’پاکستان پر غیرملکی ایئرلائنز کے ساڑھے 22 کروڑ ڈالر واجب الادا‘

اپ ڈیٹ 09 دسمبر 2022
<p>ڈائریکٹر جنرل آئی اے ٹی اے نے کہا کہ عدم ادائیگی کی صورت میں خدمات فراہم کرنے کا سلسلہ برقرار نہیں رکھا جاسکتا—فائل فوٹو: اے ایف پی</p>

ڈائریکٹر جنرل آئی اے ٹی اے نے کہا کہ عدم ادائیگی کی صورت میں خدمات فراہم کرنے کا سلسلہ برقرار نہیں رکھا جاسکتا—فائل فوٹو: اے ایف پی

انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان نے غیرملکی ایئرلائنز کے ساڑھے 22 کروڑ ڈالر روک رکھے ہیں جس کے سبب پاکستان انڈسٹری کو واجب الادا فنڈز روکنے والے سرفہرست ممالک میں سے ایک بن گیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق رواں برس اپریل میں پاکستان پہلے ہی سری لنکا کے ساتھ ایک ’بلاکڈ فنڈ‘ ملک قرار دیا جا چکا ہے، دونوں ممالک کو 2021 میں آئی اے ٹی اے کی واچ لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔

آئی اے ٹی اے کے مطابق حکومتوں کی جانب سے روکے گئے ایئرلائنز کو واجب الادا فنڈز میں گذشتہ 6 ماہ کے دوران 39 کروڑ 40 لاکھ ڈالر (25 فیصد) تک اضافہ دیکھا گیا ہے، مجموعی طور پر مختلف حکومتوں نے ایئرلائنز کے 2 ارب ڈالر روک رکھے ہیں۔

خیال رہے کہ مذکورہ ایسوسی ایشن تقریباً 300 ایئر لائنز پر مشتمل ہے جوکہ عالمی فضائی ٹریفک کا 83 فیصد بنتا ہے۔

پاکستان کے علاوہ 27 دیگر ممالک نے بھی غیرملکی ایئرلائنز کی رقوم روکی ہوئی ہیں جن میں پاکستان کا دوسرا نمبر ہے۔

آئی اے ٹی اے کے مطابق پہلے نمبر پر نائجیریا (55 کروڑ 10 لاکھ)، دوسرے نمبر پر پاکستان (ساڑھے 22 کروڑ)، تیسرے پر بنگلہ دیش (20 کروڑ 80 لاکھ)، چوتھے پر لبنان (14 کروڑ 40 لاکھ) جبکہ الجزائر (14 کروڑ) غیرملکی ائیر لائنز کے آمدنی روکنے کی فہرست میں پانچوی نمبر پر ہے۔

آئی اے ٹی اے نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی معاہدوں کے مطابق ٹکٹوں کی فروخت اور دیگر خدمات سے حاصل ہونے والی آمدنی ایئر لائنز کو واپس بھیجنے کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔

ڈائریکٹر جنرل آئی اے ٹی اے ولی والش نے کہا کہ ’ایئرلائنز کو رقوم کی واپسی روکنا کم ہوتے ہوئے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کا آسان طریقہ نظر آتا ہے لیکن بالآخر ان ممالک کی معیشتوں کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی‘۔

انہوں نے کہا کہ ’عدم ادائیگی کی صورت میں کوئی بھی کاروبار خدمات فراہم کرنے کا سلسلہ برقرار نہیں رکھ سکتا، ایئر لائنز کے لیے بھی یہی اصول ہے، کسی بھی معیشت کے لیے عالمی سطح پر منڈیوں اور سپلائی چینز سے جڑے رہنے کے لیے محصولات کی مؤثر ادائیگی ممکن بنانا ضروری ہے‘۔

یاد رہے کہ ستمبر میں جاری کردہ ایک اپ ڈیٹ میں آئی اے ٹی اے نے کہا تھا کہ انڈسٹری کے بلاک شدہ فنڈز گزشتہ 6 ماہ کے دوران 27 فیصد بڑھ کر ایک ارب 85 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔

اس وقت ایسوسی ایشن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ بلاک کی گئی رقم وجہ 2 عوامل ہیں جن میں سے ایک بیش تر مارکیٹوں میں فروخت میں اضافہ ہے اور دوسرا نائیجیریا، پاکستان، مصر، روس اور یوکرین سمیت 2 نئے ممالک میں غیرمستحکم صورتحال ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں