پنجاب: تحفظِ خواتین ایکٹ اسلامی احکامات کے خلاف نہیں، شرعی کورٹ

اپ ڈیٹ 30 نومبر 2022
<p>شرعی کورٹ کے فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ اسلام میں تشدد کو ناپسند اور اس پر سختی سے کنٹرول کیا گیا ہے—فائل فوٹو</p>

شرعی کورٹ کے فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ اسلام میں تشدد کو ناپسند اور اس پر سختی سے کنٹرول کیا گیا ہے—فائل فوٹو

وفاقی شریعت کورٹ نے پنجاب اسمبلی سے خواتین کے تحفظ کے لیے منظور کیے گئے قانون کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون اسلامی احکامات کے خلاف نہیں ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور اور جسٹس خادم حسین ایم شیخ پر مشتمل وفاقی شریعت کورٹ کے بینچ نے ’پنجاب پروٹیکشن آف ویمن اگینسٹ وائلنس ایکٹ 2016‘ پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ قانون قرآن پاک اور پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺؑ کی سنت کی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔

پنجاب اسمبلی کی طرف سے بنایا گیا قانون ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا قانون ہے جو خواتین کو متعدد جرائم سے مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے۔

وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ اسلام میں تشدد کو ناپسند کیا گیا ہے اور خواتین کو ہر قسم کے تشدد سے تحفظ بھی فراہم کیا گیا ہے۔

فیصلے میں کچھ احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ اسلام خواتین کو ہر قسم کے تشدد سے تحفظ دینے اور ان کا خیال رکھنے کے عمل کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ ’جس قانون کو متنازع بنایا گیا ہے اس میں ایسی کوئی شق شامل نہیں جن کی قرآن پاک اور اور پیغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کی سنت مبارک میں نفی کی گئی ہو، لہٰذا قانون کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کو مسترد کیا جاتا ہے کیونکہ درخواست گزاروں کے دلائل میں کوئی وزن نہیں ہے۔‘

عدالت نے ملتان میں اس قانون کے تحت قائم کیے گئے ’وائلنس اگینسٹ ویمن سینٹر‘ کے کام اور نتائج کے حوالے سے جواب دہندگان کی جانب سے جمع کی گئی رپورٹس کی تعریف کرتے ہوئے اسے مثبت قرار دیا۔

عدالت نے پنجاب حکومت کو قانون پر باضابطہ طور پر عمل کرتے ہوئے اسے تمام اضلاع میں نافذ کرنے کا بھی حکم دیا جبکہ عدالت نے قانون کے نفاذ سے متعلق تعمیلی رپورٹ بھی طلب کر لی۔

قانون کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے عدالت نے تجویز کیا کہ دیگر صوبے بھی اسی طرح کے قوانین بنائیں۔

خیال رہے کہ خواتین کو ہر قسم کے تشدد اور جرائم سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے 24 فروری 2016 کو پنجاب اسمبلی سے یہ قانون منظور کیا گیا تھا جہاں اس سے 9ماہ قبل مئی 2015 میں صوبائی کابینہ نے اس کی منظوری دی تھی۔

قانون کی منظوری میں تاخیر کا سبب یہ تھا کہ اس پر حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کے کچھ اراکین نے اعتراض کیا تھا۔

پنجاب اسمبلی سے منظور کیے گئے بل کے تحت خواتین کو گھریلو تشدد، معاشی استحصال، جذباتی و نفسیاتی تشدد، بدکلامی اور سائبر کرائمز جیسے جرائم سے تحفظ دیا گیا ہے۔

تاہم قانون کی منظوری کے کچھ دن بعد اس کی کچھ شقوں کو وفاقی شرعی عدالت میں چلینج کیا گیا تھا جہاں درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ قانون کے سیکشن 7(سی)(ڈی) کو اسلامی احکامات کے خلاف قرار دیا جائے۔

قانون کے اس سیکشن میں مردوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے ان کی کلائی پر جی پی ایس ٹریکرز رکھنے کی تجویز دی گئی تھی۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں