وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے سیاسی جماعتوں کی جانب اعتراضات سامنے آنے کے بعد بڑے شہروں میں کم گنتی کے معاملے کو دیکھنے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کردی۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ترقی احسن اقبال نے ملک بھر میں جاری مردم شماری کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے ایک اعلیٰ اجلاس کی صدارت بذریعہ ویڈیو لنک مدینہ منورہ سے کی۔

اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن سید امین الحق، چیف مردم شماریات ڈاکٹر نعیم الظفر، سیکریٹری پلاننگ کمیشن سید ظفر علی شاہ، چیئرمین نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نادرا، منیجنگ ڈائریکٹر این ٹی سی، سپارکو اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ادارہ شماریات کو ہدایت کی کہ وہ سیکریٹری پلاننگ سید ظفر علی شاہ، صوبائی چیف سیکریٹریز اور چیف مردم شماری کمشنر ڈاکٹر نعیم الظفر پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیں جو بڑے شہروں میں کم گنتی کے معاملے کو دیکھنے کے لیے ایک طریقہ کار وضع کرے تاکہ مردم شماری کے ایک شفاف اور قابل اعتماد فیلڈ آپریشن کو جلد مکمل کیا جائے۔

وفاقی وزیر نے سپارکو کو بھی ہدایت جاری کیں کہ وہ ملک بھر کی کچی آبادیوں کی شناخت کے لیے جیو ٹیگنگ کریں تاکہ ان کی بھی بروقت کاووٹنگ ہو سکیں۔

اجلاس میں چیف ادارہ شماریات نے حکام کو بریفنگ دیتے ہوئے ملک بھر میں اب تک فیلڈ آپریشن کے حوالے سے پیش رفت تک آگاہ کیا، ان کا کہنا تھا ڈیجیٹل مردم شماری کے تحت فیلڈ آپریشن اب تک کامیابی سے جاری ہے۔

سندھ کے وڈیرے یقینی بناتے ہیں کراچی کی آبادی اندرون سندھ سے کم رہے، حافظ نعیم الرحمٰن

واضح رہےکہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی کی جانب سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ اس سے قبل جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا تھا کہ سندھ کے وڈیرے ہر مردم شماری میں یقینی بناتے ہیں کہ کراچی کی آبادی اندرون سندھ سے کم رہے۔

ادارہ نور حق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھاکہ سندھ حکومت کی زیر نگرانی ہونے والی خانہ شماری میں کراچی کی پاپولیشن بیس لائن آدھی کردی گئی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے وڈیرے ہر مردم شماری میں یقینی بناتے ہیں کہ کراچی کی آبادی اندرون سندھ سے کم رہے کیونکہ آبادی پورا گننے سے کراچی کی نمائندگی بڑھے گی اور وزارت اعلیٰ وڈیروں کے ہاتھ سے نکل جائے گی۔

5 سالوں میں کراچی کی آبادی 20 لاکھ کم ہوگی، فواد چوہدری

حافظ نعیم الرحمٗن نے مردم شماری کے اعداد و شمار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جلد ادارہ شماریات کے دفتر کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا اور کہا کہ بین الاقوامی ادارہ نے بتایا کہ کراچی کی آبادی تین کروڑ ہے مگر اسے 2017 کی آبادی سے بھی دکھایا گیا ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے ایک پورٹل لانچ کرنے کا بھی اعلان کیا جس کے ذریعے شہری یہ جان سکتے ہیں کہ مردم شماری کے دوران ان کو شمار کیا گیا ہے یا نہیں۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا بھی کراچی اور حیدرآباد ڈویژن کی آبادی میں صرف 29 لاکھ کا فرق سامنے آنے پر مردم شماری کو غیرشفاف قرار دیتے ہوئے کہنا تھا کہ کراچی اور حیدرآباد کی آبادی کا فرق بتارہا ہے کہ مردم شماری کتنی شفاف ہے؟

فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں جب 95 فیصد مردم شماری ہوچکی ہے تو پتا چل رہا ہے کہ 5 سالوں میں کراچی کی آبادی 20 لاکھ کم ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی، حیدرآباد کی آبادی میں صرف 29 لاکھ کا فرق رہ گیا ہے، اس سے اندازہ لگا لیں 45 ارب سے ہونے والی یہ مردم شماری کتنی شفاف ہے، اس سے کراچی کی قومی اسمبلی کی 2 سیٹیں کم ہوجائیں گی، میں کراچی والوں کو کہتا ہوں ہم ان کے حقوق کے لیے لڑیں گے۔

اس سے قبل متحدہ قومی موومنٹ-پاکستان نے ڈیجیٹل مردم شماری پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو متنبہ کیا تھا کہ اگر تحفظات دور نہ کیے گئے تو شارع فیصل پر دھرنا دیا جائے گا، ایم کیو ایم نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ مردم شماری کے دوران کراچی کے 80 لاکھ افراد شمار ہونے سے رہ جائیں گے۔

تبصرے (0) بند ہیں