فواد چوہدری کی گرفتاری سیاسی نہیں، فیصلہ کرنا ہوگا کہاں لائن کھینچنی ہے، مریم اورنگزیب

اپ ڈیٹ 25 جنوری 2023
<p>وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر رہی تھیں — فوٹو: ڈان نیوز</p>

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر رہی تھیں — فوٹو: ڈان نیوز

وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کی گرفتاری کو سیاسی رنگ دینے اور آزادی اظہار رائے پر پابندی سے جوڑا جارہا ہے لیکن یہ کوئی سیاسی گرفتاری نہیں اور آج عوام، میڈیا اور اداروں نے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کہاں لائن کھینچنی ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں اس پریس کانفرنس میں پاکستان کے عوام، میڈیا اور ان تمام حلقوں سے مخاطب ہوں جو اس گرفتاری کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس کو آزادی اظہار رائے پر پابندی سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے فواد چوہدری کے خلاف درج ایف آئی آر کی نقل دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ وہ ایف آئی آر ہے جو الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری کے خلاف درج کرائی اور سیکریٹری الیکشن کمیشن اس ایف آئی آر کے مدعی ہیں جنہوں نے یہ تھانہ کوہسار میں درج کرائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی گرفتاری نہیں ہے، ہم 9 ماہ سے حکومت میں ہیں اور نو ماہ سے عمران خان، ان کے سارے ترجمان، فواد چوہدری اور دیگر نے جو زبان حکومت اور پارٹی قیادت سمیت ہم سب کے بارے میں استعمال کی ہے تو اگر سیاسی گرفتاری کرنی ہوتی تو عمران خان کی طرح اپوزیشن کی فرنٹ کی دو بینچوں کے تمام رہنما اس وقت جیلوں میں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ فاشزم، اختیارات کے ناجائز استعمال، ریاست کی طاقت کے استعمال کا عملی نمونہ عمران خان نے 2018 سے 2022 تک پیش کیا، لوگوں کی بیٹیوں کو ہسپتالوں میں گھسیٹا گیا، باپ کے سامنے بیٹی کو گرفتار کیا گیا، نواز شریف کی اقامے پر گرفتاری، نااہلی اور پارٹی کی صدارت سے ہٹانا سیاسی انتقام تھا لیکن انہوں نے اداروں اور ان کے سربراہان کے بچوں کو گالی یا دھمکی نہیں دی، وہ اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر روز نیب میں پیشیاں بھگتاتے تھے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ اسی طرح شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا، ان کی بیٹی کے گھر کی چار دیواری پھلانگ کر نیب کے اراکین اور پنجاب پولیس نے دھاوا بولا، ہم نے کیا اداروں کو گالی دی، کیا ان کے بچوں کو دھمکیاں دیں، شاہد خاقان عباسی کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا گیا، وہ تھا سیاسی انتقام۔

انہوں نے کہا کہ نو ماہ سے ہم ان کی زبانیں اور باتیں سن رہے ہیں، ہم صبر رکھتے ہیں اور یہ جانتے ہوئے بھی تنقید سننا جانتے ہیں کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں، آج عوام، میڈیا اور اداروں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کہاں لائن کھینچنی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی رہنما نے مزید کہا کہ افواج پاکستان کے شہدا کے خلاف آفیشل پارٹی اکاؤنٹ سے مہم چلائی گئی، میڈیا چینلز کو استعمال کر کے افواج پاکستان اور اس کے افسران کو غداری اور بغاوت پر اکسایا گیا، کوئی سیاستدان کسی سیاستدان کی گرفتاری کے خلاف خوش نہیں ہوتا، یہ جمہوریت کی روح کے خلاف ہے لیکن یہ سیاسی گرفتاری نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایف آئی آر کسی سیاسی جماعت نہیں بلکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئین کے مطابق کٹائی ہے اور سیکریٹری الیکشن کمیشن اس کا مدعی ہے، اس پر کسی سیاسی جماعت کا نام نہیں ہے، آپ کو فیصلہ کرنا ہوگا، یہ لائن کھینچنی ہوگی، آپ فارن فنڈنگ میں پکڑے گئے لیکن اس پر آپ الیکشن کمیشن کو گالی دیں اور کہیں کہ تم نااہل کرو تو میں تمہارے بچوں کو دیکھ لوں گا، تم ہمارے لیڈر کو نااہل کرو تو تمہارا اور تمہارے بچوں کا باہر نکلنا بند ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آج یہ لائن کھینچنی ہوگی کہ اگر آپ نے کسی ایک جماعت کو استثنیٰ دیا تو آپ کو 22 کروڑ عوام کو اجازت دینی ہوگی کہ اگر ان عدالتوں سے ان کے خلاف فیصلے آتے ہیں تو ان کو بھی گالیاں دینے اور خاندانوں کو دھمکانے کا حق ہو، ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا، یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان گالی دے، دھمکی دے، گلے سے گھسیٹنے اور پھانسی کی باتیں کرے، اداروں کے سربراہان کو نوکر کہے اور آپ ان کو استثنیٰ دے دیں، تو آج عدالتوں اور اداروں کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا، عوام اور میڈیا کو بھی فیصلہ کرنا ہوگا۔

اس موقع پر مریم اورنگزیب نے نہال ہاشمی کی گرفتاری کے بعد عمران خان کی جانب سے کی گئی ٹوئٹس سناتے ہوئے کہا کہ نہال ہاشمی نے توہین کی تھی تو پارٹی اور پوری قیادت نے اس کی مذمت کی تھی اور ان کو سینیٹر کی کرسی سے ہٹایا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج ہم سب کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ اگر آج ہم نے یہ استثنیٰ عمران خان اور ان کے ترجمانوں کو دیا تو پھر یہ استثنیٰ 22 کروڑ عوام کو دینا پڑے گا، یہ ہر جماعت اور اس کے ترجمانوں کو دینی پڑے گی کہ اس کے دل میں جو آئے وہ منہ سے بول سکتا ہے، وہ قوانین ختم کرنے پڑیں گے جو اس وقت ملک کے اندر موجود ہیں، یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ ایک شخص کو اجازت دیں اور دوسری طرف دوسروں کو بات نہ کرنے دیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے سیاسی بدلہ لینا ہوتا تو ساری کی ساری تحریک انصاف جیل کے پیچھے ہوتی کیونکہ جو ہمارے ساتھ ہوا ہے پاکستان کی تاریخ میں کسی جماعت کے ساتھ نہیں ہوا لیکن ہم پاکستان کی وہ واحد جماعت ہیں جس نے 40 سال کا جواب دیا ہے، تو چار سال کا جواب دے دے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ آپ گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں، ابھی پانچ بجے بیٹھ کر آپ پھر وہی گفتگو کریں گے، پھر اداروں کے خلاف باتیں کریں گے، بھئی آپ معذرت کرلیں، عدالت میں پیش ہو جائیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ قانون کی خلاف ورزی کریں، لوگوں کے بچوں، اداروں کے سربراہان کے اہلخانہ کو اپنی سیاست میں گھسیٹ لیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے سیاسی گرفتاری کرنی ہوتی آج اس حکومت کو نو سے دس ماہ ہو گئے ہیں، کیا ہم گرفتار نہیں کر سکتے تھے؟ عمران خان سمیت سب جیلوں کے پیچھے ہوتے لیکن اس وقت مسائل عوام کے ہیں، چار سال کی معاشی بدحالی اور تباہی اس وقت ترجیح ہے اور تمام مقدمات عدالتوں کے حوالے کیے گئے ہیں لیکن وج ادارہ، جو عدالت بلاتی ہے یہ اس کو گالی دیتے ہیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ ادارے دیکھ لیں کہ اگر انہوں نے استثنیٰ دینا ہے تو مریم اورنگزیب کو بھی چاہیے کیونکہ میرا لیڈر اس ملک کا تین مرتبہ کا منتخب وزیر اعظم تھا جس کو اقامے پر نااہل کیا گیا تھا، صرف مریم اورنگزیب نہیں 22 کروڑ عوام کو ہونی چاہیے، یہ کوئی آزادی اظہار رائے نہیں ہے اور اگر یہ ہونا چاہیے تو سب کے لیے ہونا اور قوانین کو ختم کر دینا چاہیے۔

فواد چوہدری کی گرفتاری

قبل ازیں پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کی جانی والی ٹوئٹ میں کہا گیا تھا کہ ’فواد چوہدری کو درجنوں پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی اور نامعلوم گاڑیوں کے حصار میں کینٹ کچہری کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے‘۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ ’فواد چوہدری نے آئینی اداروں کے خلاف شرانگیزی پیدا کرنے اور لوگوں کے جذبات مشتعل کرنے کی کوشش کی ہے، مقدمے پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے‘۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کی درخواست پر تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، فواد چوہدری نے چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کو ان کے فرائض منصبی سے روکنے کے لیے ڈرایا دھمکایا۔

واضح رہے کہ گزشتہ شب چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے مبینہ حکومتی منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے پی ٹی آئی کارکنان عمران خان کی زمان پارک رہائش گاہ کے باہر جمع ہوئے تھے جس کے چند گھنٹوں بعد پی ٹی آئی کی جانب سے فواد چوہدری کی گرفتاری کا دعویٰ سامنے آیا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں