وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف 9 مئی کو پیش آنے والے واقعات کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد پر کارروائی فوجی عدالت میں ہوگی۔

ڈان نیوز کے پروگرام ’لائیو ود عادل شاہزیب‘ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے عمران خان پر الزام عائد کیا کہ انہوں اپنی گرفتاری سے قبل ہی ذاتی طور پر فوجی تنصیبات پر حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ان دعووں کو ثابت کرنے کے لیے ثبوت بھی موجود ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آرہی ہے کہ یہ دلیل کیسے بنتی ہے کہ وہ جیل میں تھا جبکہ سارا کچھ کرنے والا وہ تھا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’انہوں نے جو نعرہ لگایا تھا کہ عمران خان ہماری ریڈ لائن ہے، اس کے اوپر انہوں نے جو پیش بندی، منصوبہ بندی اور تیاری تھی وہ ساری عمران خان کے حکم پر تھی اور اس نے یہ سارا کروایا‘۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ ’اس سارے فساد کا تخلیق کار وہ خود ہے، اگر وہ ملزم نہیں ہے تو اور کون ہے، اس کے ثبوت موجود ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ دستاویزی شکل میں بھی ہے، ٹوئٹس پر بھی ہے، پیغام دیتے رہے ہیں ہر جگہ سے یہ چیز ملتی ہے، یہ سارا کچھ وہ طے کر گئے تھے کہ کس نے کیا کرنا ہے اور کہاں کرنا ہے، اسٹریٹجی کیا ہوگی، کس کی کس جگہ ڈیوٹی ہوگی، یہ سارا کچھ پہلے سے طے شدہ تھا‘۔

رانا ثنااللہ سے سوال کیا گیا کہ کیا عمران خان کے خلاف کارروائی فوجی عدالت میں ہوگی تو انہوں نے جواب دیا ’جی بالکل، کیوں نہیں چلے گا، جو انہوں نے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا پروگرام بنایا اور اس پر عمل کروایا تو یہ میری سمجھ کے مطابق یہ بالکل فوجی عدالت کا کیس ہے‘۔

رانا ثنااللہ سے قبل وزیر دفاع خواجہ آصف نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی کا فیصلہ تاحال نہیں ہوا لیکن یہ خارج از امکان نہیں ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل عمر ایوب خان نے رانا ثنااللہ کے بیان پر ردعمل دیتےہوئے کہا کہ وزیرداخلہ رانا ثنااللہ کے حالیہ اقدامات اور بیانات سے ان کی وزارت جاری رکھنے کی صلاحیت پر سنجیدہ سوالات پیدا ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رات گئے پریس کانفرنس کرنے سے لے کر عمران خان کا فوجی عدالت میں ٹرائل کے بیانات سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ بطور وزیر فرائض کی ادائیگی کے لیے فٹ نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ 9 مئی کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس پر گرفتاری کے بعد احتجاج کے دوران ہونے والے جلاؤ گھیراؤ میں 8 افراد جاں بحق اور 290 سے زائد زخمی ہوگئے تھے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے جھڑپوں پر ملک بھر سے ایک ہزار 900 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کا گھر (جناح ہاؤس اور راولپنڈی میں جی ایچ کیو کا گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔

بعد ازاں حکومت اور فوج کی جانب سے مذکورہ واقعات پر سخت ردعمل آیا اور ملزمان کے خلاف ملک بھر میں کریک ڈاؤن کیا تھا اور مقدمات بنائے گئے۔

9 مئی کے واقعات میں ملوث ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے فیصلہ کیا گیا کہ جو ملزمان فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث ہیں انہیں فوجی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

33 ملزمان کو فوجی حکام کے حوالے کیا گیا، وزیرداخلہ

بعد ازاں 26 مئی کو وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ 9 مئی سے متعلق صرف 6 مقدمات میں 33 ملزمان کو فوجی حکام کے حوالے کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ 9 مئی کو ہوئی ہنگامہ آرائی پر ملک بھر میں 449 مقدمات درج ہوئے، جس میں 88 انسداد دہشت گردی ایکٹ جبکہ 411 دیگر قوانین کے تحت درج کے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر سے انسداد دہشت گردی کے مقدمات میں 3 ہزار 946 افراد کو حراست میں لیا گیا جس میں پنجاب میں 2 ہزار 588، خیبرپختونخوا میں1100 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ دیگر مقدمات میں 5 ہزار 536 افراد کو گرفتار کیا گیا جن میں سے 80 فیصد ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں۔

رانا ثنااللہ نے کہا تھا کہ 449 ایف آئی آرز میں سے صرف 6 کو پراسس کیا جارہا ہے جس میں 2 پنجاب جبکہ 4 خیبرپختونخوا میں ہیں جن کا ممکنہ ٹرائل فوجی عدالت میں ہوسکتا ہے، لیکن فضا ایسی بنائی جارہی ہے جیسا سب کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلیں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ملزمان کی مجموعی تعداد میں سے پنجاب میں صرف 19 کو اور خیبرپختونخوا میں 14 یعنی مجموعی طور پر 33 کو فوجی حکام کے حوالے کیا گیا باقی کسی جگہ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا یہ معاملہ وفاقی حکومت کی صوابدید، وزیراعظم یا آرمی چیف کی مرضی نہیں ہے بلکہ یہ ریاستی ذمہ داری ہے، دفاع پاکستان کی ذمہ داری ہےکہ اگر کسی نے دفاع سے متعلق کسی مقام میں داخلہ کیا وہاں سے کوئی چیز اٹھائی یا جلائی تو اس کا ٹرائل اور کسی قانون کے تحت نہیں ہوسکتا صرف ملٹری اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے ہی تحت ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا تھا کہ یہ پابندی ہے، کوئی خواہش نہیں اور اس کا سسٹم موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملٹری ایکٹ گزشتہ 71 سال سے نافذ ہے، اسے بار بار مختلف عدالتوں میں چیلنج کیا گیا لیکن اسے کالعدم قرار نہیں دیا گیا کیوں کہ اس کی ضرورت ہے، اس کے بغیر آپ ان علاقوں کا دفاع نہیں کرسکے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں