ٹی20 ورلڈ کپ میں بننے والے کچھ دلچسپ ریکارڈز پر ایک نظر

آسٹریلیا میں تقریباً ایک ماہ تک جاری رہنے والے 8ویں آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ کا شاندار میلہ دلچسپ مراحل سے گزرتے ہوئے بالآخر 13 نومبر کو میلبرن میں اختتام کو پہنچا۔

فائنل میں سخت مقابلے کے بعد انگلینڈ نے پاکستان کو 5 وکٹوں سے شکست دے کر دوسری مرتبہ چیمپیئن شپ جیتی۔ وہ ویسٹ انڈیز کے بعد 2 مرتبہ ٹی20 ورلڈ کپ جیتنے والی والی دوسری ٹیم بن چکی ہے جبکہ پاکستان، بھارت، سری لنکا اور آسٹریلیا ایک، ایک بار ٹائٹل جیت چکے ہیں۔

انگلینڈ نے 2019ء کا آئی سی سی مینز ون ڈے ورلڈ کپ بھی جیتا ہوا ہے اور اب ٹی20 ورلڈ کپ بھی جیت کر انگلینڈ نے اس کھیل کے دونوں مختصر ترین فارمیٹ میں اپنی برتری ثابت کردی ہے۔

انگلینڈ کے کھلاڑی ٹی20 ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے — تصویر: اے ایف پی
انگلینڈ کے کھلاڑی ٹی20 ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے — تصویر: اے ایف پی

2009ء ورلڈ کپ کی فاتح قومی ٹیم اس بار بہت سارے اگر مگر کے ساتھ کسی طرح تیسری مرتبہ ٹی20 ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچی تھی۔ اس بار ایسا لگ رہا تھا کہ 1992ء کے ون ڈے ورلڈ کپ کی کہانی دہرائی جارہی ہے۔ وہی قسمت کی مہربانیاں، اس بار بھی سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ کو ہرانا، فائنل میں وہی مخالف ٹیم انگلینڈ اور میلبرن کا وہی تاریخی میدان۔ بقول شاعر

لے آئی پھر کہاں پر قسمت ہمیں کہاں سے
یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے

مگر قسمت نے یاوری نہیں کی۔ حالانکہ کم اسکور کرنے کے باوجود پاکستان نے انگلینڈ کے لیے ہدف کا حصول مشکل بنادیا تھا۔ مگر پھر 16ویں اوور کی پہلی ہی گیند کروانے کے بعد شاہین آفریدی کا زخمی ہوکر میدان سے باہر چلے جانا پاکستان کے لیے بھیانک خواب ثابت ہوا کیونکہ اگر شاہین اپنے اوور مکمل کرلیتے تو میچ کا نتیجہ مختلف بھی ہوسکتا تھا۔

پاکستان میچ نہیں جیت سکا اور ٹورنامنٹ بھی تاہم مقابلہ تو کھلاڑیوں نے خوب کیا۔ یہی وجہ تھی کہ پاکستانی قوم نے ٹیم کے خلاف کسی سخت ردِعمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔

فائنل میں پہنچنے کے باوجود یہ بات بھی کرلینی چاہیے کہ اس ورلڈ کپ میں بابر اعظم کی کپتانی نے متاثر کیا اور نہی ہی ان کی بیٹنگ نے۔ گروپ کے کسی بھی میچ میں ان کا اسکور دو ہندسوں تک بھی نہیں جاسکا، مگر سیمی فائنل میں ان کی فارم واپس آئی اور نیوزی لینڈ کے خلاف اہم ترین میچ میں انہوں نے نصف سنچری اسکور کی۔

اس میچ میں محمد رضوان نے بھی نصف سنچری اسکور کی اور ان دونوں نے پہلی وکٹ کے لیے 105 کی شراکت قائم کی۔ ٹی20 ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی وکٹ کے لیے 3 مرتبہ سنچری شراکت قائم کرنے والی یہ واحد جوڑی ہے۔ مجموعی طور پر یہ ان دونوں کی نویں سنچری شراکت تھی جو ایک ریکارڈ ہے۔

اس ورلڈ کپ میں بیٹنگ اور باؤلنگ کے شعبوں میں مزید کونسے ریکارڈز بنے، آئیے جانتے ہیں۔


سب سے بڑی شراکت


اس ٹورنامنٹ میں کُل 5 سنچری شراکتیں قائم ہوئیں۔ انگلینڈ کے جوز بٹلر اور ایلیکس ہیلز نے سیمی فائنل میں بھارت کے خلاف ایک دوسرے سے جدا ہوئے بغیر 170 رنز بنائے اور ٹی20 ورلڈ کپ میں کسی بھی وکٹ کے لیے سب سے بڑی شراکت کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔ اس سے قبل پہلی وکٹ کے لیے سب سے بڑی شراکت داری پاکستانی اوپنرز رضوان اور بابر نے قائم کی تھی جنہوں نے پچھلے ورلڈ کپ میں بھارت ہی کے خلاف ناقابلِ شکست 152 رنز بنائے تھے۔

جنوبی افریقہ کے کوئنٹن ڈی کاک اور رائلی روسو نے بنگلادیش کے خلاف 168 رنز اسکور کیے جو دوسری وکٹ کے لیے ورلڈ کپ میں سب سے بڑی شراکت کا نیا ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ سری لنکا کے مہیلا جے وردھنے اور کمار سنگاکارا نے 2010ء کے ایڈیشن میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 166 رنز بناکر قائم کیا تھا۔

آئر لینڈ کے کرٹس کیمفر اور جارج ڈاکریل نے اسکاٹ لینڈ کے خلاف ناقابلِ شکست 119 رنز بنا کر ٹی20 ورلڈ کپ میں 5ویں وکٹ کے لیے سب سے بڑی شراکت کا ریکارڈ برابر کیا جو پاکستان کے شعیب ملک اور مصباح الحق نے پہلے ٹی20 ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کے خلاف قائم کیا تھا۔ اس کے علاوہ اس ٹورنامنٹ میں بھارت کے ویراٹ کوہلی اور ہارڈک پانڈیا نے میلبرن میں پاکستان کے خلاف 5ویں وکٹ کے لیے 113 رنز بنائے۔

جوز بٹلر اور ایلیکس ہیلز نے 20 ورلڈ کپ میں پہلی وکٹ کی سب سے بڑی شراکت کا نیا ریکارڈ قائم کیا— تصویر: اے ایف پی
جوز بٹلر اور ایلیکس ہیلز نے 20 ورلڈ کپ میں پہلی وکٹ کی سب سے بڑی شراکت کا نیا ریکارڈ قائم کیا— تصویر: اے ایف پی


بہترین بلے باز


بھارت کے ویراٹ کوہلی اس ٹورنامنٹ کے سب سے کامیاب بلے باز رہے۔ انہوں نے 6 میچوں میں 98.66 کی اوسط کے ساتھ سب سے زیادہ 296 رنز بنائے۔ انہوں نے اس ایونٹ میں سب سے زیادہ 4 نصف سنچریاں بھی بنائیں۔ انہوں نے پرتھ میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلتے ہوئے ٹی20 ورلڈ کپ میں اپنے ایک ہزار رنز مکمل کیے۔ وہ سری لنکا کے مہیلا جے وردھنے کے بعد یہ سنگِ میل عبور کرنے والے دوسرے بیٹسمین ہیں۔

اگلے میچ میں کوہلی ٹی20 ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بن گئے۔ وہ ایونٹ کے اختتام تک 27 میچ کھیل کر 81.50 کی اوسط سے 1141 رنز بنا چکے ہیں۔ ان میں شامل 14 نصف سنچریاں بھی ٹی20 ورلڈ کپ کا ریکارڈ ہے۔ کوہلی نے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے خلاف کھیلتے ہوئے اپنے ٹی20 انٹرنیشنل کیریئر کے 4 ہزار رنز بھی مکمل کیے۔ وہ یہ سنگِ میل عبور کرنے والے دنیا کے واحد بیٹسمین ہیں۔ وہ اب تک 115 میچ کھیل کر 52.73 کی اوسط سے 4 ہزار 8 رنز بناچکے ہیں۔

پورے ٹورنامنٹ میں 50 یا زائد رنز کی کُل 58 اننگز کھیلی گئیں۔ ان میں 2 سنچریاں بھی شامل تھیں جو جنوبی افریقہ کے رائلی روسو اور نیوزی لینڈ کے گلین فلپس نے اسکور کیں۔ رائلی روسو نے 109 جبکہ گلین فلپس نے 104 رنز کی اننگز کھیلیں۔

پورے ٹورنامنٹ میں کسی بھی ٹیم کی جانب سے صرف 2 مرتبہ اننگ میں 200 یا زائد رنز اسکور بنائے گئے جبکہ 5 ٹیموں نے 100 سے بھی کم رنز بنائے۔

بھارت کے ویراٹ کوہلی اس ٹورنامنٹ کے سب سے کامیاب بلے باز تھے— تصویر: اے ایف پی
بھارت کے ویراٹ کوہلی اس ٹورنامنٹ کے سب سے کامیاب بلے باز تھے— تصویر: اے ایف پی


باؤلنگ ریکارڈز


اس ٹی20 ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر سری لنکا کے لیگ اسپنر ونندو ہسارنگا ہیں۔ انہوں نے 15 وکٹیں حاصل کیں۔

ایک اننگ میں بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ انگلینڈ کے لیفٹ آرم پیسر سیم کرن نے کیا جنہوں نے افغانستان کے خلاف پرتھ میں صرف 10 رنز کے عوض 5 وکٹیں لیں۔ وہ ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ میں اننگ میں 4 وکٹیں لینے والے انگلینڈ کے واحد باؤلر ہیں۔

سیم کرن کو ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا — تصویر: اے ایف پی
سیم کرن کو ٹورنامنٹ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا — تصویر: اے ایف پی

علاوہ ازیں، ٹی20 ورلڈ کپ کے 8ویں ایڈیشن میں 7 باؤلرز نے 8 مرتبہ اننگ میں 4 وکٹیں لینے کا انفرادی کارنامہ انجام دیا۔ جنوبی افریقہ کے فاسٹ باؤلر اینرچ نوکیا نے یہ کارنامہ 2 مرتبہ انجام دیا۔ انہی کے ساتھی لنگی نگیڈی نے بھی 4 وکٹیں حاصل کیں۔ پاکستان کی جانب سے محمد وسیم اور شاہین آفریدی نے بھی یہ کارنامہ انجام دیا۔

شاہین آفریدی اور لیگ اسپنر شاداب خان نے ٹورنامنٹ میں کُل 11، 11 وکٹیں حاصل کیں۔ فائنل میں شاداب نے جب ہیری بروک کی وکٹ حاصل کی تو وہ پاکستان کی طرف سے ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے باؤلر بن گئے۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ شاہد آفریدی کے پاس تھا جنہوں نے 98 میچوں میں 97 وکٹیں لی تھیں جبکہ شاداب خان 84 میچوں میں 98 وکٹیں حاصل کرچکے ہیں۔

اس ٹورنامنٹ میں 2 باؤلرز نے ہیٹ ٹرک کے کارنامے بھی انجام دیے۔ یہ متحدہ عرب امارات کے کارتھک میاپن اور آئرلینڈ کے جوشنا لٹل تھے۔ اس طرح اب تک ٹی20 ورلڈ کپ میں 6 مرتبہ باؤلرز ہیٹ ٹرک مکمل کرچکے ہیں۔

شاہین آفریدی اور شاداب خان نے ٹورنامنٹ میں کُل 11، 11 وکٹیں حاصل کیں— تصویر: اے ایف پی
شاہین آفریدی اور شاداب خان نے ٹورنامنٹ میں کُل 11، 11 وکٹیں حاصل کیں— تصویر: اے ایف پی

اس ٹورنامنٹ میں 16 ٹیموں نے حصہ لیا اور کُل 45 میچ کھیلے گئے۔ کوالیفائر گروپس میں 12 اور فائنل گروپس میں 30 میچ، پھر 2 سیمی فائنل اور آخر میں فائنل۔ ایونٹ کے دوران چند میچوں میں بارش نے مداخلت کی جس کے باعث 4 میچ بے نتیجہ رہے۔ ان میں سے 3 ایک بھی گیند کھیلے بغیر ہی ختم ہوگئے۔ کچھ میچوں میں اپ سیٹ بھی دیکھنے کو ملے جیسے کہ ویسٹ انڈیز کوالیفائنگ راؤنڈ ہی میں ٹورنامنٹ سے باہر ہوگیا۔

مجموعی طور پر 8واں ٹی20 ورلڈ کپ پُرسکون انداز اور نظم و ضبط کے ساتھ کھیلا گیا۔ اب اگلا ایڈیشن جون 2024ء میں ہوگا اور وہ بھی امریکا جیسے ملک میں جہاں کبھی کرکٹ کا کوئی عالمی مقابلہ منعقد نہیں ہوا۔ امریکا پہلی مرتبہ ٹی20 ورلڈ کپ میں میزبانی کرے گا اور اس کے ساتھ ویسٹ انڈیز بھی میزبانی میں شریک ہوگا، جو اس سے قبل 2010ء میں بھی میزبان رہ چکا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں