پاک فوج نے کہا ہے کہ فوجی تنصیبات اور نجی املاک کے توڑ پھوڑ میں ملوث ملزمان کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ سمیت پاکستان کے متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی ہوگی۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی زیر صدارت کور کمانڈرز کانفرنس جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں منعقد ہوئی۔

بیان میں کہا گیا کہ کانفرنس کے شرکا نے شہدا کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے دہشت گردی کے ناسور کے خلاف لڑتے ہوئے اپنے مادر وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔

شرکا نے سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی ملک میں کامیاب انسداد دہشت گردی اور خفیہ اطلاع کی بنیاد پر کارروائیوں کو سراہا، خاص طور پر مسلم باغ حملے میں فوج کی جانب سے بھرپور جواب دینے اور بہادر جوانوں کی جانب سے قربانی دینے پر خراج عقیدت پیش کی گئی۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فورم کو موجودہ اندرونی اور بیرونی سیکیورٹی صورت حال سے تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ کورکمانڈرز کانفرنس میں گزشتہ چند روز میں پیدا ہونے والی امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لیا، جو سیاسی مفادات کے حصول کے لیے پیدا کی گئی تھی۔

اس ضمن میں بتایا گیا کہ فورم کو آگاہ کیا گیا کہ شہدا کی تصاویر یادگاروں، تاریخی عمارات نذر آتش کرنے اور فوجی تنصیبات پر توڑ پھوڑ میں آگ لگانے کا ایک بھرپور منظم منصوبہ تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ اس کا مقصد ادارےکو بدنام کرنا اور جذباتی ردعمل کے لیے اکسانا تھا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اجلاس نے ان اقدامات کی شدید مذمت کی کہ یہ فوجی تنصیبات اور سرکاری و نجی املاک کے خلاف سیاسی پشت پناہی اور اشتعال انگیز واقعات تھے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق کور کمانڈرز کو افسران اور جوانوں میں ان افسوس ناک اور ناقابل قبول واقعات پر پائے جانے والے غصہ اور جذبات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ اب تک جمع کیے گئے ناقابل تردید شواہد کی بنیاد پر مسلح افواج ان حملوں کے منصوبہ سازوں، اکسانے والوں، مدد کرنے والوں اور جرم سرانجام دینے والوں سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور اس حوالے سے غلط بیانی مکمل طور پر فضول ہے۔

کورکمانڈرز نے کہا کہ فوجی تنصیبات اور نجی املاک کے توڑ پھوڑ میں ملوث ملزمان کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ سمیت پاکستان کے متعلقہ قوانین کے تحت قانونی کارروائی ہوگی۔

کانفرنس میں عزم کیا گیا کہ فوجی تنصیبات پر حملے کرنے والے مجرمان، توڑ پھوڑ کرنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف تحمل کا مزید کوئی مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ فورم نے بیرونی اسپانسرڈ اور اندرونی طور پر سہولت کاری سے فوجی قیادت کے خلاف بے نقاب ہونے والا سوچا سمجھا پروپیگنڈا وار فیئر پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا اس کا مقصد مسلح افواج اور پاکستان کے عوام کے درمیان اور مسلح افواج کے افسران اور جوانوں کے اندر دوریاں پیدا کرنا ہے۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اس طرح کے عناصر کا مذموم پروپیگنڈے کو پاکستان کے عوام کے تعاون سے شکست دی جائے گی کیونکہ پاکستان کے عوام ہر مشکل وقت میں ہمیشہ مسلح افواج کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔

فورم نے سوشل میڈیا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سزا دینے کے لیے متعلقہ قوانین پر سختی عمل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ اجلاس میں موجودہ سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کے لیے ترجیحی بنیاد پر تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان اتفاق رائے کی ضرورت کو اجاگر کیا تاکہ عوام کا اعتماد، معاشی سرگرمیاں بحال ہوں اور جمہوری عمل مضبوط ہو۔

بیان کے مطابق کورکمانڈرز نے ضروری اتفاق رائے تک پہنچنے کے لیے ہونے والی تمام کوششوں میں تعاون کا بھی اعادہ کیا۔

آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فورم نے عہد کیا کہ پاکستان کے عوام کے تعاون کے ساتھ پاک فوج پاکستان کے دشمنوں کے تمام شرپسند منصوبوں کو شکست دے گی۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں