جنوبی پنجاب کے مسلح گروہ کالعدم تنظیم کے سائے تلے متحد، تھانوں پر حملے کی دھمکی

اپ ڈیٹ 26 نومبر 2022
<p>جنوبی پنجاب میں مسلحہ گروہوں نے پولیس تھانوں پر حملہ کی دھمکی دی ہے— فائل فوٹو: آن لائن</p>

جنوبی پنجاب میں مسلحہ گروہوں نے پولیس تھانوں پر حملہ کی دھمکی دی ہے— فائل فوٹو: آن لائن

جنوبی پنجاب میں پولیس مقابلے کے دوران ایک انتہائی مطلوب مجرم کی ہلاکت کے بعد خطرناک مجرموں کے کئی گروہوں نے ایک کالعدم عسکریت پسند گروپ (بی ایل اے) کے سائے تلے متحد ہونے کے بعد راجن پور کی تحصیل روجھان میں چھ پولیس تھانوں پر حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ایک سینیئر پولیس افسر نے بتایا کہ خطرناک مجرموں کی ایسی دھمکی پر پولیس کے اعلیٰ افسران نے مناسب جوابی کارروائی کے لیے حکمت عملی تیار کرنا شروع کر دی ہے۔

خیال رہے کہ 23 نومبر کو رات دیر گئے پولیس کے ساتھ شدید جھڑپوں میں مجرموں نے پانچ گھنٹے سے زائد عرصے تک ناقص ہتھیاروں سے لیس پولیس فورس پر راکٹ لانچر، مارٹر اور دیگر ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔

ڈیرہ غازی خان کے ریجنل پولیس افسر (آر پی او) نے ڈان کو بتایا کہ مجرموں کے ساتھ فائرنگ کا اختتام ایک خطرناک اشتہاری مجرم اور گینگ کے سربراہ خدا بخش کی ہلاکت پر ہوا جس کے سر کی قیمت 18 لاکھ روپے مقرر کی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 12 افراد سخت زخمی ہو گئے جہاں بھاری ہتھیاروں سے لیس مجرموں نے کئی بلٹ پروف گاڑیوں کو گولیوں سے چھلنی کردیا۔

پولیس افسر نے کہا کہ 5 پولیس اہلکاروں سمیت ایک بندوق بردار دو دہائیوں پرانی پولیس کی بکتر بند گاڑی میں پھنس گئے کیونکہ مجربوں کی فائرنگ سے آپریشن کے دوران گاڑی کے ٹائر پھٹ گئے اور پھر مجرموں کے ایک گروہ نے بھاری ہتھیاروں سے پولیس وین پر حملہ کردیا۔

ایمرجنسی کال کے بعد پولیس کی اضافی نفری وہاں پہنچی جس کے بعد ایک بار پھر مقابلہ ہوا جہاں پولیس نے حملہ آوروں کو بھاگنے پر مجبور کیا اور اس طرح سخت مزاحمت کے بعد پھنسے ہوئے پولیس اہلکاروں کو ریسکیو کیا گیا۔

پولیس حکام نے کہا کہ جھڑپوں کے دوران ایک اور انتہائی مطلوب مجرم گورا عمرانی کو پانچ گولیاں لگیں اور اس کے چھ ساتھی بھی زخمی ہوئے، تاہم حملہ آور اپنے زخمی ساتھیوں کو لے کر گھنی جھاڑیوں اور جنگلوں میں غائب ہو گئے۔

پولیس افسر نے بتایا کہ جنوبی پنجاب کے راجن پور اور رحیم یار خان اضلاع کے نسبتاً ناقابل رسائی علاقوں میں شروع کیے گئے بڑے پیمانے پر آپریشن میں ایک ہزار سے زائد پولیس اہلکار حصہ لے رہے ہیں اور ان علاقوں کی سرحدیں سندھ اور بلوچستان سے ملتی ہیں۔

گزشتہ روز آر پی او نے کہا تھا کہ لونڈ، عمرانی، دلانی، بنو، اندھر اور موسانی گروہوں نے ایک بڑا جرگہ کیا اور بی ایل اے کی چھتری تلے متحد ہو گئے۔

ادھر بی ایل اے نے غیر تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ کے ذریعے اعلان میں خدا بخش کو ’شہید‘ قرار دیتے ہوئے اس کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بی ایل اے کا ایک رکن گورا عمرانی ’ہماری سرزمین‘ پر لڑائی میں شدید زخمی ہوگیا۔

دوسری جانب پنجاب پولیس نے بلوچ عکسریت پسند گروہ کی طرف سے دی گئی سنگین دھمکی کے نتیجے میں راجن پور کے 6 پولیس تھانوں سے نفری واپس بلا لی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق عسکریت پسند گروہ نے راکٹ لانچر اور دیگر بھاری ہتھیاروں کی مدد سے ان پولیس اسٹیشنوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔

حکام کے مطابق 23 نومبر کو ہونے والی جھڑپوں کے بعد جنوبی پنجاب پولیس نے حکومت کو ایک ابتدائی رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ خدا بخش، مجید، عبدالواحد، امین اور شاہد سمیت 26 دیگر خطرناک مجرم گورا عمران کی رہائش پر جمع ہوئے۔

ڈان کے پاس موجود پولیس رپورٹ کی نقل کے مطابق تمام مجرم ایس ایم جیز، جی تھریز، ایل ایم جیز جیسے بھاری ہتھیاروں سے لیس ہیں جنہوں نے بہار ماچھی پولیس پکٹ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ پولیس پکٹ روجھان کے جنوب مغرب میں موضع خیرپور بمبلی کے علاقے میں واقع ہے جس کی آبادی تقریباً 7 ہزار افراد پر مشتمل ہے جن کی بڑی تعداد مزاری قبیلے سے تعلق رکھتی ہے۔

روجھان میں سیکیورٹی کی ناقص صورتحال کے بعد ایلیٹ کمانڈوز سمیت پنجاب پولیس کے 200 کے قریب اہلکاروں نے تحصیل کی جانب پیش قدمی کی اور راجن پور کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر احمد محی الدین کی سربراہی میں آپریشن کا آغاز کیا۔

تاہم، روجھان میں صورتحال کچھ زیادہ ہی کشیدہ تھی جہاں مسلح گروہ اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کی جانب بڑھ رہے تھے، اس صورتحال کے بعد جنوبی پنجاب پولیس نے خطرناک مجرموں سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں