کراچی کے صارفین کیلئے بجلی 2 روپے 15 پیسے فی یونٹ سستی کرنے کی منظوری

اپ ڈیٹ 01 دسمبر 2022
<p>کے الیکٹرک کی جانب سے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ دسمبر کے بلوں میں لاگو کیا جائے گا—فائل فوٹو: کے الیکٹرک ویب سائٹ</p>

کے الیکٹرک کی جانب سے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ دسمبر کے بلوں میں لاگو کیا جائے گا—فائل فوٹو: کے الیکٹرک ویب سائٹ

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے کے الیکٹرک صارفین کے لیے ماہانہ فیول لاگت ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) میں 2 روپے 15 پیسے فی یونٹ اور سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (کیو ٹی اے) میں 7 روپے 83 پیسے فی یونٹ کمی کی منظوری دے دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کے الیکٹرک صارفین کو دسمبر کے بلوں میں 3 ارب 59 کروڑ روپے کی واپسی کے لیے نیپرا کی جانب سے آئندہ ہفتے نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا جبکہ کیو ٹی اے کے تعین کو حتمی شکل دینے کے لیے وفاقی حکومت سے علیحدہ طور پر رجوع کیا جائے گا جس میں ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی میں ایڈجسٹمنٹ بھی شامل ہوگی۔

یہ فیصلے چیئرمین نیپرا توصیف فاروقی کی زیر صدارت عوامی سماعت میں کیے گئے، ایف سی اے ایڈجسٹمنٹ کا تعلق اکتوبر میں استعمال ہونے والی بجلی سے ہے جبکہ کیو ٹی اے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی (جولائی-ستمبر) سے متعلق ہے۔

کے الیکٹرک نے اکتوبر میں پیدا ہونے والی سستی بجلی کی وجہ سے صارفین کو تقریباً 3 ارب 16 کروڑ روپے ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے واپس کرنے کے لیے ایف سی اے میں تقریباً 1.9 روپے فی یونٹ کمی کا مطالبہ کیا تھا، نیپرا نے ڈیٹا کی جانچ کے بعد 3 ارب 59 کروڑ روپے ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے 2.15 روپے فی یونٹ کی منفی ایڈجسٹمنٹ کی۔

کے الیکٹرک نے اپنی دوسری درخواست میں جولائی تا ستمبر کے لیے تقریباً 7.8 روپے فی یونٹ منفی سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ کیا تھا اور نیپرا نے 7.83 روپے فی یونٹ کی کمی کی۔

خیال رہے کہ عام طور پر ملک بھر میں لاگو یکساں ٹیرف پالیسی کے تحت سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا اثر فوری طور پر صارفین تک نہیں پہنچایا جاتا۔

یہ لگاتار چوتھا مہینہ ہے کہ کے الیکٹرک صارفین کے لیے ایف سی اے، ریفرنس ٹیرف سے کم تھا، اس کے سبب ایف سی اے پر پچھلے کئی مہینوں میں 11 روپے فی یونٹ سے زیادہ ہونے والے ریکارڈ توڑ اضافے کا بوجھ جزوی طور پر کم ہوا۔

ایف سی اے میں کمی دراصل ملک گیر یونیفارم بیس ٹیرف میں اضافے کی وجہ سے ہے جو اگست میں 7 روپے فی یونٹ اور اکتوبر میں تقریباً 91 پیسے فی یونٹ بڑھ گیا تھا۔

عوامی سماعت کے دوران کے الیکٹرک کے نمائندوں نے بتایا کہ اکتوبر کے لیے منفی ایف سی اے دراصل سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) سے خریدی گئی آر ایل این جی، فرنس آئل اور بجلی کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ہے۔

کے الیکٹرک کی جانب سے کہا گیا کہ ستمبر کے مقابلے میں اکتوبر میں آر ایل این جی اور فرنس آئل کی قیمتوں میں بالترتیب 16 فیصد اور 6 فیصد کمی ہوئی۔

کے الیکٹرک کی جانب سے بتایا گیا کہ اس نے اپنے پاور پلانٹس سے تقریباً 33 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی پیدا کی جب کہ نیشنل گرڈ یعنی نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی سے خریدی گئی بجلی کی قیمت صرف 12 روپے فی یونٹ رہی۔

اگلے ہفتے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد کے الیکٹرک کو دسمبر میں ایڈجسٹمنٹ کی مد میں صارفین کو تقریباً 3 ارب 59 کروڑ روپے واپس کرنے ہوں گے۔

نظرثانی شدہ ریٹس 300 یونٹس تک استعمال کرنے والے لائف لائن گھریلو صارفین اور کے-الیکٹرک کے الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشن (ای وی سی ایس) صارفین کے علاوہ تمام ضمروں میں شامل صارفین پر لاگو ہوں گے، ماہانہ ایف سی اے کی وجہ سے منفی ایڈجسٹمنٹ کا اطلاق ٹی او یو میٹرز کے حامل گھریلو صارفین پر بھی ہوتا ہے۔

کے الیکٹرک کی جانب سے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ دسمبر کے بلوں میں لاگو کیا جائے گا۔

ٹیرف میکینزم کے تحت ایندھن کی لاگت میں تبدیلی صرف ماہانہ بنیادوں پر ایک خودکار طریقہ کار کے ذریعے صارفین تک پہنچائی جاتی ہے جب کہ بجلی کی خریداری کی قیمت، کیپیسیٹی چارجز، دیکھ بھال کے اخراجات، سسٹم چارجز کا استعمال اور اس میں شامل ہونے کی وجہ سے سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے اثرات وفاقی حکومت کے بیس ٹیرف میں شامل کیے جاتے ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں