ڈیوٹیز اور لیویز کی مد میں ٹیلی کام صارفین سے اضافی 100ارب وصولی کا انکشاف

اپ ڈیٹ 11 جنوری 2023
<p>اعدادوشمار کے مطابق ٹیلی کام شعبے نے 2 ارب 7 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کی—فائل فوٹو: ڈان</p>

اعدادوشمار کے مطابق ٹیلی کام شعبے نے 2 ارب 7 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کی—فائل فوٹو: ڈان

اپریل 2022 میں پاکستان مسلم لیگ(ن) کے برسراقتدار آنے کے بعد ٹیکس کی شرح میں اضافے کے نتیجے میں 30 جون 2022 کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران ٹیلی کام اور انٹرنیٹ سروس صارفین نے ڈیوٹیز اور لیویز کی مد میں 100 ارب روپے سے زائد ادا کیے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق مالی سال 22-2021 کے دوران ٹیلی کام شعبے نے قومی خزانے میں مجموعی طور پر 3 کھرب 25 ارب 20 کروڑ روپے جمع کیے جبکہ اس سے ایک سال قبل 2 کھرب 25 ارب 80 کروڑ روپے جمع کیے گئے تھے۔

پاکستان ٹیلی کمنیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے سالانہ رپورٹ 2022 کے مطابق مالی سال 2021 کے دوران نئے صارفین کی تعداد 10 کروڑ 20 لاکھ سے بڑھ کر 11 کروڑ 87 لاکھ تک پہنچ گئے جو مالی سال کے دوران 16 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق ٹیلی کام شعبے نے 2 ارب 7 کروڑ ڈالر سرمایہ کاری کی اور 2 کھرب 22 ارب 70 کروڑ روپے ٹیکس جبکہ نیکسٹ جنریشن موبائل سروسز (این جی ایم ایس) کی نیلامی اور لائسنس کی تجدید کی مد میں ایک کھرب 2 ارب 50 کروڑ روپے ادا کیے۔

رپورٹ میں ٹیلی کام شماریات اور پاکستان بھر میں ٹیلی کام کے اعدادوشمار اور اس کے استعمال میں اضافے پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

پی ٹی اے کا کہنا تھا کہ منافع خوری اور مہنگائی جیسے چیلنج کے باوجود ٹیلی کام شعبے نے ترقی اور ساز گاز ماحول ہونے کی وجہ سے اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔

ملکی تاریخ میں پہلی بار موبائل فون کے درآمدی حجم میں کمی واقع ہوئی کیونکہ مقامی طلب ملکی سطح پر تیار کردہ مصنوعات کے ذریعے پورا کی گئی۔

پاکستان نے جنوری 2021 سے ستمبر 2022 تک 4 کروڑ 13 لاکھ موبائل فون تیار کیے لیکن اسمارٹ فون کی تعداد اس کے نصف تک بھی نہیں پہنچ سکی اور یہ تعداد ایک کروڑ 73 لاکھ رہی۔

مقامی سطح پر موبائل فون کی تیاری سے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے جبکہ کئی بین الاقوامی برانڈ مثال کے طور پر سامسنگ، نوکیا، اوپو، ویوو، ٹیکنو اور انفینکس پہلے ہی پاکستان میں مینوفیکچرنگ کررہے ہیں۔

پاکستان میں ٹیلی کام صارفین (فکسڈ اور موبائل) کی تعداد 19کروڑ 70لاکھ سے زائد ہے جو 90 فیصد ٹیلی ڈینسٹی کی وجہ ہے۔

بائیو میٹرک کے طور پر تصدیق شدہ سمز یا سبسکرائبرز کی تعداد19 کروڑ 40 لاکھ سے زائد ہو گئی ہے جبکہ براڈ بینڈ سبسکرپشن 56 فیصد اضافہ کے ساتھ 12 کروڑ 40لاکھ ہو گئی ہے۔

پاکستان کے سالانہ موبائل ڈیٹا کا استعمال 8 ہزار 970 پیٹا بائیٹس سے تجاوز کرگیا ہے جو 31 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ ماہانہ تقریباً 6.8 جی بی فی سبسکرائبر ہے۔

گلوبل سسٹم فار موبائل کمیونیکیشن ایسوسی ایشن کی جانب سے پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی ٹیلی کام مارکیٹ کا درجہ دیا گیا ہے۔

سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بیگو، اسناک ویڈیو اور میکو جیسے انٹرنیشنل سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو پی ٹی اے کی جانب سے قانونی فریم ورک کے تحت رجسٹر کیا گیا۔

پی ٹی اے نے ملک کا سب سے بڑا ڈیجیٹل جینڈر انکلوژن انیشیٹو کا بھی آغاز کیا جس کے تحت ’آئی سی ٹیز میں صنفی مرکزی دھارے کی شمولیت کی حکمت عملی پہلی مرتبہ تیار کی جا رہی ہے۔

ان اقدامات کا مقصد ٹیلی کام آپریٹر کے ذریعے ٹیلی کام تک رسائی، استطاعت اور دستیابی میں اضافہ کرنا ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں