نامور صحافی عمران اسلم 70 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

اپ ڈیٹ 02 دسمبر 2022
<p>عمران اسلم نے پی ٹی وی کا معروف ڈرامہ روزی تحریر کیا تھا — فوٹو بشکریہ ٹوئٹر</p>

عمران اسلم نے پی ٹی وی کا معروف ڈرامہ روزی تحریر کیا تھا — فوٹو بشکریہ ٹوئٹر

معروف صحافی اور جیو و جنگ گروپ کے صدر عمران اسلم جمعہ کو 70سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق عمران اسلم کی طبیعت کچھ عرصے سے ناساز تھی اور وہ ہسپتال میں زیر علاج تھے۔

صحافی، اسکرپٹ رائٹر، وائس اوور آرٹسٹ، ٹی وی نیٹ ورک کے سربراہ اور ایک ہمہ جہت بصیرت رکھنے والے عمران اسلم نے تین دہائیوں پر محیط کیریئر میں بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔

ان کا سیاسی شخصیات سے گہرا تعلق رہا اور بحیثیت صحافی انہوں نے اعلیٰ پیشہ ورانہ خدمات انجام دیتے ہوئے مشکل خبروں کو اخبار اور چینل میں بہترین انداز میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ انٹرٹینمنٹ کی صنعت کی معروف اور تجربہ افراد کے ہمراہ کام کرتے ہوئے ان کے لیے اسکرپٹ لکھے اور چینل کے امور ذمے دارانہ انداز میں انجام دیے۔

جیوز نیوز کے مطابق وہ دی نیوز کے ایڈیٹر اور ایڈیٹر ان چیف رہے اور جیو نیوز لانچ کرنے والی ٹیم کا حصہ تھے، انہوں نے مختلف ڈراموں کے اسکرپٹ تحریر کرنے کے ساتھ ساتھ جیو کہانی سمیت کئی پراجیکٹ کامیابی سے لانچ کیے۔

انہوں نے پی ٹی وی کا معروف ڈراما ’روزی‘ تحریر کیا تھا جس میں معین اختر نے اداکاری کے جوہر دکھائے تھے جبکہ وہ کچھ عرصے تک جیو نیوز کے پروگرام ’ہم سب امید سے ہیں‘ بھی تحریر کرتے رہے۔

عمران اسلم کی موت نے پر ساتھی صحافیوں، سیاست دانوں اور معاشرے کے دیگر طبقات سے تعلق افراد نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اہلخانہ سے تعزیت کی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے جنگ اور جیو گروپ کے صدر عمران اسلم کی وفات پر اپنے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے ان کی خدمات کو سراہا ہے ۔

جمعہ کو وزیراعظم آفس کے میڈیاونگ سے جاری بیان میں شہباز شریف نے مرحوم کے درجات بلندی اور ان کے اہل خانہ و دیگرسوگواران کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔

وزیر اعظم نے کہاکہ عمران اسلم پاکستان کی صحافتی برادری میں نمایاں مقام رکھتے تھے اور پاکستان میں میڈیا کی ترقی کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائےگا۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صحافی کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے دعا کی۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ عمران اسلم کی صحافت اور ادب میں خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

صحافی مظہر عباس نے اس خبر کو بڑا صدمہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عمران اسلم سے پہلی بار نوے کی دہائی میں روزنامہ دی اسٹار کے لیے کام کرتے ہوئے پہلی بار ملاقات ہوئی تھی اور میں اب تک جن لوگوں سے ملا، وہ ایک شاندار شخصیت کے حامل فرد تھے۔

دی نیوز کے سابق صحافی عامر ضیا نے کہا کہ مجھ سمیت بہت سے صحافیوں کے کیریئر عمران اسلم کی مرہون منت ہیں۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کی سابق مندوب اور مصنفہ ملیحہ لودھی نے عمران اسلم کو ایک بہترین پیشہ ورانہ شخصیت، مہربان انسان اور قریبی دوست قرار دیا۔

تبصرے (0) بند ہیں