پاکستان میں موبائل سمز کے اجرا کا طریقہ کار تبدیل کردیا گیا

26 دسمبر 2022
<p>—فائل فوٹو: اے ایف پی</p>

—فائل فوٹو: اے ایف پی

پاکستان بھر میں جعل سازی اور دھوکہ دہی کو روکنے کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) اور موبائل کمپنیز کے تعاون سے سمز کے اجرا کا طریقہ کار تبدیل کردیا۔

پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اب ملک بھر میں پہلے کی طرح نہیں بلکہ خود کار نظام کے تحت موبائل سم حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کی انگلیوں کی تصدیق ہوگی۔

اب تک موبائل سمز آپریٹرز صارف کو کوئی خاص انگلی مشین پر رکھنے کی ہدایت کرتے تھے اور مشین اسی انگلی کی تصدیق کرنے کے بعد صارف کو مجاز ٹھہراتی تھی۔

تاہم اب صارف کو موبائل سمز آپریٹر کوئی ہدایات نہیں دے گا بلکہ صارف خود ہی مشین پر ہر انگلی رکھتا جائے گا اور مشین خودکار نظام کے تحت کوئی خاصی انگلی کی شناخت کرکے صارف کو سم کے لیے اہل قرار دے گی۔

اس طریقہ کار کے تحت صارف کے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو مشین اسکین کرکے انگوٹھوں اور انگلیوں میں سے دو کی تصدیق کے بعد صارف کو سم کے لیے اہل قرار دے گی۔

نئے طریقہ کار کے تحت موبائل سم آپریٹر یا کسی اور کا کوئی کردار نہیں رہے گا، اگر کسی صارف کی انگلیوں کو مشین اسکین کرنے میں مشکلات کا شکار ہوگی یا صارف کی انگلیوں کی تصدیق نہیں ہوسکے گی تو اسے سم کارڈ نہیں دیا جا سکے گا۔

مذکورہ طریقہ کار کو پی ٹی اے نے نادرا اور موبائل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں کی معاونت سے تیار کیا ہے اور اسے اب تک کا بہترین طریقہ کار قرار دیا جا رہا ہے۔

پی ٹی اے اور موبائل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں سمیت نادرا کو امید ہے کہ مذکورہ طریقہ کار کے تحت موبائل سم کے اجرا میں ہونے والی جعل سازی یا دھوکہ دہی کو روکا جا سکے گا۔

نئے طریقہ کار کو ’ملٹی فنگر بائیو میٹرک ویری فکیشن سسٹم‘ (ایم بی وی ایس) کا نام دیا ہے جب کہ اس سے قبل نافذ العمل طریقہ کار کو ’بائیو میٹرک ویری فکیشن سسٹم‘ (بی وی ایس) کہا جاتا تھا۔

سم کارڈز کے اجرا کے مذکورہ نئے طریقہ کار کا 23 دسمبر کو افتتاح کیا گیا اور اسے ملک بھر میں فوری طور پر نافذ العمل کردیا گیا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں