سویڈن: ترکیہ مخالف مظاہروں میں قرآن پاک کی بے حرمتی، عالم اسلام کا اظہارِ مذمت

اپ ڈیٹ 22 جنوری 2023
<p>— فائل فوٹو: اے ایف پی</p>

— فائل فوٹو: اے ایف پی

سویڈن کی جانب سے اسلام مخالف مظاہروں کے اجازت نامے کے بعد ترکیہ کے سفارت خانے کے باہر اسلام پر شدید تنقید اور قرآن پاک کو نذر آتش اور بے حرمتی کرنے پر پاکستان اور ترکیہ نے شدید مذمت کی۔

ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسلام مخالف نعرے لگانے اور قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے پر ترکیہ نے احتجاجاً سویڈن کے وزیر دفاع کا طے شدہ دورہ منسوخ کردیا ہے۔

ڈنمارک اور سویڈن سے تعلق رکھنے والے انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان راسمس پلوڈان کو سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں قائم ترکیہ کے سفارت خانے کے باہر احتجاجی مظاہروں کا اجازت نامہ جاری کرنے پر ترکیہ کے حکام نے شدید اظہار مذمت کیا۔

انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان راسمس پلوڈان نے اسلام پر شدید تنقید اور گالم گلوچ کرنے کے بعد قرآن پاک کو نذر آتش کیا، انہوں نے مظاہرین سے کہا کہ اگر آپ نہیں سمجھتے کہ آزادی اظہار رائے ہونا چاہیے تو آپ کو کہیں اور رہنا چاہیے۔

راسمس پلوڈان کی جانب سے قرآن پاک کی بے حرمتی اور اسلام مخالت نعرے لگانے پر ترکیہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سویڈش ہم منصب پال جونسن کا 27 جنوری کو طے شدہ دورہ اب نہیں ہوگا۔

ترکیہ کے وزیر دفاع ہولوسی آکار نے کہا کہ اس ملاقات کی اب کوئی اہمیت نہیں اس لیے ہم نے اس دورے کو منسوخ کردیا۔

مشترکہ فیصلہ

سویڈش ہم منصب پال جانسن کا کہنا تھا کہ یوکرین کو فوجی تعاون فراہم کرنے کے لیے اتحادی ممالک کی جانب سے جرمنی میں جاری اجلاس میں ترکیہ کے وزیر دفاع کے ساتھ مل کر دورہ منسوخ کرنے کا مشترکہ فیصلہ کیا۔

پال جونسن نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ سویڈن کے لیے ترکیہ کے ساتھ تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور مستقبل میں مشترکہ سیکیورٹی اور دفاعی مسائل کے حوالے سے بات چیت کو جاری رکھنے کی امید رکھتے ہیں۔

سویڈن کے وزیر خارجہ توبیان بل اسٹروم نے بھی راسمس پلوڈان کے احتجاج پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا پر مبنی اشتعال انگیزی خوفناک ہے، سویڈن میں اظہار رائے کی آزادی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ سویڈن کی حکومت یا میں ذاتی طور پر اس اظہار کی حمایت کروں’۔

راسمس پلوڈان کے احتجاج کی سیکیورٹی میں پولیس کی بھاری تعداد شامل تھی جس میں صحافیوں کی بڑی تعداد سمیت تقریباً 100 کے قریب لوگوں نے اسٹاک ہوم میں ترکیہ کے سفارت خانے کے باہر موجود تھے۔

احتجاج ختم کروانے میں ناکامی پر ترکیہ کے وزیر خارجہ نے سویڈش حکام پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ آزادی اظہار رائے نہیں بلکہ نسل پرستی ہے۔

ترکیہ کے سفارت خانے کی دوسری جانب ترکیہ کے حمایتیوں نے بھی مظاہرہ کیا جبکہ سویڈن کی روجاوا کمیٹی اور دیگر کی جانب سے کردوں کی حمایت میں ریلی بھی بلائی گئی جس میں سیکڑوں افراد موجود تھے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کا بیان

پاکستان کے دفتر خارجہ نے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے گھناؤنے فعل کی شدید مذمت کی۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسلاموفوبیا کو فروغ دینے کی کارروائی سے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی، مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا اظہار رائے کی آزادی میں نہیں آتا۔

بیان میں کہا گیا کہ انسانی حقوق کے علمبردار نفرت انگیز عمل کی روک تھام کی ذمہ داری نبھائیں اور تشدد پر نہ اکسانے کی ذمہ داری نبھائیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں