بٹلر بھائی آپ تو اپنی بات کے بہت پکے نکلے!

اپ ڈیٹ 11 نومبر 2022

جس دن سیمی فائنل میں پہنچنے والی ٹیموں کا اعلان ہوا تب سے ہی ہر جانب سے یہ خواہش اور تجزیے پیش ہونے لگ گئے کہ فائنل تو پاکستان اور انڈیا کا ہی ہونا چاہیے۔ ایسے لوگوں کی ایک خواہش تو پاکستان کی جیت کے ساتھ پوری ہوگئی مگر انگلینڈ نے دوسری خواہش پر ایسا پانی پھیرا کہ سالوں تک وہ خشک نہیں ہوسکے گا۔

جب انگلینڈ نے ٹاس جیتا تو بھارت میں خوشی کے شادیانے بجنا شروع ہوگئے کہ اچھا ہوا ہم ٹاس ہار گئے کیونکہ ایڈیلیڈ کے میدان میں کھیلے جانے والے تمام 11 میچ ان ٹیموں نے جیتے تھے جو ٹاس ہاری تھیں، یعنی انہوں نے میچ شروع ہونے سے پہلے ہی اسے 0-12 کردیا تھا۔

لیکن ہم جانتے ہیں کہ ٹی20 کرکٹ میں نہ پار پریڈکشن کی زیادہ حیثیت ہے اور نہ ہی ٹاس کی، اگر اہمیت ہے تو صرف ایسے کھیل کی جو آج انگلینڈ نے پیش کیا، مطلب 10 وکٹوں سے ہی ہرادیا؟ مطلب ٹی20 ورلڈ کپ کی سب سے بڑی پارٹنرشپ قائم کرلی، مطلب انڈیا کو جیت کی امید کے بھی قریب نہیں آنے دیا۔

اچھا جب میں یہ سب لکھ رہا ہوں تو میرے سامنے گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی ٹوئٹ سامنے آگئی جس میں پوچھا گیا کہ کیا یہ تاریخی طور پر آسان ترین ہدف کا تعاقب ہے؟

مطلب اب آپ خود صورتحال سمجھ جائیے۔

اچھا یہاں ایک اور بات بھی یاد آگئی کہ انڈیا وہ واحد ٹیم بن چکی ہے جس کے خلاف ٹی20 ورلڈ کپ میں 2 مرتبہ 150 سے زائد رنز کی پارٹنرشپ قائم ہوچکی ہے۔ پہلی تو ہم سب کو یاد ہے جو پچھلے سال پاکستان نے بنائی تھی اور بھارت کو 10 وکٹوں سے شکست دی تھی، اور دوسری مرتبہ یہ کارنامہ آج انجام دیا گیا۔

میچ شروع ہونے سے آخری اوور تک بھارت کی ٹیم اپنے اصل رنگ میں نظر ہی نہیں آئی۔ ہاں اننگ کے آخری 5 اوورز میں جب ہاردک پانڈیا کی جارحانہ بیٹنگ کے سبب انڈیا نے 68 رنز بنائے اور ہدف جب 169 رنز تک پہنچا تو ایک بار ضرور لگا کہ یہ میچ اتنا آسان نہیں ہوگا، مگر انگلینڈ کے اوپنرز نے اپنے بلے سے بار بار ہمیں یہ پیغام پہنچایا کہ ہاں، ہاں، یہ اتنا ہی آسان ہوگا۔

انگلیند کے کپتان نے 49 گیندوں پر 80 رنز بنائے تو میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پانے والے ایلکس ہیلز نے 47 گیندوں پر 86 رنز بنائے۔ اس میچ میں پوری بھارتی ٹیم نے جتنے چھکے لگائے اتنے اکیلے ہیلز نے لگالیے، یعنی 7۔ دوسری طرف کپتان نے بھی 3 چھکے لگائے۔

ہیلز کی یہ اننگ اس لیے بھی بہت یادگار ہے کیونکہ وہ خراب کارکردگی کے سبب ٹیم سے باہر ہوچکے تھے اور اس بات کا امکان کم ہی تھا کہ وہ دوبارہ کبھی اس ٹیم کا حصہ بن سکتے، بلکہ آج جب انہیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا تو اس میں بھی انہوں نے یہ بات کہی کہ ’مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ میں اس ٹیم کا دوبارہ حصہ بن سکوں گا‘۔

ویسے یہاں شکریہ پاکستان سپر لیگ کا بنتا ہے کیونکہ یہاں پیش کی جانے والی کارکردگی نے ان کی ٹیم میں شمولیت کے لیے بہت اہم کردار ادا کیا تھا۔

اچھا مزے کی بات یہ کہ جب بھارتی باؤلرز انگلینڈ کے بلے بازوں کا کچھ نہ بگاڑ سکے تو پھر انہوں نے میدان میں موجود تماشائیوں سے مدد مانگی اور مستقل انگلینڈ کے اوپنرز پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، مگر آج تو کوئی بھی کوشش کام نہ آئی۔

یہ جیت اس لیے بھی بہت حیران کن ہے کیونکہ اس میچ کے لیے شاید ہی کوئی انگلینڈ کو فیورٹ قرار دے رہا تھا، حتیٰ کے سابق انگلش کھلاڑی بھی بھارت کو ہی فیورٹ قرار دے رہے تھے اور پاکستان اور انڈیا کے فائنل کی پیشگوئی کررہے تھے۔ پھر اس اہم ترین میچ میں انگلینڈ کے 2 کھلاڑی مارک ووڈ اور ڈیوڈ ملان انجری کی وجہ سے ٹیم کا حصہ نہ بن سکے تو ان خیالات کی حیثیت میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔

چلیں سابق کھلاڑی تو اپنے تجربے کی بنیاد پر باتیں کررہے تھے مگر شائقینِ کرکٹ کی ایک بڑی تعداد ناجانے کیوں مسلسل میچ اور ایونٹ فکس ہونے کی باتیں کررہی تھی۔ آپ جس سے بھی پوچھیں کیا ہوگا تو جواب یہی ملتا ہے، ’کیا ہوگا، بھارت ہی جیتے گا، اس کے پاس پیسہ جو بہت ہے، میں بتارہا ہوں کہ یہ ورلڈ کپ بھی فکس ہے‘۔

ایسے تمام لوگوں سے ایک بار پھر رابطہ کرنے اور پوچھنے کی ضرورت ہے کہ اب جب بھارت ایونٹ سے باہر ہوگیا ہے تو کیا اب بھی یہ ورلڈ کپ فکس ہے یا معاملات ٹھیک ہوگئے ہیں۔

لیکن دوسری طرف تمام تر بیانات کے باوجود انگلینڈ کے کپتان کچھ اور ارادے بنائے بیٹھے تھے۔ اس اہم ترین میچ سے پہلے انہوں نے بیان دیا تھا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ وہ انڈیا اور پاکستان کا فائنل نہ ہونے دیں، مطلب وہ اپنی جیت کی پیشگی خبر دے رہے تھے، اور وہ اپنی بات کے اتنے پکے نکلیں گے، یہ اندازہ نہیں تھا۔

سال 2022ء میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان 7 ٹی20 مقابلے کھیلے گئے اور ان میں انگلینڈ کو 3-4 سے برتری حاصل ہے، تو اگر فائنل کے بعد یہ 4-4 ہوجائے تو کتنا اچھا ہوگا نا؟

اب 30 سال بعد میلبرن کے تاریخی میدان میں ایک اور ورلڈ کپ فائنل کھیلا جانے والا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اس بار میدان بھی وہی ہے اور اس میں مدِمقابل ٹیمیں بھی وہیں، اس لیے یہ سوال ضرور بنتا ہے کہ کیا نتیجہ بھی وہی ہوگا؟

اگر یہی نتیجہ درکار ہے تو پھر کھیل بھی ویسا ہی پیش کرنا ہوگا۔ ابھی فائنل میں 2 دن باقی ہیں اور اس اہم ترین میچ سے پہلے مخالف ٹیم کا اچھی طرح جائزہ لینا ہوگا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں ہی ٹیموں نے حال ہی میں 7 ٹی20 مقابلے کھیلے ہیں اس لیے دونوں ہی ٹیمیں ایک دوسرے کی خوبیوں اور کمزوریوں سے واقف ہوں گی، لہٰذا یہ دیکھنا بہت اہم ہوگا کہ ان سے فائدہ کون زیادہ اٹھاتا ہے۔

اگر ماضی جیسا نتیجہ چاہیے تو کھیل بھی ویسا ہی پیش کرنا ہوگا
اگر ماضی جیسا نتیجہ چاہیے تو کھیل بھی ویسا ہی پیش کرنا ہوگا

لیکن یہ بات تو ہر کوئی جانتا ہے کہ اگر انگلینڈ کے اوپنرز کو جلدی آؤٹ کرلیا جائے تو اس سے بہتر کوئی اور کام نہیں ہوسکتا۔ دوسری طرف پاکستانی اوپنرز کو فائنل میں بھی اسی بے خوفی کے ساتھ کھیلنا ہوگا جس طرح نیوزی لینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں کھیلا تھا کیونکہ یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ پاور پلے کی بہت اہمیت ہے۔ جس ٹیم نے بھی ان 6 اوورز کا بہتر فائدہ اٹھالیا اس کی جیت کے امکان زیادہ ہوں گے۔

اپنی رائے دیجئے

0
تبصرے
1000 حروف