فیفا ڈائری (28واں دن): پہلی مرتبہ تیسری پوزیشن کا میچ کور کیا

18 دسمبر 2022

اس سلسلے کی بقیہ اقساط یہاں پڑھیے۔


کل فائنل سے پہلے کی آخری رات تھی اور میں پہلی مرتبہ کسی بھی فیفا ورلڈکپ میں تیسری پوزیشن کے لیے کھیلا جانے والا میچ کور کررہا تھا۔

میں نے اس سے پہلے کسی بھی فیفا ورلڈ کپ میں تیسری پوزیشن کے لیے کھیلا جانے والا میچ کور نہیں کیا تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ہمیشہ تیسری پوزیشن کے لیے کھیلا جانے والا میچ کسی دور دراز شہر میں ہوا کرتا تھا اور وہاں جانا مشکل ہوتا تھا۔ مگر قطر میں فیفا ورلڈکپ ہونے کا یہی فائدہ ہے کہ تمام اسٹیڈیم قریب قریب ہیں، یہی وجہ ہے کہ میں نے بھی تیسری پوزیشن کے لیے کھیلے جانے والا میچ کور کرنے کا سوچا۔

یہ میچ مزیدار تو تھا لیکن چونکہ تیسری پوزیشن کے لیے تھا تو بس یہی خیال تھا کہ یہ جلدی ختم ہوجائے۔ اس میچ میں ویسے تو اتنی دلچسپی نہیں ہوتی کیونکہ جیتنے والی ٹیم نے جیتنے کے بعد بھی تیسرے نمبر پر ہی آنا ہوتا ہے۔ لیکن کل کے میچ میں بہرحال مراکش کی ٹیم کے سبب دلچسپی بنی ہوئی تھی۔

چونکہ تیسری پوزیشن کے لیے میچ تھا تو بس یہی خیال تھا کہ یہ جلدی ختم ہوجائے— تصویر: لکھاری
چونکہ تیسری پوزیشن کے لیے میچ تھا تو بس یہی خیال تھا کہ یہ جلدی ختم ہوجائے— تصویر: لکھاری

لیکن میری صورتحال مختلف تھی۔ مراکش کی ٹیم نے میچ کے آخری اوقات میں اٹیک کیا تو میں دعا کررہا تھا کہ گول نہ ہو کیونکہ اگر گول ہوجاتا تو اسکور برابر ہوجاتا اور پھر معاملہ اضافی وقت یا پینلٹی پر جاتا اور میچ مزید طویل ہوجاتا۔

میں تو اب بس فیفا ورلڈکپ فائنل کے حوالے سے ہی پُرجوش ہوں۔ فائنل سے پہلے کل دونوں فائنلسٹ ٹیموں یعنی ارجنٹینا اور فرانس کی پریس کانفرنسیں ہوئی تھیں۔ پھر ٹیکنیکل اسٹڈی گروپ کی بھی پریس کانفرنس تھی جنہیں کور کرنا ضروری تھا۔

   ٹیکنیکل اسٹڈی گروپ کی پریس کانفرنس— تصویر: لکھاری
ٹیکنیکل اسٹڈی گروپ کی پریس کانفرنس— تصویر: لکھاری

ان پریس کانفرنسوں کو کور کرنے کے بعد میں میچ کور کرنے گیا اور سچ پوچھیں تو میرے حساب سے کل کا دن بہت ہی لمبا رہا۔ میچ ختم ہونے کے بعد میڈیا سینٹر آیا۔ وہاں کچھ چیزوں کو حتمی شکل دینی تھی اور فائنل کے لیے بھی تیاری کرنی تھی کہ کیا چیز کس طرح ہوگی۔

   کل قطر میں گلاب جامن کھائی— تصویر: لکھاری
کل قطر میں گلاب جامن کھائی— تصویر: لکھاری

اس بھاگ دوڑ کے بعد ظاہر ہے کہ بھوک تو لگنی تھی اور وہ لگی بھی، لیکن کل ہم اپنے اس پرانے ’اڈّے‘ پر نہیں گئے بلکہ ہم نے رات میں ایک حیدر آبادی ریسٹورنٹ میں کھانا کھایا۔ وہاں کا کھانا بھی بہت زبردست تھا اور ہمیں بھوک بھی شدید لگی ہوئی تھی۔ میں کھانا کھانے میں ایسا مگن ہوا کہ کھانے کی تصویر ہی لینا بھول گیا۔ بہرحال کل ہم نے قطر میں گلاب جامن کھائے جو بہت ہی کمال کے تھی، اور اس کی تصویر آپ اوپر ملاحظہ کرسکتے ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں