ساتھ اظہار کیا جاتا ہے، میں پیپلز پارٹی نہیں چھوڑ رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے اداروں کو سیاست میں نہیں آنا چاہیے، خواجہ آصف کے بیان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ میں انہیں سنجیدگی سے نہیں لیتا، انہوں نے تو پتا نہیں کیا کچھ کہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ نے اعتزاز احسن کےخلاف توہین عدالت کی درخواست نمٹا دی

کلثوم نواز کی بیماری کو تسلیم نہ کرنے سے متعلق سوال پر اعتزاز احسن نے کہا کہ ان کی میڈیکل رپورٹس جاری نہیں کی جارہی تھیں، اس لیے شکوک و شبہات پیدا ہوئے لیکن جب ان کا انتقال ہوگیا تو مجھ سمیت دیگر لوگوں کو شرمندگی ہوئی، میں غلط تھا۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف سے کوئی ذاتی لڑائی نہیں، جب پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا تو کوئی ان کا کیس نہیں سن رہا تھا تو میں نے بےنظیر بھٹو کی اجازت سے کلثوم نواز کی درخواست پر ان کا کیس لڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان میرا دوست ہے، میں اس کو ایک اچھا انسان سمجھتا ہوں لیکن نہ میں پیپلز پارٹی چھوڑ سکتا ہوں، نہ چھوڑ رہا ہوں، پارٹی کا جیالا میرا جیالا ہے، اس کے ساتھ سردیوں میں بغیر بستر کے زمین پر سویا ہوں، جیالوں کو میرے خلاف بھڑکایا نہیں جاسکتا جب کہ میں خود بھی جیالا ہوں، میں اپنے ہمسائے عمران خان کی سیاست سے اختلاف کے باوجود ان کے ساتھ شائستگی کا تعلق رکھنا چاہتا ہوں۔

مزید پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ: کیپٹن (ر) صفدر کی اعتزاز احسن کے خلاف توہین عدالت کی درخواست

خیال رہے کہ 11 اکتوبر کو پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے الزام لگایا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ نے شریف خاندان کو کرپشن کے مقدمات سے بری ہونے میں مدد کی ہے۔

چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے ایک واضح حوالہ دیتے ہوئے سینئر قانون دان نے کہا تھا کہ باجوہ صاحب نے انہیں (شریف خاندان) کو مقدمات میں سزا سے بچایا ہے اور انہوں نے بڑا جرم کیا ہے۔

اعتزاز احسن نے لاہور ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف، سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کے خلاف مقدمات ایسے ہیں جیسے ہتھیلی پر لکھے ہوئے ہوں اور ان کی سزا واضح ہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو پاکستان میں سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔

بعد ازاں 13 اکتوبر کو پی پی پی نے اعتزاز احسن کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے بیان سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ سینئر رہنما عمران خان کے جمہوریت مخالف ایجنڈے کا حصہ بن چکے ہیں۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں