فواد چوہدری کی حکومت سے غیر رسمی رابطوں کی تصدیق، ’کوشش ہے اداروں کے ساتھ تلخیاں کم ہوں‘

اپ ڈیٹ 05 دسمبر 2022
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ اداروں کے ساتھ تلخیاں کم ہوں— فوٹو: ڈان نیوز</p>

ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ اداروں کے ساتھ تلخیاں کم ہوں— فوٹو: ڈان نیوز

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری نے حکومت سے غیر رسمی رابطوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ انتخابات کے علاوہ کوئی اور نظام ملک میں استحکام نہیں دے سکتا۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ جو معیشت کی صورتحال ہے اس میں یہ حکومت بڑی تیزی کے ساتھ اپنی اہمیت کھو رہی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ پتا چلے کہ یہ سارے لوگ جہاز میں بیٹھ کر ملک سے چلے گئے ہیں اور پاکستان میں ایک خلا پیدا ہو، یہ نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے خاص طور پر اسحٰق ڈار کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ انتخابات کے علاوہ ملک میں استحکام کوئی اور نظام نہیں دے سکتا۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہمارا خدشہ ہے کہ یہ حکومت اب زیادہ دیر نہیں رہ سکے گی، اس حکومت نے تو اب جانا ہی ہے، چاہے یہ 15 دن یا ایک مہینہ اور گزار لیں، اس کے بعد انتخابات ہونے چاہئیں اور کوئی ماورائے آئین اقدامات نہیں ہونے چاہئیں۔

’مسلسل کوشش ہے، اداروں کے ساتھ تلخیاں کم ہوں‘

ان کا کہنا تھا کہ ہماری مسلسل کوشش ہے کہ اداروں کے ساتھ تلخیاں کم ہوں، ہم عدلیہ اور فوج کے ساتھ تلخیاں بڑھانا نہیں کم کرنا چاہتے ہیں، بعض عناصر ایسے ہیں جو ان تلخیوں کو بڑھا رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ ہماری لیڈرشپ کو دیکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اعظم سواتی کے بعد اب شہباز گِل کے خلاف ایف آئی آر درج ہو رہی ہیں، ہمیں اس پر تشویش ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ ہم جو تعلقات بہتر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کچھ لوگ یا وفاقی حکومت اس کو بگاڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا میں یہ خبر لگوائی گئی ہے کہ الیکشن کمیشن عمران خان کی بطور چیئرمین نااہلی کے لیے کارروائی شروع کر رہا ہے، اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے، عمران خان کے بغیر پاکستان کا سیاسی منظرنامہ مکمل ہی نہیں ہے۔

حکومت پر تنقید کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ معیشت کے جو حالات انہوں نے کر دیے ہیں، بہت جلد شہباز شریف، اسحٰق ڈار، آصف زرداری بھی لندن پہنچ جائیں گے اور فضل الرحمٰن کا کوئی پتا نہیں کہ کابل میں بیٹھے ہوں۔

’لمبی عبوری حکومت آئین کے منافی ہے‘

ان کا کہنا تھا کہ ہم انتخابات کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں، کوئی ماورائے آئین اقدامات نہیں ہونے چاہئیں، پاکستان میں لمبی عبوری حکومت آئین کے منافی ہے، اس کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں ہے، ایسی کسی بھی تجویز کو مسترد کرتے ہیں۔

ان سے سوال پوچھا گیا کہ وفاقی حکومت یا کسی کے بھی پی ٹی آئی کے ساتھ انتخابات کے حوالے سے بیک ڈور رابطے ہوئے ہیں اور کیا چوہدری پرویز الہٰی کے ساتھ کسی نے کہا ہے کہ عام انتخابات کے حوالے سے کردار ادا کریں، اس کے جواب میں فواد چوہدری نے کہا کہ غیر رسمی رابطے ہو رہے ہیں، ہم نے خاص طور پر اسحٰق ڈار کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو معیشت کی صورت حال ہے اس میں یہ حکومت بڑی تیزی کے ساتھ اپنی اہمیت کھو رہی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ پتا چلے کہ یہ سارے لوگ جہاز میں بیٹھ کر ملک سے چلے گئے ہیں اور پاکستان میں ایک خلا پیدا ہو، یہ نہیں ہونا چاہیے، اس لیے انہیں سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ انتخابات کے علاوہ ملک میں استحکام کوئی اور نظام نہیں دے سکتا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ کل شہباز شریف پارلیمانی جمہوریت پر لیکچر دے رہے تھے، پارلیمانی جمہوریت کا پہلا اصول ہے کہ جب بھی حالات ایک حد سے زیادہ خراب ہوتے ہیں، آپ عوام کے پاس جاتے ہیں، آپ عوام سے بھاگ رہے ہیں۔

’مسلم لیگ (ق) اور پی ٹی آئی اتحادی ہیں اور اتحادی رہیں گے‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) اور پاکستان تحریک انصاف اتحادی ہیں اور اتحادی رہیں گے اور ہر معاملے میں قریبی رابطے سے آگے بڑھیں گے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ اور مونس الہٰی نے انٹرویو میں جو نکتہ نظر دیا ہے، اس میں واضح کیا ہے، ان کا خیال ہے کہ اگر اسمبلی توڑنے میں کوئی تاخیر ہو جائے تو حرج نہیں ہے لیکن وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کرنا پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا کام ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ اگر عمران خان کل اسمبلیاں توڑنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ہم کل اسمبلیاں توڑ دیں گے، اگر وہ پرسوں کہیں گے تو پرسوں توڑ دیں گے لیکن یہ نکتہ نظر ہوتا ہے۔

’اسمبلیاں تحلیل کرنے کے حوالے سے کوئی اختلاف نہیں‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسمبلیاں تحلیل کرنے کے حوالے سے کوئی اختلاف رائے نہیں ہے، تاریخ پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ جب ہم قومی اسمبلی کی نشستوں سے استعفیٰ دے رہے تھے، ہمارے متعدد اراکین اسمبلی اس نکتہ نظر کے حامی تھے کہ اسمبلیوں سے استعفیٰ نہ دیا جائے، جب عمران خان اور پارٹی نے فیصلہ کرلیا تو ملک کی تاریخ کے سب سے بڑے 127 استعفے اسمبلی میں پیش ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اجلاس شروع کر دیے ہیں، آج لاہور کے اراکین صوبائی اور قومی اسمبلی کو بلایا ہے، کل پارٹی کے سینئر رہنماؤں کا اجلاس عمران خان نے طلب کیا ہے، اس میں اسمبلیوں کی تحلیل اور سیاسی حکمت کے حوالے سے آگے بڑھیں گے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں