نامور اداکارہ اور پروڈیوسر نبیل ظفر کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے کیریئر میں کیے جانے والے تمام پروجیکٹس میں سے صرف 20 فیصد مزہ آیا ورنہ زیادہ تر پروجیکٹس پیسہ کمانے کے لیے کیے۔

نبیل ظفر نے سما ٹی وی کے پروگرام حد کردی میں شرکت کی جہاں انہوں نے پاکستانی ڈراموں کے حوالے سے بھی اپنی رائے دی۔

نبیل ظفر پاکستان کے نامور اداکار اور لکھاری ہیں، وہ کامیڈی شو ’بلبلے‘ میں اپنے کام کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔

بطور اداکار وہ پاکستانی ڈراموں پر بھی کڑی نظر رکھتے ہیں، حال ہی میں انہوں نے پاکستانی ڈراموں کے موجودہ ٹرینڈ سے متعلق ایک سوال پر کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اب ڈرامے کا کینوس چھوٹا ہو گیا ہے، تاہم ماضی کے مقابلے موجودہ ڈراموں میں بہت فرق آیا ہے۔

’ریٹنگ کے چکر میں ہرڈراما بنانے والا روتی ہوئی عورت کو دکھانا چاہتا ہے‘

نبیل ظفر کہتے ہیں کہ ریٹنگ کے لیے ہر آدمی کو لگتا ہے کہ عورت کو رلایا جائے، اس سے ریٹنگ آئے گی، عورت کو ہی ولن اور عورت کو ہی ہیرو بنا دیا جائے۔

اداکار نے کہا کہ اچھی بات ہے کہ ایسا کام بھی ہونا چاہیے لیکن اب سارے ڈرامے ایک ہی نوعیت کے ہوتے جارہے ہیں،ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اشفاق احمد کے ایسے ڈرامے کیے ہوئے ہیں جن کے ڈراموں کا دورانیہ 40 منٹ پر محیط تھا لیکن وہ مکمل طور پر تھیسس (thesis) تھے، جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ درس گاہوں میں پڑھائے جانے چاہیے جن کا تعلق ادب سے تھا۔

’اپنے کرئیر کے زیادہ تر پروجیکٹس گھر کا چولہا جلانے کیلئے کیے‘

نبیل ظفر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے بہت سے پروجیکٹس صرف اپنے گھر کو کا چولہا جلانے کے لیے کیے تھے۔

پروگرام کے دوران اداکار سے سوال ہوا کہ کبھی کوئی پروجیکٹ چھوڑنے پر افسوس ہوا؟ جس پر نبیل ظفر نے جواب دیا کہ نہیں! مجھے پروجیکٹس کرنے پر بہت بار افسوس ہوا ہے۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ میں نے بہت سے پروجیکٹس اپنے گھر کا چولہا جلانے اور پیسوں کے لیے کیے ہیں۔

نبیل ظفر کہتے ہیں کہ اپنے کیریئر میں کیے جانے والے تمام پروجیکٹس میں سے صرف 20 فیصد مزہ آیا ورنہ زیادہ تر پروجیکٹس پیسہ کمانے کے لیے کیے۔

تبصرے (0) بند ہیں