ایران میں جاری مظاہروں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن پر اقوام متحدہ کا اظہار مذمت

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2022
<p>16 ستمبر کو 22 سالہ مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ملک بھر میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے — فوٹو: اے ایف پی</p>

16 ستمبر کو 22 سالہ مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ملک بھر میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے — فوٹو: اے ایف پی

اقوام متحدہ نے ایران کی جانب سے جاری مظاہروں کے خلاف مہلک کریک ڈاؤن کرنے پر مذمت کی ہے، جو ملک بھر میں تقریباً دو مہینے سے جاری ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں ’اے ایف پی‘ اور ’رائٹرز‘ کے مطابق ترجمان جیرمی لارنس نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس چیف ولوکر ٹرک نے کہا ہے کہ ایران میں جاری مظاہروں میں بڑھتی ہوئی ہلاکتیں، جس میں بچے بھی شامل ہیں، اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے سخت ردعمل ملک میں تشویش ناک صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم متعلقہ حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ عوام کے مساوات، وقار اور حقوق کے مطالبے کو سنیں، اور غیر متناسب اور غیر ضروری طور پر فورسز کا استعمال کرکے مظاہرین کی آواز نہ دبائیں۔

انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عدم احتساب ایران میں مسلسل جاری ہے اور ایران میں لوگوں کی تکالیف میں مزید اضافے کا سبب بن رہا ہے۔

رائٹس گروپ نے بتایا کہ ان کے یہ تبصرے پیر کے روز ایرانی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مغربی ایران کے کرد آبادی والے علاقوں میں کریک ڈاؤن تیز کرنے کے بعد سامنے آئے ہیں، جہاں پر مظاہرین پر براہ راست بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی اور 24 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔

16 ستمبر کو 22 سالہ مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد ملک بھر میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے جو کئی برسوں بعد ایران کے مذہبی حکمرانوں کے لیے پریشان کن صورتحال کا باعث بن گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بتایا کہ جب سے مظاہرے شروع ہوئے ہیں، اس وقت سے اب تک 300 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں 40 بچے بھی شامل ہیں۔

ناروے میں قائم ایران ہیومن رائٹس (آئی ایچ آر) گروپ نے ہفتے کو بتایا کہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کم از کم 378 ہو چکی ہے۔

آئی ایچ آر کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند دنوں میں کئی شہروں میں خاص طور پر شدید حکومت مخالف مظاہرے ہوئے ہیں۔

لارنس نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ کردش شہروں میں گزشتہ ہفتے 40 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہفتے کے اختتام پر پر ہلاک ہونے والے 6 افراد میں دو 16 سال کے لڑکے بھی شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں سیکیورٹی فورسز کی نمایاں تعداد کو تعینات کیا گیا ہے، رات کو ہمیں اطلاعات ملیں کہ سیکیورٹی فورسز نے مظاہروں پر طاقت کے ذریعے ردعمل دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ مظاہرے شروع ہونے سے اب تک ایران کے 31 میں سے 25 صوبوں میں مظاہرین ہلاک ہوئے ہیں، جن میں سیستان اور بلوچستان بھی شامل ہے، جہاں پر 100 سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شروع سے ہی ایران کے 31 میں سے 25 صوبوں میں مظاہرین کو ہلاک کیا جاچکا ہے، جن میں سیستان اور بلوچستان میں 100 سے زیادہ افراد شامل ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں