پی ڈی ایم کا ممکنہ احتجاج، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تاکید

اپ ڈیٹ 14 مئ 2023
سپریم کورٹ کے احاطے کی حفاظت کے لیے رینجرز کے نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی جا سکتی ہے — فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ
سپریم کورٹ کے احاطے کی حفاظت کے لیے رینجرز کے نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی جا سکتی ہے — فائل فوٹو: سپریم کورٹ ویب سائٹ

حکمران اتحاد، سابق وزیراعظم و چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی مبینہ حمایت کرنے پر عدلیہ کے خلاف کل دھرنا دینے کے لیے تیار ہے، تاہم سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے اقدام سے باز رہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے امکان کے پیش نظر سپریم کورٹ کے رجسٹرار عشرت علی نے گزشتہ روز اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کا اجلاس طلب کیا جس میں سیکیورٹی انتظامات پر بریفنگ دی گئی۔

احتجاج کا اعلان جمعہ کو سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمٰن نے کیا تھا جو پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) الائنس کے سربراہ بھی ہیں۔

پی ڈیم ایم کا کل پیر کو اسلام آباد کے کانسٹی ٹیوشن ایونیو میں سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر دھرنا دینے کا ارادہ ہے، جہاں کل سپریم کورٹ پنجاب میں انتخابات کی تاریخ کے فیصلے پر نظرثانی کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت شروع کرے گی۔

مسلم لیگ (ن) نے اعلان کیا ہے کہ پارٹی کی چیف آرگنائزر مریم نواز دھرنے میں شرکت کے لیے پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکی ہیں۔

ایک بیان میں صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن عابد ایس زبیری اور سیکریٹری مقتدیر اختر شبیر نے حکمران سیاسی جماعتوں سے درخواست کی ہے کہ وہ احتجاج نہ کریں اور نہ ہی ایسا اقدام کریں جس سے عدلیہ کی سالمیت اور امور کو نقصان پہنچے، انہوں نے سیاسی اسٹیک ہولڈرز پر بھی زور دیا کہ وہ ملک کی ترقی کے بہترین مفاد میں سیاسی درجہ حرارت کو کم کریں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے ساتھ کھڑی ہے، علاوہ ازیں بیان میں سیاسی جماعتوں کے اعلان کردہ احتجاج کے خلاف سپریم کورٹ کے تحفظ کے لیے غیر متزلزل حمایت اور یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔

بیان میں عدالت عظمیٰ کے تقدس اور سالمیت کو مجروح کرنے کی کسی بھی کوشش پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ تشدد کسی بھی شکل میں قانون کی خلاف ورزی ہوگا اور امن و امان کے لیے خطرہ ہوگا، خاص طور پر ایسی صورتحال میں کہ جب دفعہ 144 نافذ ہے اور آرٹیکل 245 کے تحت وفاقی دارالحکومت میں فوج کو سول انتظامیہ کی مدد کے لیے پہلے ہی طلب کیا جاچکا ہے۔

بیان میں زور دیا گیا کہ لہٰذا یہ وفاقی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور اس کے متعلقہ ذیلی اداروں پر فرض ہے کہ وہ سپریم کورٹ کی حفاظت اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات کریں۔

سیکیورٹی صورتحال پر بریفنگ

دریں اثنا سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو سیکیورٹی صورتحال بریفنگ دی گئی جس میں اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن بھی موجود تھے، تاہم باخبر ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد کے اسپیشل برانچ کے اے آئی جی اور آپریشنز، سیکیورٹی اور ٹریفک کے ایس ایس پیز عدالت کے احاطے میں نہیں پہنچ سکے۔

اجلاس کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے اور فول پروف سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے مناسب انتظامات کو یقینی بنانے کی ہدایات بھی جاری کی گئیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر اسلام آباد پولیس کی جانب سے سیکیورٹی فراہم نہیں کی گئی تو سپریم کورٹ کے باہر مسلح افواج کی تعیناتی پر بھی غور کیا جا سکتا ہے، تاہم توقع ہے کہ سپریم کورٹ کے احاطے کی حفاظت کے لیے رینجرز کے نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی جا سکتی ہے۔

سیکیورٹی اس حد تک سخت کر دی گئی ہے کہ عدالت عظمیٰ کے احاطے میں روزانہ عدالتی کارروائی کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے علاوہ کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔

مریم نواز اسلام آباد پہنچ گئی

دریں اثنا رہنما مسلم لیگ (ن) مریم نواز پی ڈی ایم کے دھرنے میں شرکت کے لیے گزشتہ روز اسلام آباد پہنچ گئیں۔

وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے ایک بیان میں کہا کہ نواز شریف اور وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر مریم نواز دھرنے میں مسلم لیگ (ن) کی نمائندگی کریں گی۔

علاوہ ازیں وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ریڈ زون میں ماضی میں بھی احتجاج ہوتے رہے ہیں، پی ڈی ایم کے کل ہونے والے احتجاج کے لیے ضلعی انتظامیہ سے اجازت لی جائے گی۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حکمران اتحاد کی جانب سے عدلیہ پر ایک فرد کے سہولت کار کے طور پر کام کرنے کے بجائے اپنا اصل کردار ادا کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی خاطر دھرنا دیا جا رہا ہے۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں