جنگ کی وجہ سے روس بھارت کو اسلحے کی بروقت فراہمی میں ناکام

اپ ڈیٹ 24 مارچ 2023
بھارت اور روس کے درمیان 2018 میں 5.4 ارب ڈالر مالیت کے اسلحے کا معاہدہ ہوا تھا—فائل/فوٹو: رائٹرز
بھارت اور روس کے درمیان 2018 میں 5.4 ارب ڈالر مالیت کے اسلحے کا معاہدہ ہوا تھا—فائل/فوٹو: رائٹرز

بھارتی فضائیہ (آئی اے ایف) نے کہا ہے کہ یوکرین میں جنگ کی وجہ سے روس وعدے کے مطابق اہم دفاعی ہتھیار بروقت فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ڈان اخبار نے غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کا حوالے سے رپورٹ میں بتایا کہ نئی دہلی کو پریشانی ہے کہ فروری 2022 میں روس کی یوکرین میں مداخلت سے بھارت کے دفاعی ہتھیاروں پر بری طرح اثر پڑ سکتا ہے۔

بھارتی فضائیہ نے اس سے قبل بیان میں روس سے ہتھیاروں کی فراہمی میں کمی کی تصدیق کی تھی۔

پارلیمانی کمیٹی کو بھارتی فضائیہ نے یہ بیان دیا تھا جو بعد ان کی ویب سائٹ پر بھی شائع ہوئی تاہم فضائیہ کے نمائندے نے کمیٹی کو بتایا کہ روس نے منصوبہ بنایا تھاکہ رواں برس اہم فراہمی کرنا تھی لیکن وہ اب نہیں ہوگی۔

نئی دہلی میں روس کے سفارت خانے کے ترجمان نے بتایا کہ ہمارے پاس ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں جس کے تحت ہم اس بیان کی تصدیق کرپائیں۔

روس کے سرکاری برآمد کنندہ روسوبورون کی جانب سے بھی اس پر فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا جبکہ بیان میں ہتھیاروں کی تفصیل بھی نہیں بتائی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق بھارت نے 2018 میں روس سے 5.4 ارب ڈالر مالیت کے ایس-400 ٹریومف ایئر ڈیفنس سسٹم یونٹس کی فراہمی کے لیے معاہدہ کیا تھا، جن میں سے 3 سسٹم بھارت کو موصول ہوچکے ہیں اور مزید 2 تاحال نہیں ملے۔

بھارتی فضائیہ اپنے دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے روس کے ایس یو-30 ایم کے آئی اور مگ-29 جنگی طیاروں پر انحصار کرتا ہے۔

بھارت دہائیوں سے روس کے اسلحے کا خریدار ہے اور جب روس اس سے قبل سوویت یونین تھا تو اس وقت بھی بھارت اسلحے کا سب سے بڑا خریدار تھا اور اپنی اہم ضروریات روس سے پوری کرتا تھا۔

اسٹاک ہالم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے تازہ اعداد وشمار کے مطابق بھارت کے 18.3 ارب ڈالر کے اسلحے کے مجموعی اخراجات میں سے 8.5 ارب ڈالر روس کو جاتے ہیں۔

بھارت نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران روس سے اسلحے کی خریداری میں کمی کی ہے اور اپنا رخ مغربی ممالک فرانس، امریکا اور اسرائیل کی طرف کردیا ہے۔

علاوہ ازیں بھارت اپنے عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر مقامی سطح پر بھی اسلحے کی پیداوار میں اضافہ کر رہا تھا اور بھارتی کمپنیوں نے اس حوالے سے بڑی پیش رفت کی ہے۔

بھارتی فضائیہ نے پارلیمانی کمیٹی کو مزید بتایا کہ روس-یوکرین جنگ سے اسلحے کی فراہمی میں بڑا فرق پڑا ہے اور ادارے نے 31 مارچ 2024 کو ختم ہونے والے مالی سال تک جدت کے تحت اپنے مجوزہ اخراجات میں کمی لائے گا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں