کپتان اسٹوکس سمیت آدھی انگلش ٹیم انفیکشن کا شکار، پہلا ٹیسٹ میچ ملتوی ہونے کا خدشہ

اپ ڈیٹ 30 نومبر 2022
<p>انگلینڈ کے کپتان سمیت متعدد کھلاڑی انفیکشن کا شکار ہو گئے — فوٹو: اے ایف پی</p>

انگلینڈ کے کپتان سمیت متعدد کھلاڑی انفیکشن کا شکار ہو گئے — فوٹو: اے ایف پی

پاکستان کے خلاف پہلے ٹیسٹ میچ سے ایک روز قبل انگلینڈ کی ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس سمیت متعدد کھلاڑی پیٹ کے انفیکشن کا شکار ہو گئے ہیں جس کے بعد میچ ایک سے دو دن ملتوی کیے جانے کا امکان ہے۔

انگلینڈ کی ٹیم 17 سال بعد ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان کی سرزمین پر موجود ہے اور دونوں ٹیموں کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ یکم دسمبر سے راولپنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں شروع ہونا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق انگلش کپتان بین اسٹوکس سمیت دیگر کھلاڑی اور عملے کے کچھ اراکین بھی پیٹ کے انفیکشن کا شکار ہو گئے ہیں۔

ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹرافی کی تقریب رونمائی بھی آج ہونی تھی لیکن بین اسٹوکس کی صحتیابی تک تقریب رونمائی کو ملتوی کردیا گیا ہے۔

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ متعدد کھلاڑیوں کی طبیعت خراب ہے اور انہیں ہوٹل میں رہ کر آرام کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق انگلش ٹیم کے کھلاڑی وائرل فوڈ پوائزننگ کا شکار ہوئے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے مطابق 16 رکنی اسکواڈ کے نصف سے زائد اراکین فوڈ پوائزننگ کا شکار ہوئے اور صرف پانچ کھلاڑیوں نے ٹریننگ میں حصہ لیا جبکہ دیگر کھلاڑیوں، عملے اور کوچز نے ہوٹل میں آرام کو ترجیح دی۔

بدھ کو ٹریننگ کرنے والوں میں جو روٹ، زیک کرالی، اولی پوپ، ہیری بروکس اور کیٹن جیننگس شامل ہیں۔

وائرس کا شکار ہونے کے سبب انگلینڈ کی ٹیم پہلے ٹیسٹ کے لیے اعلان کردہ ٹیم میں تبدیلیاں کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔

بیماری کا کھلاڑیوں کے کھانے سے کوئی تعلق نہیں، روٹ

دوسری جانب انگلش بلے باز جو روٹ نے کھلاڑیوں کی فوڈ پوائزننگ یا کھانے سے منسلک کسی بیماری کے شکار ہونے کی افواہوں کی تردید کردی ہے۔

انگلینڈ کے مایہ ناز بلے باز اور سابق کپتان جو روٹ نے بدھ کو راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کھلاڑیوں کے بیمار ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جہاں تک میری معلومات ہیں، کچھ کھلاڑیوں کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں کل کچھ اچھا محسوس نہیں کر رہا تھا لیکن آج صبح میری طبیعت قدرے بہتر تھی تو شاید یہ 24 گھنٹے کا وائرس ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ میرا نہیں خیال وہ فوڈ پوائزننگ یا کووڈ 19 کا شکار ہوئے ہیں، بس ہمارے کھلاڑی بدقسمتی سے کسی وائرس کا شکار ہوگئے۔

تاہم انگلش بلے باز نے واضح کیا کہ اس بیماری کا کھلاڑیوں کے کھانے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم گزشتہ چند سالوں سے اپنے ہمراہ شیف لے کر سفر کر رہے ہیں، اگر بین الاقوامی ٹیموں بالخصوص انگلینڈ کی ٹیم کا جائزہ لیں تو ان سب کے اپنے شیف ہیں اور ہم اسے ذاتی پسند، ناپسند کے ساتھ ساتھ صحت کے حوالے سے بھی اہم سمجھتے ہیں۔

کھلاڑیوں کی طبیعت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر جو روٹ نے کہا کہ اس بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ میں نے آج صبح کسی کو بھی نہیں دیکھا، وہ جو کچھ ممکن ہو سکتا ہے وہ کر رہے ہیں، وہ اس میچ کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں لہٰذا میرے خیال میں اس بارے میں وقت ہی بہتر بتا سکتا ہے۔

انگلش کرکٹ بورڈ کے ترجمان ڈینی ریوبن نے بھی واضح کیا کہ 7 کھلاڑیوں سمیت اسکواڈ کے 13 سے 14 افراد وائرس کا شکار ہوئے ہیں جس کا کورونا یا فوڈ پوائزننگ سے کوئی تعلق نہیں۔

میچ ملتوی ہونے کا خدشہ

ادھر انگلش ٹیم کے کھلاڑیوں کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے پاکستان اور انگلش کرکٹ بورڈز نے ٹیسٹ میچ ایک سے دو دن ملتوی کرنے پر سوچ بچار شروع کردیا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ پہلے ٹیسٹ میچ کے آغاز کے حوالے سے مسلسل مشاورت کر رہے ہیں۔

اس حوالے سے کہا گیا کہ پی سی بی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور انگلش بورڈ سے مسلسل رابطے میں ہے، اس حوالے سے مزید معلومات جلد فراہم کی جائیں گی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ انگلینڈ کی ٹیم اس دورے کے لیے خصوصی طور پر اپنا شیف بھی ساتھ لائی ہے لیکن اس کے باوجود محض چند دن کے اندر ہی انفیکشن کا شکار ہوگئی۔

رپورٹ کے مطابق کھلاڑیوں اور معاون عملے کی رائے تھی کہ خاص طور پر میچ کے مقامات پر پیش کیا گیا کھانا معیاری اور کھانے کے قابل نہیں تھا اور دورے کے دوران چند ارکان ہاضمے کی خرابی کا شکار ہوئے تھے۔

رواں برس ستمبر میں دونوں ملکوں کی ٹیموں کے درمیان کھیلی گئی سات میچوں کی ٹی20 میچوں کی سیریز کے دوران ملنے والے کھانے کے حوالے سے انگلش ٹیم کے کھلاڑیوں نے اپنے تجربات بیان کیے تھے جس کے بعد شیف کے تقرر کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

آسٹریلوی ٹیم کی طرف سے بھی رواں سال اپنے کامیاب دورہ پاکستان کے حوالے سے بھی ایک غلطی کا اظہار کیا گیا تھا کہ وہ اپنے ساتھ باورچی کو نہیں لے کر آئے۔

انگلینڈ کی ٹیم دورہ پاکستان پر عمر میزین نامی اسی باورچی کو ساتھ لائی ہے جو 2018 کے فیفا ورلڈکپ میں انگلینڈ کی مینز فٹبال ٹیم کے شیف تھے۔

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین میچوں کی سیریز کا پہلا میچ راولپنڈی میں کھیلا جائے گا جس کے بعد مہمان ٹیم 9 دسمبر سے شروع ہونے والے دوسرے میچ کے لیے ملتان کا رخ کرے گی جبکہ سیریز کے تیسرے ٹیسٹ میچ کی میزبانی 17 دسمبر سے کراچی کا نیشنل اسٹیڈیم کرے گا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں