پاکستان میں ’انتقامی سیاست‘ پر امریکی رکن کانگریس کا انٹونی بلنکن کو خط

12 اپريل 2023
امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن بریڈ شرمین—تصویر: ٹوئٹر
امریکی ایوانِ نمائندگان کے رکن بریڈ شرمین—تصویر: ٹوئٹر

امریکی رکن کانگریس بریڈ شرمین نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کو خط لکھ کر پاکستان میں ’جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی‘ کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

11 اپریل کو لکھے گئے خط میں بریڈ شرمین نے انٹونی بلنکن سے کہا کہ وہ ’امریکا کی پاکستان کے لیے پالیسی پر زیادہ سے زیادہ انسانی حقوق کے عزم کے لیے رہنمائی کرے اور تمام امریکی سفارتی ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے پاکستانی حکام پر زور دے کہ وہ مبینہ زیادتیوں کی تحقیقات کریں اور جو بھی ذمہ دار ہو اسے جوابدہ ٹھہرائیں‘۔

٫

انہوں نے مزید کہا کہ ’میں حکام پر زور دیتا ہوں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ آگے بڑھنے والی سیاسی شخصیات یا شہری جو محض مظاہرہ کرنا چاہتے ہوں انہیں جمہوریت مخالف نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑے‘۔

انہوں نے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے کئی مبینہ کیسز پر روشنی ڈالی جن میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے خلاف مقدمات اور میڈیا پر ان کی تقاریر پر پابندی، مظاہرین کی حراست، پی ٹی آئی رہنما شہباز گل اور صحافی جمیل فاروقی پر مبینہ تشدد اور پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈا پور کی حالیہ گرفتاری شامل ہے۔

خط میں پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات میں تاخیر کا بھی ذکر کیا گیا اور اسے ’جمہوری عمل کو ختم کرنے کی ایک اور علامت‘ قرار دیا، ساتھ ہی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے اس بیان کہ ’یا تو وہ (عمران) سیاسی میدان سے ختم ہو جائیں گے یا ہم (مسلم لیگ ن)، کا بھی ذکر کیا گیا۔

خط میں کہا گیا کہ امریکا پاکستان کے اندرونی حکومتی معاملات میں خود کو شامل نہیں کرتا، میں اس کے آئین اور اس کے جمہوری عمل کا احترام کرتا ہوں، لیکن جب پاکستانی عوام کے انسانی حقوق خطرے میں ہوں تو ہمیں اپنی آواز اٹھانے سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔

بریڈ شرمین نے ہیومن رائٹس واچ کے اس بیان کو یاد کیا جس میں ’شہباز گل کی شکایات کی فوری تحقیقات‘ اور ان کے خلاف بغاوت کے الزامات پر سوال اٹھانے کا کہا گیا تھا۔

عمران خان کی تقاریر نشر کرنے پر پابندی کے حوالے سے انہوں نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اس بیان کو بھی یاد کیا جس میں اس اقدام کو ’تنقیدی آوازوں کو نشانہ بنانے کا ایک پریشان کن مظاہرہ‘ کہا گیا تھا۔

انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر بریڈ شرمین نے حکومت کی جانب سے فل کورٹ بینچ کے مطالبے کا ذکر کیا اور کہا کہ ’اسکالرز کا کہنا ہے کہ پاکستانی قانون میں اس طرح بینچ نہیں بنایا جاتا‘، انہوں نے مزید کہا کہ ’اگر محکمہ خارجہ کے غیر ملکی ماہرین قانون اس نتیجے کی تصدیق کر سکیں تو یہ مددگار ہوگا‘۔

خط میں متعدد دیگر ’حکومت یا اس کے ایجنٹوں کے طرز عمل کے بارے میں خدشات‘ بھی تحریر کیے گئے ہیں جیسے ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، سیاسی قیدی، انٹرنیٹ کی آزادی پر سنگین پابندیاں، پرامن اجتماع کی آزادی میں مداخلت، مذہبی آزادی پر سخت پابندیاں، دھمکیاں۔ دوسروں اور ہم جنس پرستوں کو تشدد کا نشانہ بنانا وغیرہ۔

پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے ایک ٹوئٹ میں بریڈ شرمین کے خط کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’امریکی کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے ایک سینئر رکن کا انٹونی بلنکن کو خط لکھنا ایک فاشسٹ حکومت کی جانب سے پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کی بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتا ہے‘۔

حال ہی میں کانگریس کی خاتون رکن ایلیسا سلوٹکن نے کہا تھا کہ وہ کانگریس کے 100 اراکین کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں تاکہ انٹونی بلنکن کو خط لکھ کر پاکستان میں ’جمہوری اقدار کو آگے بڑھانے‘ کے لیے کہیں۔

پی ٹی آئی کا امریکی لابنگ فرمز کی خدمات حاصل کرنا

خیال رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے امریکا میں اپنے تاثر کو بہتر بنانے اور بین الاقوامی برادری کو پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن سے آگاہ کرنے کی کوششوں کے بعد متعدد امریکی نمائندے اور رہنما پی ٹی آئی کی شکایات کی بازگشت کرتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

برطانیہ اور یورپ میں پی ٹی آئی کے رہنما بھی احتجاجی مظاہرے کر کے، ارکان پارلیمنٹ کو خط لکھ کر اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بات کر کے تحریک انصاف کے خلاف حکومتی اقدامات کے بارے میں آگاہ کر کے حرکت میں آگئے۔

عمران خان کے معزولی سے متعلق الزامات سے پی ٹی آئی کو امریکا مخالف پارٹی کے طور پر پیش کرنے کے بعد اگست 2022 میں پی ٹی آئی امریکا چیپٹر نے امریکا میں اپنا امیج بہتر کرنے کے لیے ایک پبلک ریلیشن فرم کی خدمات حاصل کیں۔

معاہدے سے پتاچلتا ہے کہ پارٹی کی جانب سے اس کمپنی کو 25 سے 30 ہزار ڈالر ماہانہ ادا کیے جانے تھے۔

اسی طرح گزشتہ ماہ یہ انکشاف ہوا تھا کہ پی ٹی آئی نے مارچ 2023 میں امریکا میں ایک اور لابنگ فرم کی خدمات حاصل کی تھیں تاکہ امریکیوں کو عمران کی جان کو لاحق خطرے سے آگاہ کیا جا سکے۔

تبصرے (0) بند ہیں