سیلاب زدہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر کیلئے منصوبہ بندی زیر غور ہے، گھبرانے کی ضرورت نہیں، اسحٰق ڈار

اپ ڈیٹ 19 جون 2023
اسحٰق ڈار نے کہا کہ ہم نے میثاق جمہوریت کی طرح میثاق معیشت کی بھی کوشش کی — فوٹو: ڈان نیوز
اسحٰق ڈار نے کہا کہ ہم نے میثاق جمہوریت کی طرح میثاق معیشت کی بھی کوشش کی — فوٹو: ڈان نیوز

وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر کے لیے منصوبہ بندی زیر غور ہے، اس پر گھبرانے کی ضرورت نہیں ، اس حوالے سے آج پھر اجلاس بلایا ہے، اس میں اس کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

قومی اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی خاتون رکن ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی جانب سے اٹھائے گئے نکات کا جواب دیتے ہوئے اسحٰق ڈار نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر اور بحالی کے لیے 16 ارب 30 کروڑ ڈالر کی ضرورت ہے جس میں سے 11 ارب ڈالر سندھ میں خرچ ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے میثاق جمہوریت کی طرح میثاق معیشت کی بھی کوشش کی تاکہ ایک روڈ میپ بن جائے جس پر عمل پیرا ہو کر ہم معاشی بہتری کے سفر پر گامزن ہوں۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ سندھ سمیت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کے مرحلے میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 80 ارب روپے تقسیم کیے گئے، جبکہ این ڈی ایم اے کے پاس ریلیف کا موجود سامان بھی تقسیم کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ صرف متاثرہ علاقوں میں گھروں اور انفرااسٹرکچر کی بحالی کے لیے 16 ارب 30 کروڑ ڈالر درکار ہوں گے، ڈونر کانفرنس میں مختلف ممالک اور اداروں کی جانب سے امداد کے اعلانات کیے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ جمعہ (16 جون) کو اس حوالے سے طویل اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر اعلیٰ سندھ اور پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے سینئر وزرا نے شرکت کی، وزیراعظم کی ہدایت پر میں بھی اس اجلاس میں موجود تھا جس میں کافی حد تک روڈ میپ تشکیل دے دیا گیا ہے، یہ چار سالہ وسط مدتی پروگرام ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر کے لیے منصوبہ بندی زیر غور ہے، اس پر گھبرانے کی ضرورت نہیں، اس حوالے سے آج پھر اجلاس بلایا ہے، اس میں اس کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

واضح رہے کہ وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی جانب سے یہ وضاحت وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے اس انتباہ کے ردعمل میں سامنے آئی ہے کہ پیپلز پارٹی پارٹی بجٹ کی منظوری کے لیے اُس وقت تک ووٹ نہیں دے سکتی جب تک بجٹ کے حوالے سے ان کے تحفظات دور نہیں کیے جاتے۔

بلاول بھٹو زرداری، جو مسلم لیگ (ن) کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بھی ہیں، نے ہفتے کو سوات میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم نے بجٹ میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے فنڈز رکھنے کا وعدہ کیا تھا لیکن ان کی ٹیم کے کچھ ارکان ان وعدوں کو پورا نہیں کر رہے۔

اُن کے اِس کے بیان کے ردعمل میں گزشتہ روز وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ اتحادی جماعتوں کی سیاسی جلسوں میں ایک دوسرے پر تنقید سے بےیقینی پیدا ہوگی، ہمیں آپس میں ایک دوسرے کے خلاف نیا محاذ کھولنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔

احسن اقبال نے کہا کہ ہمیں جلسوں میں باتیں کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے اور کابینہ کے اندر بیٹھ کر اپنا مؤقف رکھنا چاہیے تاکہ ہم ملک میں کسی سیاسی بےیقینی کو فروغ نہ دیں جو عمران خان کا شیوہ تھا۔

’ایسے معاشی مسائل 1998 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد بھی نہیں تھے‘

وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ اس وقت جو معاشی مسائل ہیں ایسے 1998 میں ایٹمی دھماکوں کے بعد بھی نہیں تھے جب آئی ایم ایف نے اپنا پروگرام بند کر دیا تھا، پاکستان پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئیں، اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کی بحالی میں 8 ماہ لگے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوششوں سے اب ٹھہراؤ آیا ہے، ہم نے ملک کو ترقی کی جانب لے کر جانا ہے۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ ماضی میں میثاق جمہوریت میں بھی انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا، اس کے دو نکات کے علاوہ تمام نکات پر عملدرآمد بھی کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے 2013 سے 2018 کے دوران ملک میں معاشی بہتری کے لیے میثاق معیشت کے لیے بھی کوششیں کیں تاکہ معاشی ترقی کے لیے ایک روڈ میپ بن جائے اور اس میں بغیر کسی تبدیلی کے ہر حکومت عمل کرے اور اس کی گواہ قوم ہو۔

خیال رہے کہ مالی سال 2024 کا بجٹ پیش کیے جانے کے بعد سے حکومت کو تقریباً تمام اتحادی جماعتوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

محض گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مسلم لیگ (ن) کو قومی اسمبلی میں حکومتی بینچوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا، شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے حال ہی میں ایک سیاسی کارکن کی گرفتاری اور تشدد پر احتجاجاً بجٹ پر بات کرنے سے انکار کر دیا۔

سکھر سے پیپلزپارٹی کے رکن قومی اسمبلی نعمان اسلام الدین شیخ نے وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کو معیشت کی بہتری میں ’ناکامی‘ پر تنقید کا نشانہ بنایا، حتیٰ کہ انہوں نے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل کو وزارت خزانہ کے عہدے کے لیے زیادہ موزوں قرار دے دیا۔

نہ صرف اتحادی جماعتیں بلکہ مسلم لیگ (ن) کی اپنی قیادت میں شامل چند اہم رہنما بھی پارٹی سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

اس پیش رفت کی تصدیق کے لیے شاہد خاقان عباسی سے رابطہ ممکن نہ ہوسکا، تاہم ذرائع نے بتایا کہ سابق وزیر اعظم اقتصادی رابطہ کمیٹی سے استعفیٰ دے چکے ہیں کیونکہ اقتصادی امور میں ان کی تجاویز کو حکومت نے قبول نہیں کیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں